(11) ترکی کا سفرنامہ ( Mubashir Nazir مبشرنذیر )

 

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ(11)

اگر بے حیائی اور سود موجودہ دور کے فتنے ہیں تو مذہبی جبر، آمرانہ اقتدار اور جاگیرداری نظام قدیم دور کے فتنے رہے ہیں ۔

میری سمجھ میں یہ آیا کہ قدیم دور میں اہل مذہب کو جو اقتدار حاصل تھا، وہ دور جدید نے ان سے چھین لیا ہے ۔ ہمارے اہل مذہب اپنی کتابوں میں ایک طرف یہ پڑھتے ہیں کہ بادشاہ، اہل علم کی پالکی کو کندھا دیا کرتے تھے اور شہزادے ان کی جوتیاں سیدھی کیا کرتے تھے ۔ دوسری طرف وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جدید معاشرے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو وہ اس دور میں خود کو ان فٹ محسوس کرتے ہیں ۔ چونکہ ہمارے ہاں اہل مذہب کی اکثریت دین اسلام کو اس کے اصلی ماخذوں سے نہیں بلکہ قرون وسطی کے مخصوص تنگ نظر ماحول میں لکھی گئی کتابوں کے توسط سے سمجھتی ہے ، اس وجہ سے انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ دور جدید میں کوئی ایسا حادثہ پیش آیا ہے جس نے انسان کو اس کی اصل راہ سے بھٹکا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جدید دور کی ہر اچھی چیز سے بھی نفرت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

اگر ہم دین اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دور جدید نے قدیم دور کی بہت بڑی بڑی برائیوں جیسے مذہبی جبر اور نفسیاتی غلامی کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ قرون وسطی کے انسان کو اس بات پر مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ریاست کے مذہب کو قبول کرے ۔ ریاست کے مذہب یا فرقے سے ذرا سا اختلاف کرنے پر انسان کو زنجیروں میں قید رکھا جاتا تھا، اس کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے ، اسے زندہ آگ میں جلا دیا جاتا تھا۔ الحمد للہ موجودہ دور میں یہ فتنہ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے ۔ قرون وسطی میں مذہبی راہنما طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے انسانوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنا لیا کرتے تھے ۔ انفارمیشن ایج کے اس دور میں ان کے لئے ایسا کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے ۔

موجودہ دور میں بہت سے دانشور عیسائیت کی طرح اسلام کی اصلاح (Reformation) کرنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہیں تاکہ اسے دور جدید کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی کسی اصلاح یا ریفارمیشن کی ضرورت نہیں ہے ۔ دور جدید درجہ بدرجہ ترقی کرتا ہوا خود ہی اسلام سے ہم آہنگ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ریفارمیشن کی اصل ضرورت ہمارے مذہبی تصورات میں ہے جنہیں غلط طور پر ہم نے اسلام کا نام دے رکھا ہے ۔ اسلام کو نہیں بلکہ مسلمانوں کے طرز فکر کو جدید بنانے کی ضرورت ہے ۔

آبنائے باسفورس

اب ہم انقرہ  موٹر وے کی جانب جا رہے تھے ۔ گوگل ارتھ  سے دیکھے گئے نقشے کے مطابق اب تک ہمیں آبنائے باسفورس کے پل تک پہنچ جانا چاہیے تھا مگر ابھی دور دور تک اس کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہمیں خطرہ لاحق ہونے لگا کہ کہیں ہم غلط سمت میں تو نہیں جا رہے ۔ ابھی ہم با آواز بلند یہ سوچ ہی رہے تھے کہ لندن برج کی طرز کے دو طویل ٹاورز نظر آنے لگے ۔ ان ٹاورز کے درمیان آبنائے باسفورس کا پل نظر آ رہا تھا۔ ان ٹاور کو ملانے والے لوہے کے رسے پل کو تھامے ہوئے تھے ۔

کہنے کو تو یہ پل محض ایک شہر کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ملاتا ہے مگر درحقیقت یہ پل ایشیا کو یورپ سے ملا رہا تھا۔ ہم اس وقت یورپ میں تھے ۔ اس پل کو پار کر کے ہم ایشیا میں داخل ہو جاتے ۔اس پل کا نام “سلطان محمد فاتح برج” رکھا گیا تھا۔

جیسے ہی ہم پل پر پہنچے ایک عجیب منظر ہمارے سامنے تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ایک بہت بڑے پہاڑی دریا کے اوپر سے گزر رہے ہیں ۔ دونوں جانب سبزے سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان نیلے رنگ کا ایک بہت بڑا دریا گزر رہا تھا۔ یہ دریا ، عام پہاڑی دریاؤں کی طرح پرشور نہیں تھا بلکہ اس کا پانی نہایت ہی پرسکون تھا۔ پل کو اتنی بلندی پر بنایا گیا تھا کہ اس کے نیچے سے بحری جہاز بڑے آرام سے گزر سکتے تھے ۔ میری اہلیہ نے اس خوبصورت منظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کی کوشش کی مگر کیمرے میں کسی خرابی کے باعث اچھی تصویر نہ آ سکی۔ اس دن ہمارے ساتھ  یہی ہوا۔

پل پار کرتے ہی ٹول پلازہ آ گیا۔ یہاں ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے لئے آٹو میٹک کیمرے نصب کیے گئے تھے جو خود بخود گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے ٹول ٹیکس کو مالک کے اکاؤنٹ سے ایڈجسٹ کر لیتے ۔ اس کی رقم پہلے ہی گاڑی کے کرایے میں شامل کر لی گئی تھی۔

ترکی کی موٹر وے

اب ہم باقاعدہ موٹر وے پر سفر کر رہے تھے ۔ ترکی میں صرف دو موٹر وے ہیں۔ ایک استنبول اور انقرہ کے درمیان اور دوسری جنوب میں غازی انٹپ اور انطالیہ کے درمیان۔ اس موٹر وے کا معیار اچھا تھا مگر اس کے مقابلے میں ہماری موٹروے کافی بہتر ہے ۔ سڑک کے دونوں کناروں پر ایمرجنسی لین بہت ہی تنگ تھی جس کی وجہ سے تنگی داماں کا احساس ہو رہا تھا۔ سعودی عرب کی عام سڑکوں پر بھی تقریباً ایک لین کے برابر ایمر جنسی لین چھوڑ ی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھلے پن کا احساس ہوتا ہے ۔ موٹر وے پر رات کی ڈرائیونگ میں مدد کرنے والے اسٹڈ نصب نہیں کیے گئے تھے ۔

ترکوں کی ڈرائیونگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اچھے ڈرائیور نہیں ہوتے ۔ یہ تبصرہ اہل مغرب کے معیار کے مطابق ہے ورنہ پاکستان اور سعودی عرب کی نسبت یہاں ڈرائیونگ کا معیار کافی بہتر تھا۔ گاڑی میں ڈیزل اب ختم ہونے کے قریب تھا مگر دور دور تک کسی پٹرول پمپ کے آثار نظر نہ آ رہے تھے ۔ اگر کہیں پر پٹرول اسٹیشن موجود بھی تھا تو وہ موٹر وے سے ہٹ کر سروس لین پر تھا۔ استنبول سے باہر نکلتے ہی ہمیں ایک ریسٹ ایریا نظر آیا۔ میں نے گاڑی یہاں موڑ لی۔ ٹنکی فل کروانے پر ایک سو ایک لیرا خرچ ہوئے ۔ یہاں صاف ستھرے باتھ روم بھی بنے ہوئے تھے ۔ قریب ہی لکڑی کی بنی ہوئی مسجد تھی جس میں مرد و خواتین کے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے تھے ۔

وضو کر کے نماز ادا کرنے کے بعد ہم آگے چلنے لگے تو ماریہ نے چپس کی فرمائش کر دی۔ میں نے یہاں موجود مارکیٹ سے چپس کا ایک بڑا پیکٹ خریدا۔ کاؤنٹر پر موجود ادھیڑ عمر خاتون سے اس کی قیمت پوچھی۔ کہنے لگیں ، ’’تین لیرا۔‘‘ میں نے پانچ لیرا کا نوٹ دیا۔ پھر بولیں ، ’’آپ کہاں سے آئے ہیں ؟‘‘ میں نے کہا، ’’پاکستان سے ۔‘‘ انہوں نے تین کی بجائے دو لیرا کاٹ کر تین لیرا مجھے واپس کر دیے ۔

اب ہم دوبارہ موٹر وے پر سفر کر رہے تھے ۔ “گبزے” اور ” تاوشانسل ” کے شہروں سے گزر کر ہم اب ازمت کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ اچانک ہی ایک نہایت دلفریب منظر ہمارے سامنے آ گیا۔ موٹر وے اونچے نیچے پہاڑوں سے گزر رہی تھی۔ یہ پہاڑ گھنے سبزے سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ سمندر کا کنارہ تھا۔ یہ “خلیج ازمت” تھی جو کہ بحیرہ مرمرہ کی مشرقی شاخ پر مشتمل تھی۔ خلیج کا دوسرا کنارہ بھی ہمیں نظر آ رہا تھا۔ سمندر کے بیچوں بیچ بہت سے بحری جہازوں کے مستول نمایاں تھے ۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (11) ترکی کا سفرنامہ ( Mubashir Nazir مبشرنذیر )

  1. Amy says:

    I always enjoy reading this safar’nama..waiting for the next episode.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *