(12) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ(12)

خلیج ازمت کے آخری کنارے پر’’ ازمت‘‘ شہر تھا۔ سڑ ک اور سمندر کے بیچ میں شہر نظر آ رہا تھا۔ مکانوں کی سرخ مخروطی چھتیں نیلے پانی اور زرد روشنی کے بیک گراؤنڈ میں نہایت بھلی لگ رہی تھیں ۔

یہاں سے ایک سڑک ’’برسا‘‘ اور’’ازمیر‘‘ کی جانب جا رہی تھی۔ اس سڑک پر ہمیں واپسی پر سفر کرنا تھا۔ ازمت سے آگے نکلے تو تھوڑی دیر میں ’’اسپانزا‘‘ کا شہر آ گیا۔ شہر کے ساتھ ہی ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہماری منتظر تھی۔ یہ جھیل اسپانزا تھی۔ پورے کا پورا ترکی نہایت ہی دلفریب قدرتی اور مصنوعی جھیلوں سے بھرا پڑا ہے ۔ اس وقت تو نہیں البتہ واپسی کے سفر میں ہم نے اس جھیل پر کچھ وقت گزارا تھا۔

اسپانزا سے آگے ’’ ڈوزجے‘‘ کا شہر آیا۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے ۔ یہاں کیتھولک چرچ سے متعلق کچھ کھنڈرات موجود ہیں جنہیں ’’پروسیا اینڈ ہائپیئم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک صوبائی دارالحکومت ہے ۔ ترکی میں صوبے بہت چھوٹے چھوٹے ہیں ۔ ان کا ایک صوبہ کم و بیش ہمارے ایک ضلع کے برابرہے ۔ ہر پچاس کلومیٹر کے بعد نئے صوبے کی حدود شروع ہو رہی تھیں اور ہم تین گھنٹے میں پانچ چھ صوبے ’’پھڑ کا‘‘ چکے تھے ۔

سامنے اونچے پہاڑ نظر آ رہے تھے جن پر سبزہ بہت گھنا تھا۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ہم ان پہاڑوں کے دامن میں جا پہنچے۔ یہاں موٹروے ایک سرنگ میں داخل ہو رہی تھی۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ ترکی میں سڑکوں پر بے شمار سرنگیں بنائی گئی ہیں ۔ سرنگ کے اندر لائٹیں لگی ہوئی تھیں اور اسپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 80 کر دی گئی تھی۔

سرنگ شیطان کی آنت کی طرح کافی طویل ثابت ہوئی۔ ساڑھے چار کلومیٹر طویل سرنگ پار کر کے ہم پہاڑوں کی دوسری جانب پہنچے تو ’’ بولو‘‘ شہر کے آثار نظر آئے ۔ ہم دوپہر دو بجے استنبول پہنچے تھے ۔ اس کے بعد 300 کلومیٹر کا کافی طویل سفر طے کر چکے تھے ۔ اس وقت شام کے آٹھ بج رہے تھے مگر سورج ابھی سوا نیزے پر موجود تھا۔ یہ علاقہ 40 درجے عرض بلد پر واقع ہے ۔ جیسے جیسے شمال کی طرف چلا جائے ، گرمیوں میں دن اور سردیوں میں رات طویل ہوتی چلی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی کے مہینے میں یہاں شام ساڑھے آٹھ  بجے سورج غروب ہوتا ہے اور صبح چار بجے پھر طلوع ہو جاتا ہے ۔

’’ بولو ‘‘ میں ایک رات

موٹروے سے نکل کر ہم شہر کی جانب چلے ۔ وسیع وادی میں پھیلے ہوئے شہر کی عمارتوں کی سرخ چھتیں پیلے اور سبز بیک گراؤنڈ میں عجیب سا منظر پیش کر رہی تھیں ۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ پورے ترکی میں عمارتوں کی چھتوں کو مخروطی بنایا جاتا ہے اور ان پر سرخ ٹائلیں لگا دی جاتی ہیں ۔ اس طریقے سے پورا شہر سرخ سرخ محسوس ہوتا ہے ۔

شہر میں داخل ہو کر میں نے ایک صاحب سے ہوٹل کا پوچھا۔ ترکی میں ہوٹل کو ’’اوٹل‘‘ کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے ایک جانب اشارہ کر دیا اور اشاروں ہی اشاروں میں یہ بھی بتا دیا کہ یہ ون وے سڑک تھی۔ ہمیں گھوم کر اس سڑک پر پہنچنا تھا۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ گاڑی ایک جگہ پارک کر کے پیدل ہی ہوٹل کی تلاش کی جائے ۔ جہاں میں نے گاڑی پارک کی، وہاں ایک دکان تھی جس پر “Terzi” لکھا نظر آ رہا تھا۔ یہ واقعتاً درزی ہی کی دکان تھی کیونکہ ترکی زبان میں ‘T’ کو ‘د’ کے طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے ۔

ترکوں کی عجیب عادت تھی۔ اگر ان سے انگریزی میں کسی جگہ کا پوچھا جائے تو وہ انداز سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ حضرت وہاں جانا چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ ترکی زبان میں ایک طویل تقریر شروع کر دیتے ہیں اور تقریباً رقص کرتے ہوئے اشاراتی زبان میں اس خوبی سے راستہ سمجھاتے ہیں کہ راستہ واقعی سمجھ میں آ جاتا ہے ۔ ان کی اس خوبی کے باعث ہم راستہ پوچھتے ایک ہوٹل میں جا پہنچے ۔ ہوٹل کے منیجر کافی کم گو تھے ۔ انہیں معلوم تھا کہ کسی بات کے جواب میں طویل تقریر کا کوئی فائدہ نہیں ۔ چنانچہ سوال کے جواب میں مسکرا کر صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے ۔ ہوٹل کافی معقول تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی وقت ہے ، کیوں نہ ایک دو اور ہوٹل دیکھ  لیے جائیں ۔

قریب ہی ایک اور ہوٹل تھا جس پر ’’کشمیر ہوٹل‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ یہ نسبتاً مہنگا تھا اور معیار کے اعتبار سے پہلے ہوٹل جیسا ہی تھا۔ میں نے ہوٹل کے منیجر سے وجہ تسمیہ پوچھی۔ وہ میری بات نہ سمجھے اور بولے ، ’’کشمیر انڈیا اور پاکستان میں ہے مگر یہ کشمیر ہوٹل ہے ۔‘‘ بعد میں تجربہ ہوا کہ ترکی میں بہت ہی کم لوگ اچھی انگریزی جانتے ہیں ۔ ہم نے پہلے والے ہوٹل میں آ کر کمرہ لیا۔ سامان رکھا اور شہر گھومنے نکل کھڑ ے ہوئے ۔

ماحول میں گھٹن

ہوٹل ایک پہاڑی پر تھا جس سے سیڑھیاں اتر کر نیچے بازار میں جا رہی تھیں ۔ یہ بولو کا اندرون شہر تھا۔ ایک طرف تنگ سی سڑک تھی جس پر گاڑیاں چل رہی تھیں اور دوسری جانب یورپ کے شہروں کی طرح اینٹوں کا وسیع راستہ بنا ہوا تھا۔ شہر کا ماحول بڑی حد تک یورپی تھا۔ مغربی لباس میں ملبوس مرد و خواتین ادھر ادھر آ جا رہے تھے ۔ بہت سی باحجاب ترک خواتین بھی تھیں مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اس ماحول کی وجہ سے ہم بالکل اسی طرح کی گھٹن محسوس کر رہے تھے جیسے کوئی سیکولر لادین قسم کا اکیلا شخص اس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ غلطی سے مولویوں میں آ پھنسے ۔

جس طرح قدیم دور میں شرک ایک عالمی برائی تھی، بالکل اسی طرح بے حیائی موجودہ دور میں ایک عالمی برائی بن چکی ہے ۔ ارباب میڈیا نے اپنے لئے جو کردار منتخب کر لیا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں نہایت ہی بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑ ے گا۔ دوسری طرف ہمارے اہل مذہب ڈنڈے کے زور پر خواتین کو باپردہ بنانا چاہتے ہیں ۔ اس طریقے سے سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ لوگ ضد میں آ کر دین سے اور دور ہوتے چلے جائیں ۔ درست طریقہ یہ ہے کہ بے حیائی کے برائی ہونے کا شعور لوگوں میں پیدا کیا جائے ۔ انہیں بتایا جائے کہ بے حیائی برائی کیوں ہے ؟ یہ انسانیت کے لئے کس طرح سے نقصان دہ ہے ؟ اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے ؟

بے حیائی میں بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ اس کے نتیجے میں معاشرے میں بدکاری عام ہوتی ہے ۔ مرد و خواتین اختلاط کے دوران اگر کچھ حدود کا خیال نہ رکھیں تو اس کے نتیجے میں ان کے تعلقات حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔ جب یہ تعلقات حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو خاندان کے ادارے کی تباہی کا آغاز ہوتا ہے۔

اگر انسان جوان حالت میں کسی درخت سے اگ پڑتے اور جوانی کی حالت ہی میں اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے تو شاید فری سیکس ہی انسان کے لئے بہتر نظام زندگی ہوتا۔ ایک مرد جتنی خواتین سے چاہتا، ازدواجی تعلقات قائم کرتا اور روزانہ نت نئے مزوں کو انجوائے کرتا۔ اسی طرح ایک خاتون جتنے چاہے مردوں سے تعلقات قائم کر کے روزانہ زندگی کی نئی جہتوں میں سفر کرتی۔ اس صورت میں کسی خاندان کی ضرورت نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to (12) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

  2. ibrahim says:

    nice msg and very very interesting safarnama

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *