(15) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (15)

اصل میں جب انسان دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس میں کچھ ایسا جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے دین کے اصل احکام کافی نہیں لگتے ۔ ایک صاحب نظر نے اس کیفیت کا تجزیہ کچھ یوں کیا ہے :

انسان کے اندر یہ عام کمزوری پائی جاتی ہے کہ جن چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق محض عقلی ہی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہوتا ہے ، ان معاملات میں وہ بسا اوقات غیر متوازن اور غیر معتدل ہو جایا کرتا ہے۔ آدمی اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے تو صرف محبت ہی نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات اس محبت میں وہ ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ عداوت بھی کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس اندھے پن میں اس کو خدا کے حقوق کا بھی کچھ ہوش نہیں رہ جاتا۔ اگر اسے اپنے قبیلہ یا قوم یا ملک سے محبت ہے تو ان کی عصبیت اس پر بسا اوقات اتنی غالب آ جاتی ہے کہ وہ ان کے لئے پوری انسانیت کا دشمن بن جاتا ہے ۔ حد یہ ہے کہ ان کی حمایت میں خود خدا سے بھی لڑنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔

یہی چیز مذہب کے دائرہ میں آ کر اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے کیونکہ مذہب کے ساتھ اولاً تو عام لوگوں کا تعلق عقلی کم اور جذباتی زیادہ ہوتا ہے اور اگر عقلی ہوتا بھی ہے تو بھی اس معاملے میں انسان کے جذبات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ عقل کے لئے ان کو ضبط میں رکھنا آسان کام نہیں ہوتا۔ یہ جام و سنداں کی بازی کھیلنا ہر شخص کے بس کا کام نہیں ہے ۔ چنانچہ اس دائرہ کے اندر ایسا بہت ہوتا ہے کہ آدمی کو جس حد پر رک جانا چاہیے ، وہاں آ کر وہ نہیں رکتا بلکہ اس کو پھلانگ کر آگے نکل جانا چاہتا ہے ۔

اگر ایک شخص اس کا مرشد ہے تو وہ اس کو مرشد ہی کے درجہ پر نہیں رکھے گا بلکہ اس کی خواہش یہ ہو گی کہ وہ کسی طرح اس کو رسالت کے مرتبہ پر فائز کر دے ۔ اسی طرح اگر ایک ذات کو خدا نے منصب رسالت سے سرفراز فرمایا ہے تو یہ اپنے جوش عقیدت میں یہ چاہے گا کہ اس کو خدا کی صفات میں بھی کچھ نہ کچھ شریک کر دے ۔ اگر اس سے کسی کام کا مطالبہ پاؤ کیا گیا ہے تو وہ چاہے گا کہ وہ اس کو بڑھا کر سیر بھر کر دے ۔ اس غلو پسندی نے دنیا میں بڑی بڑی بدعتوں کی بنیادیں ڈالی ہیں ۔ اسی کے سبب سے عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنایا۔ اسی کے سبب سے انہوں نے اپنے صوفیوں اور عالموں کو ارباباً من دون اللہ (اللہ کے علاوہ رب) کا درجہ دیا اور یہی چیز تھی جس نے ان کو رہبانیت کے فتنہ میں مبتلا کیا۔۔۔۔

بدعت کا دوسرا سبب خواہشات نفس کی پیروی ہے ۔ انسان کے اندر یہ بھی ایک کمزوری ہے کہ بسا اوقات وہ ایک نظریہ یا ایک رویہ اختیار تو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اس کی خواہشات نفس کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس سے اس کے کسی مخفی منصوبے کی تکمیل ہو رہی ہوتی ہے ۔ اس سے کسی ایسے شخص کی خوشنودی اسے حاصل ہوتی ہے جس کی خوشنودی اسے اپنے دنیوی اغراض کے نقطہ نظر سے مطلوب ہوتی ہے ۔ اس سے اس کے وہ ارمان پورے ہوتے ہیں جو نفس کی اکساہٹ سے اس کے اندر ہر وقت گدگدیاں پیدا کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اتنی جرأت و ہمت نہیں رکھتا کہ ان چیزوں کی تکمیل کے لئے وہ صاف صاف نفس پرستی اور دنیا پرستی کے نام سے میدان میں اترے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی اس دنیا داری اور نفس پرستی کے لئے دین داری کی کوئی آڑ بھی تلاش کرے تاکہ رند کا رند بھی رہ سکے اور ہاتھ سے جنت نہ جانے پائے ۔

اس خواہش کے تحت وہ مختلف قسم کے نظریات بناتا ہے اور ان کو مذہب کے اندر گھسانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر گھسانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ان سے اپنی خواہشوں کے بند دروازوں کو کھولنے میں کلید کا کام لیتا ہے ۔ خواہشات نفس کے تحت فتوی لکھتا ہے اور ان کو کتاب و سنت کی طرف منسوب کرتا ہے ۔ بعض سفلی جذبات کی تسکین کے لئے بہت سے کام کرتا ہے اور ان کو معرفت الہی اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بتاتا ہے ۔ (امین احسن اصلاحی، تزکیہ نفس)

نماز سے فارغ ہو کر میں امام صاحب سے ملاقات کے لئے آگے بڑھا۔ میں نے بیک وقت انگریزی اور عربی میں گفتگو کا آغاز کیا۔ انہیں دونوں زبانوں سے واقفیت نہ تھی۔ انہوں نے نائب امام کو بلایا اور اشارے سے کہا کہ یہ عربی جانتے ہیں ۔ نائب امام تھوڑی بہت عربی جانتے تھے ۔ انہوں نے مجھے مسجد کا کتبہ دکھایا جس پر 1499ء کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ بتانے لگے کہ یہ مسجد بولو کے گورنر نے 500 سال پہلے تعمیر کی تھی اور یہ شہر کی مرکزی جامع مسجد تھی۔

 

______***______

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (15) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Amy says:

    True. Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *