نواز شریف کی نا اہلی اور قومی دیوالیہ پن (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

آج کل لوگ نواز شریف صاحب کی عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں نا اہلی کے سیاسی پہلوؤں پر بے تکان بول اور لکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ خاکسارکوشش کر رہا ہے کہ اس موقع پر کچھ اخلاقی معاملات پر توجہ دلائی جا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ ہمارے سیاسی بحران سے زیادہ ہمارے اخلاقی بحران کو بے نقاب کرگیا ہے۔ قومیں سیاسی بحران سے نکل کر اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہیں ۔ اخلاقی بحران کا راستہ وہ نشیب ہے جس کے بعد کوئی عروج نہیں ہوتا۔

ہمارے اس اخلاقی بحران کی ایک مثال وہ آرٹیکل ہے جو نواز شریف صاحب کی نا اہلی کے بعد فیس بک، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع پر بہت زیادہ پھیلایا گیا۔ اس آرٹیکل کے مصنف سوشل میڈیا کے معروف مصنف اور دانشور جناب ظفر اللہ خان المعروف یدبیضا تھے۔ اس آرٹیکل میں نواز شریف صاحب کے بارے میں ہوشربا قسم کے انکشافات کر کے یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک ملک دشمن شخصیت ہیں۔

یدبیضا ایک کاٹ دار قلم کے مالک ہیں۔ اس مضمون میں ان کے قلم کی کاٹ اپنے کمال پر تھی۔ نواز شریف صاحب کے تمام مخالفین نے اس مضمون کو ایک عطیہ خداوندی سمجھ کر خوب پھیلایا۔ جب یہ مضمون پھیل گیا تو انھوں نے یہ وضاحت کر دی کہ یہ سنجیدہ اسلوب میں لکھا گیا ایک طنزیہ مضمون تھا جو تمام تر ان جھوٹی کہانیوں پر مشتمل ہے جو فیس بک پر عام پھیلی ہوئی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ان کی تردید کے باوجود یہ مضمون ان کے نام سے ابھی تک سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے ۔ بلکہ آخری دفعہ جو مضمون راقم کو ملا ہے ، اس کے آغاز میں یہ وضاحتی جملہ بھی درج ہے کہ مضمون نگاروزیراعظم نواز شریف کے سابقہ مشیر تھے۔ گویا یہ لنکا کسی اور نے نہیں بلکہ گھر کے بھیدی ہی نے ڈھائی ہے ۔ اس لیے اس کو بالکل یقینی جانیے ۔

یہ مضمون راقم کو ایسے ایسے نیک لوگوں نے بھی فارورڈ کیا کہ ان کی نیکی اور پارسائی کی اگر قسم کھانے کے لیے کہا جائے تو بلا جھجک یہ قسم کھائی جا سکتی ہے ۔ مگروہ اس کو پھیلاتے رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے باوجود کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بلا تصدیق آگے بڑھا دے ۔

اس حوالے سے ہمارے اخلاقی دیوالیے پن کی ایک دوسری مثال مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ہمدردوں، وابستگان حتیٰ کہ بعض لیڈروں کا بھی کا ایک دوسرے کے خلاف تہذیب و شائستگی سے گری ہوئی گفتگو کرنا ہے۔ بات یہیں تک رہتی توکچھ غنیمت تھا مگر فریقین نے سوشل میڈیا پرایک دوسرے کی خواتین کارکنوں، لیڈروں اور ان سے متعلق خواتین کے بارے میں جوشرمناک گفتگو کی اور الزامات لگائے وہ ناقابل تصور ہیں ۔ یہ گفتگواتنی پست اور گری ہوئی ہے کہ گھٹیا سے گھٹیا شخص بھی پبلک میں خواتین کے بارے میں ایسی گفتگو کرتے ہوئے کچھ سوچے گا۔

دونوں طرف سے کی گئی یہ گفتگو مجھے اس واقعے کی یاد دلا گئی کہ پاکستان کئی برس تک فحش سائٹ دیکھنے والے ممالک میں سرفہرست رہا ہے۔ چنانچہ اس دور میں ہمارے دشمنوں نے ہمیں ’’پورنستان‘‘ کا خطاب دے دیا تھا۔ سرفہرست رہنے کا یہ اعزاز جب چھنا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو کچھ حیا آ گئی تھی، بلکہ ایسی ویب سائٹ بڑے پیمانے پر بین کر دی گئی تھیں۔ اس لیے ان تک پہنچنا عام لوگوں کے لیے آسان نہیں رہا تھا۔ مگریہ گفتگو دیکھ کر خیال آیا کہ علانیہ ایسی بے ہودہ گفتگوکسی ’’پورنستان ‘‘کے باسی ہی کرسکتے ہیں ۔

اس وقت لوگ نواز شریف صاحب کی نا اہلی پر سیاسی بحران کے حوالے سے پریشان ہیں۔ وہ ملکی عدم استحکام کو تشویش کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اگر ہمیں رونا چاہیے تو اپنے اخلاقی دیوالیے پن پر رونا چاہیے۔ ماتم ہوناچاہیے تو اس جھوٹ پر ہونا چاہیے جو تمام تر تردید کے باوجود پھیلتا رہتا ہے۔ دکھی ہونا چاہیے تو اس بے حرمتی پر ہونا چاہیے جو سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں مخالف گروہ کی خواتین کی ہوتی ہے۔ مسئلہ سمجھنا چاہیے تو اس عدم برداشت کو سمجھنا چاہیے جس میں مذہبی اور سیاسی اختلاف کرنے والے تمام اخلاقی حدود کو پامال کرجاتے ہیں۔

مگر افسوس کہ ہمارے اہل دانش ہمیشہ سے سیاست کے اسیر رہے ہیں ۔ وہ لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ قومیں سیاسی معاملات کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں، اخلاقی پستی کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہیں۔ خدا کا غضب سیاسی غلطیوں پر نہیں بھڑکتا، اخلاقی جرائم پر بھڑکتا ہے۔ بدترین سیاسی لیڈر ایک سزا ہوتے ہیں جو اخلاقی طور پر پست لوگوں پر مسلط کیے جاتے ہیں۔

جس روز ہماری فکری لیڈر شپ کو یہ بات سمجھ میں آ گئی اور انھوں نے قوم کی اخلاقی تربیت کو اپنا مسئلہ بنالیا، ہمارے زوال کے دن ختم ہوجائیں گے ۔ مگر جب تک ان کو یہ موٹی بات سمجھ نہیں آتی، تب تک بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر بھی ہمارے معاملات ٹھیک نہیں کرسکتا۔ ہم ایک بند گلی سے نکلیں گے تو دوسری میں چلے جائیں گے ۔ ایک کھائی سے بچیں گے تو دوسری میں گرجائیں گے۔ ہم ایک مصیبت سے نجات پائیں گے تو دوسری کو اپنا منتظر پائیں گے ۔

اصلاح کا راستہ اپنے اخلاقی زوال کا ادراک ہے۔ لوگوں کی اخلاقی تربیت ہے۔ اعلیٰ اقدار کا فروغ ہے۔ جذباتیت کے بجائے معقولیت کی بات پر توجہ دینا ہے۔ تعصبات کے بجائے اصول کی پیروی کرنا ہے۔ نفرت کے بجائے برداشت اور اختلاف کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ یہی راستہ انشاء اللہ ہمیں ہمارے ہر مسئلے سے نکال لے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *