(14) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (14) 

مشرقی شرم و حیا کی روح ہمارے اندر اس گہرائی میں پیوست ہے کہ کئی عشروں تک میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکی۔ یہ بات اہل مذہب کے لئے اپنے اندر ایک گہرا سبق لیے ہوئے ہے ۔ مذہب کو قانون بنا کر ڈنڈے کے زور پر نافذ کرنے کی بجائے اگر وہ اسے تہذیب بنا کر لوگوں کی روح کی گہرائیوں میں اتار دیں تو اسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے اسلاف نے یہی کیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔

بولو کی جامع مساجد

اب سورج غروب ہو چکا تھا۔ اتنے میں مغرب کی اذان کی آواز سنائی دی۔ اس اذان نے اس گھٹن کا خاتمہ کر دیا جو کہ ہم یہاں آ کر محسوس کر رہے تھے ۔ اذان کی آواز نہایت ہی مناسب تھی۔ ہمارے ہاں تو لاؤڈ اسپیکر کو اتنا تیز کر دیا جاتا ہے کہ اس کی آواز کانوں کو چیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ اذان سے ہٹ کر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو اتنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے کہ لوگ دین سے بیزار ہو جائیں ۔ ارباب مسجد ان احادیث کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جن میں پڑوسی کو ایذا پہنچانے کو کتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ مجھے مسجد سے بہت لگاؤ ہے مگر اس کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ مسجد سے کچھ دور ہی گھر لیا جائے تاکہ لاؤڈ اسپیکر کے جا بجا استعمال سے نجات مل سکے۔ ہمارے ہاں صرف دین دار ہی نہیں بلکہ دنیا دار حضرات کا بھی یہی حال ہے۔ اگر ان کے ہاں کوئی تقریب ہو تو پھر لاؤڈ اسپیکر میں کان پھاڑ دینے والی موسیقی بجائی جاتی ہے تاکہ کوئی آرام نہ کر سکے ۔

سڑک پار کر کے ہم مسجد کی جانب بڑھے ۔ یہ ایک قدیم مسجد تھی۔ مسجد کے باہر ایک سبیل لگی ہوئی تھی جس میں پینے کا پانی تھا۔ یہ سبیل مسجد کی تعمیر کے دور کی لگ رہی تھی۔ یہاں ایک طویل بالوں والے صاحب کھڑے تھے ۔ میں نے وضو خانے کا پوچھا تو بڑے خوش ہوئے اور میرے ساتھ چل کر وضو خانے کی نشاندہی کی جو کہ تہہ خانے میں تھا۔

میں نیچے پہنچا تو ایک عجیب منظر نگا ہوں کے سامنے تھا۔ ایک طرف استنجا کے لئے ٹائلٹ بنے ہوئے تھے اور دوسری جانب وضو کے لئے جگہ تھی۔ ہمارے ہاں عموماً ٹائلٹ کے باہر کچھ جمعدار صاحبان سر پر کپڑا باندھے جھاڑو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے پانچ روپے وصول کرتے ہیں ۔ یہاں ایک شیشے کا کیبن بنا ہوا تھا اور اس میں کسی جمعدار کی بجائے ایک طرح دار خاتون براجمان تھیں اور کسی میوزیم کی طرح ٹائلٹ جانے کے لئے نصف لیرا کا باقاعدہ ٹکٹ ایشو کر رہی تھیں۔ مجھے چونکہ صرف وضو کرنا تھا اس لئے انہوں نے مجھ سے کوئی رقم وصول نہیں کی۔ مسجد کا وضو خانہ ہماری طرح کا تھا مگر اس میں بیٹھنے کے لئے کافی اونچی نشست تھی۔ یہاں بھی عرب ممالک کی طرح جوتوں سمیت وضو خانے میں لوگ جا رہے تھے ۔

اوپر مسجد میں پہنچا تو ایک اور عجیب چیز دیکھی۔ محراب میں امام صاحب نماز پڑھا رہے تھے اور ان کے پیچھے دو صفوں میں نمازی تھے ۔ مسجد کے پچھلے کونے میں ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا جس میں دو صاحبان اسپیکر کے سامنے کھڑے تھے ۔ ان میں سے ایک نائب امام تھے اور دوسرے ان کے ساتھ محض صف بنانے کے لئے کھڑے تھے ۔ امام صاحب جب تکبیر کہتے تو یہ اسپیکر میں بلند آواز میں تکبیر کو دوہراتے ۔ نماز کے بعد نائب امام صاحب نے دعا کروائی۔ اس قسم کے بعض رواج ہمارے ہاں بھی ہیں جن کا کوئی ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں نہیں ملتا۔ نماز ایسا معاملہ ہے جس میں ہمیں نت نئے طریقے ایجاد کرنے کی بجائے خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا چاہیے ۔

[جاری ہے ]

 ——*** ——

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (14) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    Sahi. Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *