وجود خداوندی پر ایک دلیل (Abu Yahya ابویحییٰ)

فلسفے کی ایک شاخ Ontology ہے۔ اس میں حقیقت، وجود اور ذات کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ خدا کی ذات کے ہونے پر فلسفیوں نے جو دلائل دیے ہیں ان میں سے ایک دلیل فلسفے کی اسی شاخ کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کا ہر ماننے والا اور ہر منکر چونکہ خدا کی ہستی کا تصور کرسکتا ہے، جو سب سے بلند و اعلیٰ ہے، چنانچہ یہ تصور ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خارج میں بھی موجود ہے ۔

یہ دلیل پہلی دفعہ گیارہویں صدی عیسویں میں مسیحی علم الکلام کے ایک بہت بڑے عالم اور فلسفی سینٹ انسلم نے پیش کی تھی۔ اس کے بعد سترہویں صدی میں جدید مغربی فلسفے کے بانی رینے ڈیکارٹ نے اس دلیل کو مزید آگے بڑھایا اور واضح کیا کہ جب ذہن خد اکی ہستی کا تصور کرسکتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ موجود ہے۔ تاہم مجموعی طور پر فلسفیوں نے اس دلیل کو رد کیا ہے جن میں ہیوم اور کانٹ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ اس دلیل کو رد کرنے کی وجوہات بالکل سادہ ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ کہ تصور تو کسی بھی چیز کا کیا جا سکتا ہے ۔ تو کیا صرف تصور ذہن میں آنے سے خارج میں بھی کسی چیز کا ہونا لازمی ہوجاتا ہے ۔ یعنی آپ کا اپنے بینک اکاؤنٹ میں لاکھ روپے کا تصور کرنے سے اس میں لاکھ روپے نہیں آجائیں گے۔ اس پس منظر میں یہ اعتراض بالکل درست ہے اور یہ دلیل ناقابل قبول ہے ۔

تاہم اس فلسفیانہ بحث سے قطع نظر اس عاجز نے دلائل قرآن مجید پر اب تک جو تحقیق کی ہے اس کی روشنی میں خیال ہے کہ سینٹ انسلم نے درحقیقت یہ نکتہ قرآن مجید کی ایک دلیل سے لیا تھا، مگر اسے زیادہ بہتر طریقے پر پیش نہیں کرسکے ۔ سورہ اعراف کی آیت 172 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا اور ان کو اپنے حضور جمع کر کے ان سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا۔ اس کے بعد قرآن بیان کرتا ہے کہ اسی عہد کی بنیاد پر قیامت کے دن انسانوں کے لیے لاعلمی اور ماحول کا اثر کوئی عذر نہیں بن سکے گا۔

اس آیت سے جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ خدا کا وجود انسانوں کی فطرت میں ہے۔ کوئی خارجی قرینہ نہ ہو تب بھی ایک خالق و مالک کا تصور فطرت انسانی کی پکار ہے۔ اس کے برعکس کسی خدا کا نہ ہونا یا بہت سی ہستیوں کا خدا ہونا انسانی فطرت کے لیے ایک اجنبی چیز ہے۔ چنانچہ خارجی تصورات سے بلند ہو کر داخلی تصور کی بنیاد پر انسانی فطرت کو ایک خدا، کئی خدا یا خدا کے نہ ہونے میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا تو ایک خدا کا تصور اس کا فطری انتخاب ہو گا۔

یعنی بات یہ نہیں ہے کہ انسانی ذہن کسی چیز کا تصور کرسکتا ہے یا نہیں ، اور جواب یہ دیا جائے کہ تصور تو کسی بھی چیز کا کیا جا سکتا ہے۔ اہم اور اصل بات یہ ہے کہ ایک خدا کا تصور اور اس کی ہستی سرتا سر ایک داخلی تصور ہے جو خارج سے پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کی ضرورت اور اس کا تصور انسان کے اندر سے جنم لیتا ہے۔ یہ انسانوں کے لیے کسی پہلو سے کوئی اجنبی چیز نہیں ۔ اسی بنا پر یہ ہر دور میں انسانیت کی مشترکہ میراث رہا ہے۔ اور انسانوں نے ہمیشہ اس تصور کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا ہے۔

کسی وجہ سے اگر انسانیت یہ تصور کبھی گم کربیٹھے یا اس میں ملاوٹ کر دے، تب بھی انسان جیسے ہی سخت مشکلات میں گھرتے اور اپنے تعصبات سے بلند ہوتے ہیں، وہ فوراً ایک خدا کے تصورکی طرف لپکتے ہیں۔ وہ چاہے خدا کا انکار کریں، مگر یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ خدا کا تصور ان کے داخل کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت میں ایک خدا کے تصور سے مانوس ہے ۔ چاہے وہ اس کا کتنا ہی انکار کر دے ۔ یہی خدا کے ہونے کا وہ ثبوت ہے جو خود انسانوں کے اندر موجود ہے۔ فلسفیوں نے غلط طورپر اسے وجودی دلیل یا انٹالوجیکل آرگومنٹ کہا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ فطرت کی دلیل ہے ۔

ہاں خدا کے اس تصور کو بعض لوگ نہیں مانتے، مگر اس وجہ سے نہیں کہ یہ ان کی فطرت کے لیے ناقابل قبول ہے بلکہ ان کے انکار کا ایک سبب یہ ہے کہ خدا کے نام پر جو مشرکانہ اوہام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، وہ انسانی عقل اور فطرت دونوں کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ چنانچہ انسان باطل کو رد کرتے کرتے حق کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ انسان خدا کی ذات اور اس کے تصور سے دو اور چیزوں کی توقع رکھتا ہے جو اس دنیا میں امتحان کی وجہ سے پوری نہیں کی جا سکتیں۔ ان دو چیزوں کی عدم موجود گی کی وجہ سے پھر ساری گمراہی پیدا ہوتی ہے۔

پہلی یہ کہ خدا کے تصور کے ساتھ انسان فطری طور پر اسے دیکھنے کے خواہاں بھی ہیں۔ اور دوسری یہ ہے کہ انسان خدا کو خدا کی حیثیت میں جانتا ہے۔ وہ خدا جو خبیر ہے، بصیر ہے، عادل اور رحیم ہے۔ اس کا یہ تقاضہ ہے کہ خدا اس دنیا کے معاملات میں فوراً مداخلت کر کے غلط چیزوں کو ٹھیک کرے۔ یہ دونوں مطالبات فطرت بالکل ٹھیک ہیں ۔ مگر جیسا کہ بیان ہوا کہ یہ دونوں چیزیں حالت امتحان کی وجہ سے پوری نہیں کی جا سکتیں ۔ اگر انسانوں کے یہ دونوں فطری تقاضے بھی پورے کر دیے جائیں تو پھر امتحان ختم ہوجائے گا۔ پھر اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا کہ غیب میں رہ کر خدا کا وفا دار کون بنتا ہے ۔چنانچہ خدا ان دونوں مطالبات کے جواب میں یہ بتاتا ہے کہ ان کی تکمیل آخرت کی زندگی میں ہو گی۔

یہ بھی خیال رہے کہ یہ امتحان برپا کرنا بھی معاذ اللہ کوئی خدا کی کمزوری یا اس کا عجز نہیں کہ اسے امتحان کے بغیرپتہ نہیں چل سکتا کہ اس کا وفادار کون ہے اور کون خواہش، مفاد اور تعصب کا بندہ۔ وہ اپنے علم کی بنیاد پر یہ چیز اچھی طرح جانتا ہے۔ اسی نے جبرائیل کو جبرائیل بنایا ہے۔ اس نے میکائیل کو میکائیل بنایا ہے۔ اسی طرح وہ کسی امتحان کے بغیر ہی نبی کو نبی، صدیق کو صدیق، محسن کو محسن اور صالح کو صالح بنا کر جنت میں بھیج سکتا تھا۔

مگر عہد الست کے بعد اس دنیا کے امتحان کو برپا کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ خود انسانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو کہ کسی کو جنت میں اعلیٰ مقام دیا گیا تو کیوں دیا گیا۔ کوئی پیچھے رہا تو کیوں پیچھے رہا اور کوئی جہنم میں گرا تو کیوں گرا۔ظاہر ہے کہ جب امتحان برپا ہوتا ہے تو ہر انسان دیکھ لیتا ہے کہ کون ہے جس نے زیادہ قربانی دی۔ کون ہے جس نے نیکی کی زندگی اختیار کی۔ کون ہے جس نے خواہش، تعصب، مفاد، فرقہ واریت اور گروہی عصبیت سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دیا ۔

چنانچہ عہد الست کے بعد اسی مقصد کے لیے یہ دنیا بنائی گئی۔ پھر اسی مقصد کے لیے روزِقیامت برپا کیا جائے گا اور ہر شخص کو بتا دیا جائے گا کہ اس نے کیا کیا اور دوسرے بھی جان لیں گے کہ کسی کے ساتھ جو کچھ ہوا تو اس کی وجہ کیا تھی۔

خلاصہ یہ ہے کہ خدا کا تصور ہماری فطرت میں ہے ۔ یہ قرآن کا آرگومنٹ ہے ۔سینٹ انسلم نے شاید قرآن کی بات سنی ہو گی، مگر پوری طرح سمجھے بغیر اسے ایک دلیل بنا کر پیش کر دیا جس کے بعد سے ہزار برس سے سارے فلسفی اس کی تائید اور تردید میں لگے ہوئے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *