کیا واقعی ہم جیت گئے؟ (Bint-e-Atique بنتِ عتیق)

Download PDF

ایک بار پھر ملک میں مچی بوم بوم کی دھوم۔ ایشیا کپ کے گروپ میچز میں شاہد آفریدی کی دھواں دار بیٹنگ نے میچ تو جیتے ہی، ساتھ ہی کروڑوں پاکستانیوں کے دل بھی جیت لیے۔ اور کچھ یوں قوم کے ہیرو بن گئے کہ ملک کے ہر بچے ، جوان ، بزرگ کی زبان پر ان ہی کے قصیدے عام ہیں۔ ہر محفل میں اُن ہی کی پرفارمنس کا چرچا ہے اور ہر ٹی وی چینل ان ہی کو خراجِ تحسین پیش کرتا نظر آتا ہے۔ گویا  کہ تمام پاکستانی جیت کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ، اپنے ہیرو کی حوصلہ افزائی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کر کے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔

مگر ایسے میں شاید ہم سب ایک بات بھُلا بیٹھے ہیں۔ پاکستانی ہونے کے ناطے یہ کھیل جیتنے کی خوشی مناتے ہوئے ہم یہ بھول گئے کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔ فیس بُک ، ٹی وی شوز ، نجی محافل میں بڑے  جوش کے ساتھ کہے گئے ایسے جملے سُننے کو ملے کہ  “آفریدی نے بھارت کو زمین چٹا دی” یا “بنگالیوں کو رُلا دیا”۔ اس سے کہیں بڑھ کر قابلِ اعتراض ہوتا ہے کہنے والوں کا انداز جو بہت جوش اور حقارت سے اپنے حریف کے لیے طنزیہ فقرے اچھالتے ہیں۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہم ہمیشہ نفرت کی زبان کیوں بولتے ہیں؟ ایسا انداز کیوں اختیار کرتے ہیں جو رنجشیں گھٹانے کے بجائے رنجشیں بڑھانے کا سبب بنے؟ ہم کھیل کو کھیل کیوں نہیں سمجھتے، اسے جنگ کیوں بنا دیتے ہیں؟ جب کہ ہمارے نبی نے تو بے انتہا ظالم و جابر دشمنوں سے جنگ جیت کر بھی کبھی نا مناسب لب و لہجہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے تو ہمیں اپنے لہجوں میں پھولوں کی سی نرمی اور شہد کی سی مٹھاس  گھولنا سکھائی تھی ، پھر ہمارے انداز  اتنے  تیز اور تلخ کیسے ہوگئے؟ ہم تو امتِ وسط ہیں، ہمیں تو ساری دنیا کے لیے ایمان، امن اور محبت کی مثال قائم کرنی ہے، پھر ہم خود ہی محبت کا یہ درس کیونکر بھُلا بیٹھے؟

جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ہار جیت ان کھیلوں کا حصہ ہے۔ آج ہم نے شاندار کامیابی حاصل کی تو کل ہمارے حصے میں شکست بھی آئے گی ۔ اور تب ہمارے حریف بھی وہی کرینگے جو ہم نے کیا۔ وہی طنز ، وہی فقرے بازی ، وہی استہزایہ لب و لہجہ ۔ ۔ ۔ ۔ یوں طنز و استہزاء کا یہ سفر ، نفرت کی آگ دلوں میں بھڑکا کر جنگ اور خون ریزی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

لیکن ذرا سوچیے، اگر ہم بالکل اسکے برعکس رویہ اختیار کریں، اگر ہم سامنے والوں کی تحقیر کرنا چھوڑ کر صرف اپنے پلیئرز کی تحسین کر کے خوشی منانا سیکھ جائیں، اگر ہم  دل بڑا کر کے اپنے مقابل ٹیم کے پلیرز کی بھی تعریف کردیں اور انکی حوصلہ افزائی کرکے دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں، تو کیا تب بھی نتائج ویسے ہی ہونگے؟   بالکل نہیں ! آپ مانیں یا نہ مانیں ، محبت ضرور رنگ لاتی ہے۔ جہاں ایک بار محبت اور امن کا بیج بو دیا جائے، وہاں الفت اور دوستی کی فصل ضرور اُگتی ہے۔ مگر پہلا قدم شرط ہے۔

کھیل و تفریح میں یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب ہمیں اخلاق کی سطح پر آزمایا جاتا ہے۔ مگر ہم جیت کے نشے میں سرشار اس آزمائش کو سمجھ ہی نہیں پاتے اور میچ جیت کر بھی اخلاق کے میدان میں ہار جاتے ہیں۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

5 Responses to کیا واقعی ہم جیت گئے؟ (Bint-e-Atique بنتِ عتیق)

  1. Abdul Mateen says:

    true

  2. Rubina says:

    bohat aala…bohat khoob.

  3. anonymous says:

    ہماری اخلاقی پستی ہر رنگ میں اپنا اظہار کرتی ہے چاہے وہ جیت ہی کا میدان کیوں نہ ہو …

  4. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  5. zulfiqar khan says:

    خوشی کا موقعہ ہو یا غمی کا ہمیں اعتدال کا راستہ اور شائستگی کا دامن کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آپ نے ایک بہت اچھی بات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ مسلمان کو ہر صورت داعی کا کردار ادا کرنے کا موقع نہیں گنوانا چاہیے۔(ذوالفقارخان ضلع میانوالی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *