2014 سلسلہ روز و شب – اپریل ( Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سلسلہ روز و شب 

ابویحییٰ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبور میں پیش گوئی

محترم قارئین! قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعدد دلائل بیان ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک دلیل جو بار بار دہرائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پچھلے صحیفوں میں آپ کی آمد کی متعدد پیش گوئیاں بیان ہوئی ہیں اور بلاشبہ آپ ان صحیفوں میں بیان کردہ انبیا علیہم السلام کی پیش گوئیوں کا واحد مصداق ہیں ۔

حضرت داؤد اور حج بیت اللہ

مسلمان اہل علم پچھلی کتابوں کا مطالعہ کر کے ان پیش گوئیوں کی تفصیل بیان کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے ایک پیش گوئی اس طرح بیان کی جاتی ہے جو انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ میں کتاب متی ( باب44-42:21) میں اس طرح بیان ہوتی ہے :-

جس پتھر کو معماروں نے رد کیا

وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا

یہ خداوند کی طرف سے ہوا

اور ہماری نظر میں عجیب ہے ۔

اس پیش گوئی کا پورا مطلب ہم مضمون کے آخر میں بیان کریں گے۔ سردست یہ بات سمجھ لیں کہ یہ پیش گوئی اصل میں حضرت عیسیٰ کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ پہلے ہی سے یہود کی کتب میں لکھی ہوئی موجود تھی۔ چنانچہ اس پیش گوئی سے پہلے سیدنا مسیح یہودی علماء اور سرداروں سے فرماتے ہیں :

’’کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا۔ ۔ ۔ ‘‘

ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پیش گوئی کتاب مقدس میں حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے ہی کر دی گئی تھی اور اس کی اہمیت کی بنا پر حضرت عیسیٰ نے اس کو نہ صرف دہرایا بلکہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس میں اضافہ بھی کیا۔یعنی اصل میں یہ آنجناب کی پیش گوئی نہیں بلکہ کسی اور ہستی کے الفاظ ہیں جنھیں آپ نے دہرایا اور مزید وضاحت کی ہے ۔

قدیم صحف سماوی پر گہری نظر رکھنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ پیش گوئی دراصل حضرت داؤد علیہ السلام کی ہے اور یہ زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی جانے والی اہم ترین پیش گوئی ہے ۔ تاہم اس پیش گوئی کو جب انجیل سے لیا جاتا ہے تو اس میں استعمال ہونے والی تشبیہ و تمثیل یعنی پتھر اور کونے کا پتھر کی اصل معنویت کسی کو سمجھ میں نہیں آ سکتیں جب تک کہ یہ حقیقت معلوم نہ ہو کہ یہ پیش گوئی حضرت داؤد نے حج ادا کرتے ہوئے حرم پاک کے سامنے کی تھی۔

حضرت داؤد کے حالات زندگی

قارئین کو شاید یہ بات کچھ عجیب لگے کہ حضرت داؤد نے حج کب ادا کیا لیکن ان کی اپنی کتاب زبور میں اللہ کی حمد کے جو مزمور(گیت) انھوں نے گائے ہیں نیز دیگر تاریخی حقائق بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ حضرت داؤد نے نہ صرف یہ سعادت حاصل کی تھی بلکہ اپنی یہ مشہور پیش گوئی بھی اسی وقت کی تھی ۔ یہ پیش گوئی یہودیوں میں اتنی معروف تھی کہ سیدنا مسیح نے بغیر کسی خاص حوالے کے بے تکلف اسے ان کے سامنے بیان کر دیا۔

حضرت داؤد کے متعلق تاریخی طور پر مسلمانوں کو بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ حالانکہ وہ سلسلہ نبوت و رسالت کے اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں ، زبور جیسی مشہور آسمانی کتاب ان پر اتری اور قرآن کریم میں جابجا ان کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس پیش گوئی پر کچھ بات کرنے سے قبل حضرت داؤد کا کچھ  ذکر کر دیا جائے ۔ اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے حالات زندگی کو سمجھے بغیر یہ پیش گوئی سمجھ میں بھی نہیں آ سکتی ۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to 2014 سلسلہ روز و شب – اپریل ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Mumta Anjum says:

    Assalamu alikum, jazak Allah Khair for for such a rare known ilm. I have a request to please put the due respect signs with the names of Holy Prophets and As’haba karaam Ajmeen. Wassalam.

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *