(17) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 ترکی کا سفرنامہ (17)

مبشر نذیر

ترکی کے حمام

فوارے پر بیٹھ کر شاورما کھانے کے بعد ہم دوسری جانب چل پڑے ۔ تھوڑی دور جا کر ایک جگہ “حمام” کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ ترکوں کی معاشرت میں حمام کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔ ان کے ہاں حمام محض نہانے کے لئے ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ اس کی ایک مخصوص سماجی اہمیت ہے ۔ قدیم دور میں سیورج کا نظام نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیت الخلا اور نہانے دھونے کا انتظام کرنا مشکل ہوا کرتا تھا، اس زمانے میں حمام بنائے جاتے جن میں تازہ ٹھنڈے اور گرم پانی اور اس کی نکاسی کا اہتمام کیا جاتا۔ حمام ایک بڑے سے ہال کی صورت میں ہوا کرتا جس میں لوگ انڈر ویئر وغیرہ پہن کر نہایا کرتے ۔ مردوں اور خواتین کے لئے علیحدہ حمام ہوا کرتے تھے ۔ ان حماموں میں غسل کے علاوہ مساج پارلر بھی ہوتے تھے ۔ لوگ مساج کروانے کے ساتھ ساتھ گپ شپ بھی لگایا کرتے۔ اس طریقے سے حمام ایک سوشل سینٹر کی صورت اختیار کر جایا کرتا تھا۔

ابن بطوطہ اپنے دور میں ترکی کے حماموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہاں بعض ایسے حمام دیکھے جہاں مرد اپنی لونڈیوں کو لے کر گھس جاتے تھے اور بغیر کسی ستر کے غسل کیا کرتے تھے ۔ کسی بھی باحیا انسان کی طرح انہیں یہ بات سخت ناگوار گزری اور انہوں نے قاضی شہر سے کہہ کر اس رسم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہاں کے باشندوں کی بے حیائی کا ذکر کرتے ہوئے ابن بطوطہ بیان کرتے ہیں :

اس شہر کے لوگ برائی کو نہیں روکتے ۔ یہی معاملہ اس ملک کے اکثر افراد کا ہے ۔ یہ لوگ روم کی خوبصورت لونڈیوں کو خریدتے ہیں اور انہیں فساد پھیلانے (عصمت فروشی) کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہر لونڈی نے ایک مخصوص رقم اپنے مالک کو ادا کرنا ہوتی ہے ۔ میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ لونڈیاں مردوں کے ساتھ حمام میں چلی جاتی ہیں ۔ جو شخص فساد کا یہ کام حمام کے اندر کرنا چاہے ، اسے کوئی نہیں روکتا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اس شہر کے قاضی نے بھی اسی طریقے سے لونڈیاں رکھی ہوئی ہیں ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے حیائی صرف دور جدید کا فتنہ ہی نہیں ہے ۔ سابقہ ادوار میں بھی بے حیائی پائی جاتی تھی۔ موجودہ دور میں فرق یہ پڑا ہے کہ میڈیا نے اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا ہے ۔ عیاش لوگ پہلے زمانوں میں بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے جو آج کل ہوتا ہے ۔ خدا پرست لوگ اس دور میں بھی ایسے کاموں سے اجتناب کرتے تھے اور جدید دور میں بھی ایسی حرکتوں سے دور رہتے ہیں ۔

ترکی کے ٹورسٹ بروشرز میں حمام کا بہت شد و مد سے ذکر کیا گیا تھا۔ آج کل حمام کے ساتھ اسٹیم اور سوانا باتھ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ مساج کرنے کے بعد شاکنگ شاور کے تجربے کو بھی بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔ شاور کے بعد ماربل کے پلیٹ فارم پر آرام کیا جاتا ہے ۔ کچھ بروشرز سے ہمیں یہ معلوم ہوا تھا کہ ان میں مرد و خواتین اکٹھے غسل کرتے ہیں ۔ اس وجہ سے ہمیں یہ جرأت نہ ہو سکی کہ ہم کسی حمام میں داخلے کا تصور بھی کر سکیں ۔

محمد بولوی سے ملاقات

اب ہم واپس ہوٹل کی طرف جا رہے تھے ۔ سڑک کے کنارے ایک سیاہ رنگ کا بہت بڑا مجسمہ نصب تھا۔ میری خواہش تھی کہ کسی انگریزی بولنے والے سے ملاقات ہو سکے تاکہ کچھ یہاں کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں ۔ میری اہلیہ ماریہ کے لئے شاورما لینے دکان پر چلی گئیں ۔ اچانک ایک صاحب ہمیں دیکھ کر آئے اور کہنے لگے ، ” یو سپیک انگلش ” میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد ان صاحب سے کافی دیر گپ شپ ہوئی۔

ان کا نام محمد تھا۔ پیشے کے اعتبار سے یہ انجینئر تھے اور سویڈن میں تعلیم حاصل کر چکے تھے ۔ اس وجہ سے ان کی انگریزی کافی بہتر تھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے ، “آپ کہاں سے آئے ہیں ؟” میں نے کہا، “پاکستان سے مگر ان دنوں جدہ میں مقیم ہوں ۔”  بڑے خوش ہوئے اور بتانے لگے کہ سویڈن میں ان کے روم میٹ پاکستانی تھے اور ہوسٹل میں ان کے ساتھ کئی پاکستانی رہا کرتے تھے ۔

جس طرح ہم لوگ دوسری اقوام کی عجیب و غریب عادات کے بارے میں سن اور پڑھ کر محظوظ ہوتے ہیں اور ان کا ریکارڈ لگاتے ہیں ، بعینہ یہی معاملہ ان کا ہمارے بارے میں ہے ۔ محمد ریکارڈ لگانے کے سے انداز میں کہنے لگے : “مجھے تو پاکستانی بھائیوں کی یہ بات بڑی عجیب لگی کہ وہ روزانہ روٹی پکاتے تھے ۔” مجھے اس وقت تو ان کی بات سمجھ میں نہ آئی مگر اگلی صبح ناشتے پر ان کی بات کا اندازہ ہوا۔

ہم جس مجسمے کے پاس کھڑے تھے ، اس کے بارے میں وہ بتانے لگے کہ یہ شہر کے ایک بہت ہی نیک شخص کا ہے ۔ ان صاحب نے بہت سے طلباء و طالبات کو وظائف دیے اور بولو شہر کے لئے تعمیر کا بہت سا کام کیا ہے ۔ اظہار تشکر کے طور پر ان کا مجسمہ شہر کے مرکزی چوک میں نصب کیا گیا ہے ۔ ان کی بات سے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث یاد آئی کہ سابقہ اقوام میں بھی ایسا ہوتا تھا کہ نیک افراد کے مرنے کے بعد ان کے مجسمے بنا لیے جاتے تھے تاکہ ان کی یاد تازہ رہے ۔ کئی نسلوں کے بعد یہ مجسمے مقدس حیثیت اختیار کر جایا کرتے تھے اور ان کی پوجا شروع ہو جاتی تھی۔

محمد ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ اسلامی تاریخ پر ان کی نظر گہری تھی۔ انہوں نے بولو کے گرد و نواح سے متعلق قیمتی معلومات مجھے فراہم کیں ۔ میں نے ان سے اپنے ترکی کے سفر کے منصوبہ پر بات چیت کی تو وہ کافی متاثر ہوئے ۔ کہنے لگے ، “لگتا ہے ، آپ ترکی کے جغرافیے کا گہرا مطالعہ کر کے آئے ہیں ۔”

[جاری ہے ]

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (17) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. ibrahim says:

    very nice very impressive aap need but achieve baaten likhi hen Allah apko I ski jaza e khair ata kare or him sab KO sedha tasty per chalnay kind toufeque data made Aameen.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *