(13) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (13)

اللہ تعالی نے انسان کا لائف سائیکل اس سے بہت مختلف بنایا ہے ۔ انسان ایک کمزور بچے کی صورت میں پیدا ہوتا ہے جسے اگر توجہ نہ ملے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے ۔ یہیں سے اسے ایک ماں اور ایک باپ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسے ایک ایسی ہستی درکار ہوتی ہے جو خوراک سے لے کر پیشاب کروانے تک اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کی ایک آواز پر وہ دل کی گہرائیوں سے لبیک کہتی ہوئی آئے اور اسے اپنی گود میں لے کر اپنی مامتا کے جذبات نچھاور کرے ۔

اہل مغرب نے ماں کے متبادل کے طور پر ڈے کیئر سنٹر بنا لیے ۔ ان کی اپنے ماہرین سماجیات کی تحقیقات گواہ ہے کہ کرائے کی مائیں بچے کو وہ محبت نہیں دے سکتیں جو اس کی نفسیاتی نشو ونما کے لئے ضروری ہے ۔ بچے کو حقیقی ماں کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نہ صرف ماں بلکہ بچے کو ایک باپ کی ضرورت بھی ہوا کرتی ہے ۔ ایسا باپ جو بچے کو اپنی پدرانہ شفقت عطا کرے ۔ اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معاشی دوڑ دھوپ کرے ۔ اگر ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری کسی ایک فرد کو سونپ دی جائے تو بچے کی مکمل ضروریات پوری نہیں ہوتیں ۔

مغربی تہذیب کو اپنانے والے ممالک میں سنگل پیرنٹ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ایک سروے کے مطابق آسٹریلیا میں 20 فیصد بچے صرف والدہ یا والد کے زیر نگرانی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ آسٹریلوی ماہر ڈیوڈ رو کہتے ہیں :

ایسے بچے جو کہ والدین میں سے کسی ایک کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے ہوں ان میں دماغی بیماریوں ، خودکشی کرنے یا الکوحل سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو جانے کا تناسب ان بچوں کی نسبت دوگنا ہے جن کی تربیت ماں اور باپ دونوں نے مل کر کی ہو۔ سنگل پیرنٹ لڑکیوں میں منشیات کے استعمال کا تناسب تین گنا اور لڑکوں میں یہ تناسب چار گنا ہے ۔ سویڈن کے نیشنل بورڈ فار ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کی مصنف گونیلا رنگ بیک کے مطابق ان بچوں کی بڑی تعداد غربت کے باعث صحت کے مسائل کا شکار رہتی ہے ۔

http://www.theage.com.au/articles/2003/01/24/1042911549349.html

امریکی ماہر میک لاناہن کے مطابق ان بچوں کو پوری توجہ نہیں ملتی اور ان کے مالی وسائل بھی کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ طرح طرح کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

یہ مسئلہ صرف بچے ہی کا نہیں ہے ۔ انسان جوانی کا طویل عرصہ گزار کر اس دور میں بھی جا پہنچتا ہے جسے قرآن میں ’’ارزل عمر‘‘ کہا گیا ہے ۔ جوانی ڈھلنے کے ساتھ ساتھ انسان کو طرح طرح کی بیماریاں گھیر لیتی ہیں ۔ بچہ تو دن بدن بہتری کی طرف گامزن ہوتا ہے لیکن ایک بوڑھے شخص کی حالت ہر روز بگڑتی چلی جاتی ہے ۔ اس وقت بھی اس شخص کو کسی بچے کی طرح توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اہل مغرب نے اولڈ ہوم بنا کر اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ان اولڈ ہومز میں بوڑھوں کو میڈیکل کی سہولیات، کھیل اور ساتھی تو مل جاتے ہیں مگر ان کی حسرت بھری نگاہیں اپنی اولاد کو تکتی رہتی ہیں جن کے پاس اپنے بوڑھے والدین کے پاس آنے کا وقت نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس اہل مشرق خوش نصیب ہیں کہ انہیں بچپن میں ماں اور باپ دونوں کا پیار ملتا ہے ۔ جوانی میں یہ اپنی محبت اپنے والدین اور بچوں پر لٹاتے ہیں ۔ جب ان کا بڑھاپا انہیں آ گھیرتا ہے تو پھر یہی اولاد ان کی ہر جسمانی اور نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ اہل مشرق کو یہ فائدہ صرف اور صرف خاندانی نظام کی بدولت حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اس نظام کو انسان کی بنیادی ضرورت کے طور پر قائم کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں بدکاری کو گناہ سے بھی بڑھ کر جرم قرار دیا گیا ہے ۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to (13) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    A great read!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *