(20) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

ترکی کا سفرنامہ (20)

مبشر نذیر

ترک عصبیت 

دوسری قوموں کی طرح ترکوں میں بھی قومی عصبیت پائی جاتی ہے مگر ان کی عصبیت تعمیری ہے ۔ علم سماجیات کے بانی ابن خلدون کے مطابق عصبیت سے ہی قوم بنتی ہے ۔ انسان کے اندر یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو ایک گروہ یا قوم کا حصہ سمجھتا ہے ۔ کسی قوم میں یہ جذبہ جتنا طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے ، اتنا ہی قوم متحد ہو کر تعمیر کے راستے پر چلتی چلی جاتی ہے ۔

ہمارے ہاں قومی عصبیت کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ دوسری قوموں سے نفرت کی جائے اور اپنی قوم سے محبت۔ ترکوں کے ہاں ایسی عصبیت پائی نہیں جاتی۔ ان کے ہاں عصبیت کا معنی ہے کہ اخلاق اور کردار میں دوسری اقوام سے بہتر بنا جائے ۔ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تعمیری بنا جائے ۔ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اچھے انسان بنا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں اخلاق کا معیار بہت بلند ہے ۔ کرپشن بہت ہی کم ہے ۔ لوگ اچھے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ غیر ملکیوں کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو خاص طور پر اس کی مدد کی جاتی ہے ۔

ہمارے ہاں بھی اعلی اخلاق کے حامل افراد کی کمی نہیں ہے ۔ میرا تجربہ ہے کہ تعمیری لوگ کم ہی متعصب ہوا کرتے ہیں ۔ زیادہ تر تعصب ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جن میں خود کوئی کمی ہو۔ ایسے لوگ اپنے احساس کمتری کو چھپانے کے لئے تعصب کی آڑ لیتے ہیں ۔آپ شاید ہی کسی اعلی تعلیم یافتہ ایگزیکٹو، ڈاکٹر، انجینئر یا کامیاب بزنس مین کو تعصب میں مبتلا دیکھیں گے ۔ اس کے برعکس ایسے لوگ جو کاروبار میں ناکام رہ جائیں ، ملازمت حاصل نہ کر سکیں ، یا سرے سے کام ہی نہ کرنا چاہتے ہوں ، تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے افراد کو سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے قابو کر لیتی ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو احتجاجی مظاہروں میں نکلتے ہیں ، پتھراؤ کرتے ہیں ، گاڑیاں جلاتے ہیں ، گھروں کے شیشے توڑتے ہیں اور پٹرول پمپ اور بینک لوٹتے نظر آتے ہیں ۔

ہمارے ہاں جلسے جلوس کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر جلوس نکال کر معیشت کا پہیہ جام کر دیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس عمل سے کتنے گھروں میں چولہا نہ جل پائے گا۔ ہمارے ایک جاننے والے اپنی آنکھوں دیکھا منظر بیان کرتے ہیں کہ وہ کراچی کے صدر بازار میں کسی کام سے گئے ۔ ان دنوں پاکستان میں شراب پر پابندی نہیں تھی اور کھلے عام شراب فروخت ہوا کرتی تھی۔ کچھ لوگ اس کے خلاف جلوس نکال کر احتجاج کر رہے تھے ۔ صدر پہنچ کر شراب کی دکان کے سامنے یہ جلوس مشتعل ہو گیا اور انہوں نے شراب کی دکان پر حملہ کر دیا۔ اندر پہنچ کر جس کے ہاتھ میں شراب کی جو بوتل لگی، اس نے لوٹ کر اپنے تھیلے میں ڈالی اور اس کے بعد دکان کو آگ لگا دی۔ یہ وہ حضرات تھے جو شراب کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔

اگر ہم اس تکلیف دہ کلچر سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی خود کو تعمیری اور مثبت بنانا ہو گا۔ قوم کی تعمیر صرف اور صرف تعلیم اور اخلاقی تربیت سے ہوتی ہے ۔ ہمارے جو افراد دین کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ اس کام میں مخلص ہیں ، ان کے لئے کرنے کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ قوم کی اخلاقی تربیت کریں ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے وہ اپنی قوم کو عزت کا مقام دلوا سکتے ہیں ۔ جلسے جلوسوں سے لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے جبکہ اخلاقی تعمیر سے انہیں اپنے حقوق وصول کرنے کا نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

[جاری ہے ]

 

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (20) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Muhammad Usman says:

    ہمارے ہاں مذہبی فرقہ واریت عروج پر ہے میرا نہیں خیال کہ اس کا کوئی تعمیری پہلو بھی ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *