پاکستانی پاسپورٹ (Abu Yahya ابویحییٰ)

The Henley & Partners  بیرون ملک رہائش اورشہریت میں مدد اور معلومات فراہم کرنے کا ایک ادارہ ہے۔ یہ ادارہ ہر سال ویزہ پابندیوں کے لحاظ سے ایک فہرست جاری کرتا ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹ کا جائزہ لے کر یہ بتایا جاتا ہے کہ مختلف ممالک میں بلا ویزہ سفر کی آزادی کے لحاظ سے کس ملک کے پاسپورٹ کا کونسا نمبر ہے ۔

اس ادارے کی سن 2015 کی فہرست کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سب سے نیچے اور صرف صومالیہ، عراق اور افغانستان سے اوپرتھا۔ 2016 کی فہرست میں پاکستان کا مقام اور گر گیا صومالیہ اور عراق پاکستان سے بہتر ہوگئے ۔ اب صرف افغانستان ہم سے نیچے رہ گیا۔ دنیا کا کوئی اہم تو کیا غیر اہم ملک بھی پاکستانیوں کو بلاویزہ داخلے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ ویزہ لینے کا عمل پاکستانیوں کے لیے ایک مہنگا اور ذلت آمیز تجربہ بن چکا ہے۔ غیر ملکی سفارت خانوں میں پاکستانیوں کی تذلیل اوربھاری فیس کے باوجود ویزہ دینے سے انکار معمول بن چکا ہے ۔

یہ اس ملک کا حال ہے جو ایک ایٹمی پاور ہے ۔ جو آبادی ، رقبے ، پیداوار، وسائل اورجائے وقوع کے اعتبار سے دنیا کا اہم ترین ملک ہے۔ جس کے باشندے اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر دنیا کے ہر اہم ملک میں قابل ذکر کمیونٹی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پس منظر کے باجود اقوام عالم میں اس ذلت اور رسوائی کا سبب کیا ہے۔ اس سوال کی بڑی تفصیل کی جا سکتی ہے ، مگر گہرائی میں جائیں تو اس صورتحال کا باعث ہماری دو کمزوریاں ہیں ۔ ایک بحیثیت قوم ہمارا تعلیم دشمن رویہ اور دوسرا غیر حقیقت پسندانہ سوچ اور جذباتی سوچ۔

تعلیم اس دنیا میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہر ترقی کا راز ہے۔ ہم میں سے ہر باشعور شخص آمدنی کا دس سے تیس فیصد حصہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر ہمارے بچوں کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ مگر آزادی پر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بحیثیت قوم ہم تعلیم پر اپنے بجٹ کا دو فیصد سے زیادہ حصہ خرچ کرنے پر تیار نہیں ۔

خیال رہے کہ جب تعلیمی بجٹ دو فیصد ہوتا ہے تو تعلیمی عمارتوں اور اساتذہ کی تنخواہوں کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں۔ مگر جب تعلیمی بجٹ بیس فیصد ہوتا ہے تو ہر گاؤں اور قریے میں اسکول ہی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے، لائبریریز، تحقیقی مراکز اور شعور و آگہی کے ہزار سامان وجود میں آ جاتے ہیں ۔ مگر ہم قوم کو جاہل اور بے شعور رکھ کر اس کو برباد کر رہے ہیں ۔

ہماری ذلت و بربادی کا دوسرا سبب ہماری غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے ۔ ہم عملی طور پر مغربی اور مشرقی پاکستان کو تو متحد رکھ نہیں سکے لیکن نیل کے ساحل سے کاشغر تک مسلمانوں کے اتحاد کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے۔ ہم اپنی عدالتوں اور تھانوں میں کسی کمزور اور غریب کو تو انصاف دلا نہیں سکتے، مگر دنیا بھر کے مسلمانوں کو سپر پاور سے انصاف نہ ملنے پر برہم رہتے ہیں ۔ ہماری نظریں کابل اور لال قلعے کو فتح کرنے پر لگی رہتی ہیں مگرجوناگڑھ سے لے کر حیدرآباد دکن اور ڈھاکہ سے لے کر کارگل تک جو کچھ ہوا اسے دیکھنے کے لیے ہماری نظریں بہت کمزور ہیں۔ اپنی کمزوریوں اور مسائل کو چھوڑ کر دوسروں کے معاملات میں الجھنا غیر حقیقت پسندی کی آخری حد ہے اوربدقسمتی سے یہی ہمارا محبوب قومی مشغلہ ہے ۔

اس صورتحال میں کچھ لیڈروں کی دوکان ضرور چمکتی رہے گی ۔ وہ اور ان کے ہمنوا یہی چاہیں گے کہ یہاں جہالت اور غیر حقیقت پسندی کا چلن عام رہے ۔ مگر درحقیت تعلیم کی کمی نے ہماری ترقی کی راہیں مسدود کر رکھی ہیں ۔ جبکہ غیر حقیقت پسندانہ سوچ نے ستر برسوں میں ہمارے بجٹ اور قومی مزاج دونوں کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ان دو اسباب کے ہوتے ہوئے ہم اپنی نظروں میں کتنے ہی ہیرو بن جائیں ، دنیا کی نظروں میں ہم ذلیل و رسوا رہیں گے ۔ وہ سبز پاسپورٹ جو ہمارے لیے عزت کا باعث بن سکتا تھا، ذلت اور رسوائی کا باعث بنا رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *