(2) فحاشی اور اسلامی تعلیمات ( Professor Aqil پروفیسر عقیل)

 

 

پروفیسر محمد عقیل

فحاشی اور اسلامی تعلیمات

(آخری قسط)

احادیث میں فحاشی کی مذمت

﴾ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ کے بارے میں بیان ہوتا ہے :

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو اور فحش کام کرنے والے نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب لوگوں میں مجھ کو وہ شخص زیادہ پسند ہے جو تم میں سب سے زیادہ خوش خلق ہو۔‘‘(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 996)

﴾ ایک اور حدیث میں بیان ہوتا ہے :

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف و مدح پسند نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے فحاشی کے کاموں کو حرام کیا ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2490)

﴾ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے ۔ فحاشی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جاتا ہے ۔‘‘(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2097)

﴾ ’’عبداللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں اسی لئے اس نے فحش باتوں کو حرام کیا ہے اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں ہے ۔‘‘( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2301)

﴾ بے حیائی کو ایک اور پیرائے میں بیان کیا گیا ہے:

’’ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ۔۔۔۔ ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت (یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے ۔‘‘( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1085)

اس حدیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اس میں صرف خواتین کی مذمت کی گئی ہے ۔ دراصل یہ حدیث اس روئیے کی مذمت میں آئی ہے جو جنس مخالف کو زنا کی جانب اکسانے کے لئے اپنایا جائے ۔ اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ اوباش اور آوارہ عورتیں ہیں جو خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں اور دوسروں کوبھی بھٹکانے کا باعث بنتی ہیں ۔ یہی رویہ اگر مردوں میں پایا جائے تو قابل مذمت ہے ۔ مثال کے طور پر کوئی آوارہ لڑکا عورتوں کو بہکائے، انہیں اپنے لباس، چکنی چپڑی باتوں، اپنی پرکشش شخصیت یا اپنے دولت کے جھانسے میں لے کر ان کو غلط کام پر اکسائے یا ورغلائے تو وہ بھی اس حدیث کی وعید میں آئے گا اور وہ بھی نہ جنت میں داخل ہو پائے گا اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکے گا۔

﴾ یہاں صرف عورتوں ہی پر قدغن نہیں لگائی ہے بلکہ مردوں کو بھی کچھ اقدام کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ حدیث میں بیان ہوتا ہے :

’’حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس (تنہائی میں) جانے سے بچو انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیور کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیور تو (تنہائی میں) موت ہے ۔‘‘( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1177)۔

﴾ نامحرم عورت کو چھونے میں اس قدر احتیاط رکھی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کسی نامحرم عورت کو نہیں چھوا ۔

’’حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں عورتوں کی بیعت کی کیفیت کی خبر دی کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ہاں جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے اور عورت (زبانی) عہد کر لیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (زبان سے) فرما دیتے جاؤ میں نے تجھے بیعت کر لیا۔‘‘( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 338)

﴾ آخر میں ایک اہم بشارت اس ضمن میں بیان کی گئی ہے :

’’سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (یعنی شرمگاہ) کا ضامن ہو تو میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں ‘‘(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1395)۔

فحاشی کی تعریف

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فحاشی کیا ہے :

’’فحاشی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو ناجائز جنسی لذت کے حصول کے لئے کیا جائے یا جس کے ذریعے جنسی اعضاء یا فعل کی اس نیت سے اشاعت کی جائے کہ جنسی اشتہا بھڑکے یا جنسی تسکین حاصل ہو ۔ ‘‘

وضاحت

زنا و اغلام بازی تو واضح طور پر ایک فحش عمل ہے۔ البتہ وہ امور جو زنا سے قریب کرنے کا ذریعہ ہوں وہ بھی فحاشی ہی ہیں ۔ چنانچہ شرعی اجازت کے بغیر بوس و کنار کرنا، نگاہوں کا جنسی مناظر دیکھنا، کانوں کا بے حیائی کی باتیں یا فحش موسیقی سننا، ہاتھوں کا جنسی لذت حاصل کرنا، زبان کا فحش گوئی میں ملوث ہونا اور دماغ کا فحش سوچوں میں غلطاں ہونا اسی لحاظ سے فحش فعل کے زمرے میں آتا ہے ۔

قرآن میں فحاشی زنا کو کہا گیا ہے ۔

’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے ۔‘‘(بنی اسرائیل 32:17)

حدیث میں بیان ہوتا ہے :

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابن آدم پر اس کے زنا سے حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ لا محالہ اسے ملے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل کا گناہ کی خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔‘‘ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2253)

فحش مواد

’’فحش مواد سے مراد وہ تحریر ، تصویر، وڈیو ، موسیقی، بات چیت ، اشارہ، لطیفہ ، عریانی یا کوئی اور طریقہ جس میں جنسی اعضاء یا فعل کو اس نیت سے دکھایا یا بیان کیا جائے کہ جنسی اشتہا بھڑ کے یا جنسی تسکین حاصل ہو ۔‘‘

مواد کے فحش ہونے کے لوازمات

کسی بھی موادکے فحش ہونے کے لئے درج ذیل باتوں کا ہونا ضروری ہے :

﴾ شرعی تعلق کے بغیر جنسی اعضا یا فعل کو دکھایا جائے یا بیان کیا جائے ۔

﴾ نیت جنسی اشتہا کے بھڑکانے یا جنسی تسکین کی ہو۔ چنانچہ میڈیکل ، قانونی یا کسی اور جائزمقصد کے تحت لٹریچر کی اشاعت فحش نہیں قرا پائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers, پروفیسر عقیل کے مضامین | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

3 Responses to (2) فحاشی اور اسلامی تعلیمات ( Professor Aqil پروفیسر عقیل)

  1. HMZ says:

    Subhan Allah!
    May Allah guide us all. Ameen.

  2. farah rizwan says:

    Jazakallahokhair ,sharing on my page, May Allah tala protect us all

  3. Amy says:

    Jazak Allah for this article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *