ٹیسٹ میچ اور انسانی زندگی (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

ٹیسٹ میچ کرکٹ کی ایک ابتدائی شکل ہے جو پہلے ون ڈے اور پھر ٹی ٹونٹی کے متعارف ہونے کے بعد زیادہ مقبول نہیں رہی۔ تاہم عوامی مقبولیت سے قطع نظرکرکٹ کا کھیل اپنی کلاسیکل شکل میں ٹیسٹ کرکٹ ہی کا نام ہے جو کسی کھلاڑی کے مزاج (temperament) اور معیار کو پرکھنے کی اصل کسوٹی بھی ہے۔ اس پانچ روزہ کھیل میں ہر کھلاڑی کے پاس کافی وقت ہوتا ہے سوائے ان کے جو کمزور لمحوں کا شکار ہوکر غلط گیند پر شاٹ لگاتے ہوئے آؤٹ ہوجائیں۔

انسان زندگی کے جس کھیل کا حصہ ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ٹیسٹ میچ ہی ہے۔ اس ٹیسٹ میچ کی طویل اننگز میں انسان کا مزاج اور معیار حقیقی معنوں میں پرکھا جاتا ہے۔ بیشتر انسان اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، لیکن انسان کا دشمن شیطان اس حقیقت کو خوب سمجھتا ہے۔ وہ انسان کے کمزور لمحوں کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ جیسے ہی کمزور لمحہ آئے اور انسان غلط شاٹ لگائے وہ انسان کو فوراً آؤٹ کر دیتا ہے۔

تاہم عقلمند لوگ کبھی اس طرح آؤٹ ہونے پر مایوس نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے ٹیسٹ میں ہمیشہ دوسری اننگز بھی آتی ہے۔ چنانچہ وہ فوراً توبہ کر کے دوسری اننگز کھیلنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ مگر نادان لوگ ایک یا کچھ ناکامیوں کے بعد دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں۔ وہ مایوس ہوکر خدائے رحمان کی ٹیم سے نکل کر شیطان کی ٹیم میں چلے جاتے ہیں۔

زندگی کے اس ٹیسٹ میچ کی ایک اور کمزوری جلد بازی ہے۔ ٹیسٹ میچ کی طرح زندگی میں بھی جلد بازی خطرناک ہوتی ہے۔ اس میں کامیابی کی شرط جلد بازی اور تیزرفتار ی نہیں بلکہ مستقل مزاجی ہوتی ہے۔ جو شخص مستقل مزاج ہو وہ زندگی کا ٹیسٹ کبھی نہیں ہار سکتا۔ ایسا شخص درخت کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور آخرکار اپنا وجود منوا کر دم لیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *