نسبت کا فرق (Syed Israr Ahmed سیّد اسرار احمد)

Download PDF

 

ایک جگہ پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا، ہر آنے جانے والے شخص کی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔ معلوم ہوا یہ شاہراہ عام نہیں ہے اور سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ہر ہمہ شُمہ کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اتنے میں ایک مسافر بس کا وہاں سے گزر ہوا، پولیس اہلکاروں نے مسافر بس کو اشارے سے روک لیا، تمام مسافروں کو بس سے اتار کر ان کی تلاشی لی گئی۔ انہی مسافروں میں سے کچھ لوگ فوج سے تعلق رکھتے تھے ، وہ چونکہ سِول لباس میں تھے اس لیے پولیس اہلکار انہیں پہچان نہیں سکے ۔ جونہی ایک پولیس اہلکار نے ایک فوجی کی تلاشی لینا چاہی، مذکورہ فوجی نے اپنا آئی ڈی کارڈ دکھایا اور بتایا کہ اس کا تعلق آرمی سے ہے۔ کارڈ دیکھتے ہی پولیس والے کے آگے بڑھے ہاتھ پیچھے ہٹ گئے اور اس نے تلاشی لینے کے بجائے اس فوجی کو سلیوٹ کیا اور پوچھا کہ آپ کے ساتھ اس بس میں اور کتنے لوگ سوار ہیں؟

فوجی نے بتایا کہ اس کے ساتھ فلاں فلاں رینک کے تین فوجی مزید ہیں اور ایک چپراسی بھی ہے، جو ان کے ساتھ شریک سفر ہے۔ چنانچہ مذکورہ فوجی کی نشاندہی پہ چپراسی سمیت باقی کے چار افراد کو بھی عام مجمعے سے الگ کر لیا گیا اور بلا روک ٹوک جانے دیا گیا۔

ان پانچ اشخاص کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ سادہ طور پر ’نسبت کا فرق‘ ہے۔ مسافر تو اور بھی بہت سے تھے لیکن ان کے ساتھ ایسی کوئی نسبت نہیں تھی جس کے سبب انہیں کسی خصوصی پروٹوکول سے نوازا جاتا۔ اس لئے انہیں روک کر فوجی اہلکاروں کو جانے دیا گیا۔

نسبت ہی کے فرق کی وجہ سے ایک چپراسی لیول کے شخص کے ساتھ بھی صرف فوج سے تعلق ہونے کی بنیاد پر عام لوگوں سے الگ معاملہ کیا گیا۔

نسبت اور تعلق کے فرق کی مثالیں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں ۔ آپ گندم یا چاول کی بوری خریدتے ہیں اس میں اناج کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کنکر بھی تول میں شامل ہو کر اناج کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اپنی حقیقت میں گرچہ وہ ہیں تو کنکر لیکن چونکہ بوری کا حصہ ہیں، اس لیے اناج میں شامل سمجھے جاتے ہیں اور خاک ہونے کے باوجود اپنی’’ نسبت ‘‘ کی وجہ سے اناج ہی کے مول بِک جاتے ہیں۔ اسی طرح جب گیہوں کو پیسنے کا کام کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ گھن بھی پِس کر اصل اناج کا حصہ بن جاتا ہے ۔

دنیا میں پتھر تو بہت سے ہیں، پتھر تو وہ بھی ہے جو بیت اللہ میں نصب ہے اور پتھر وہ بھی ہے جو بیت الخلا میں نصب ہے لیکن بیت الخلا کے پتھر سے لوگ دامن بچا کے چلتے ہیں جبکہ بیت اللہ کے پتھرپر اپنی جبیں رکھ کر خُدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ حالانکہ دونوں اپنی خلقت کے اعتبار سے ’’ پتھر‘‘ ہی ہیں، لیکن ایک پتھر پر مراسمِ عبودیت ادا کیے جاتے ہیں اور دوسرے سے کراہیت کی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ بھی سادہ طور پر نسبت کا فرق ہے جس کے سبب ایک پتھر کو دوسرے کے مقابلے میں یہ مقامِ تقدس ملا۔

نسبتوں کی اس بھیڑ میں ایک نسبت ایسی بھی ہے جسے ہم ’دعوتِ دین کی نسبت‘ کہتے ہیں۔ لوگ تو اور بھی بہت سے ہیں، نسبتیں بھی سینکڑوں ہیں جن پر وہ نازاں ہوتے ہیں اور ان نسبتوں کے سبب وہ خصوصی پروٹوکول سے نوازے جاتے ہیں۔ لیکن ایک دن ایسا بھی آ نے والا ہے جب دنیا کی تمام نسبتیں بے وقعت و بے حیثیت گردانی جائیں گی، عظمت و بڑائی کے سارے مینار جس دن ڈھا دیے جائیں گے، لکھے ہوئے طومار لپیٹ کر رکھ دیے جائیں گے۔ دنیا میں عزت و بڑائی کے منصب پر بیٹھنے والے اس دن کیڑ ے مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر سمجھے جائیں گے، نفسا نفسی کے عالم میں جبکہ کوئی نسبت ، کوئی تعلق کسی کام نہیں آئے گا، خوف کے مارے کلیجے مُنہ کو آ رہے ہوں گے۔ ایسے عالم میں ایک مُنادی پکارے گا، ’’ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں صرف دین کی نسبت سے پیسے گئے اور تکلیف دیے گئے ، کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں دعوت دین کی وجہ سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا، ان پر عرصٔہ حیات تنگ کر دیا گیا، ان کی عزتیں اچھالی گئیں ، آج زمین کی بادشاہی انہی کے نام ہے ۔‘‘

ایک مجمع پھٹے گا، کہرام مچ جائے گا کہ یہ کون ہیں؟ لوگ محوِ حیرت ہوں گے، مجمعے میں سے ایک ایک کر کے لوگ الگ الگ ہونا شروع ہوں گے، معلوم ہو گا کہ اللہ کے دین کا کام کرنے والوں میں جہاں جلیل القدر انبیاء و پیغمبر مجمعے سے الگ کیے جا رہے ہونگے ، جہاں صحابہ و صدیقین کی قطاریں بن رہی ہوں گی، وہیں صرف اس اعلیٰ واونچے درجے کے کام (دعوت دین) سے نسبت ہونے کی وجہ سے ہم جیسے چپراسی بھی اپنی تمام تربے حیثیتی و بے وقعتی کے باوجود صرف نسبت کی وجہ سے اس مجمعے کا حصہ بن جائیں گے ۔

ہم خاک سے بھی زیادہ بے حیثیت و بے وقعت لوگ پیغمبروں کے کام سے معمولی نسبت ہونے کی وجہ سے کنکر ہو کر بھی اناج کے مول بِک جائیں گے ۔

یہ دنیا ایک دن………بلکہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے …….. دیر تک باقی رہنے والے کاموں میں لگے رہنے والوں کو نوید ہو کہ وقت قریب آ لگا ہے ، بہت قریب!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *