2014 سلسلہ روز و شب – اگست (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

عالمی رویت ہلال اور مقامی رویت ہلال

 

محترم قارئین! رویت ہلال کے حوالے سے ہمارے ہاں جو اختلافات ہوتے رہے ہیں ان کی تاریخ کئی عشروں پر پھیلی ہوئی ہے ۔ مگر انفارمیشن ایج کے ساتھ اس میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ وہ یہ کہ بہت سے لوگ اپنے ملک میں نظر آنے والے چاند کو معیار بنانے کے بجائے کسی دوسرے ملک کے چاند کو معیار بنا کر روزے اور عید وہاں کے حساب سے منانے کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔ اسے ہم نے عالمی رویت ہلال کا نام دیا ہے ۔

اس حوالے سے آج میں ایک مضمون کا ترجمہ و تلخیص آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں جو بہت سادہ طریقے پر دین اور عقل عام کی روشنی میں ایک معقول بات آپ کے سامنے رکھ دے گا۔ اس سے واضح ہوجائے گا کہ عالمی رویت ہلال کا تصور نہ صرف دین کی اپنی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ عقلی اور عملی طور پر ممکن اور قابل عمل ہی نہیں ہے ۔ تاہم مضمون نگار سے اس اصولی اتفاق کے باوجود ہمیں ان کے اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے کہ انھوں نے عالمی رویت ہلال کے قائلیں کو اہل بدعت کے زمرے میں شامل کر لیا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ نقطہ نظر درست نہیں۔ یہ دراصل ایک علمی مسئلہ ہے جس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اس لیے اس میں جذباتی ہونے کے بجائے علمی طریقے پر اس کا جائزہ لینا چاہیے ۔

چنانچہ اصل مضمون سے پہلے میں یہ چاہوں گا کہ اہل علم کا اصل اختلاف سامنے رکھ دوں ۔ اس معاملے میں ہمارے فقہا میں جو علمی بحث ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک علاقے میں چاند نظر آ گیا تو وہ اور کہاں تک کے لوگوں کے لیے حجت ہو گا۔ بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ایک شہر کی رویت پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے حجت ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ نقطہ نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کوان کو اپنے اصل پس منظر میں نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ۔اللہ اور اس کا رسول کوئی ایسی چیز سارے مسلمانوں پر لازم نہیں کرسکتے جو عملاً ممکن نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں چاند کا ایک دن میں طلوع ہونا ممکن ہی نہیں (اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے )۔ اس حقیقت کو ہمارے تمام اہل علم مانتے ہیں۔ اس لیے اس باب میں زیادہ درست رائے ہمارے نزدیک یہ ہے کسی ایک شہر میں چاند نظر آ گیا تو وہ شہر جس ملک کا حصہ ہے ، نظم اجتماعی کی پابندی میں اس سارے ملک پر اس کا اطلاق ہو گا اور ملک کے ہر ہر شہر کے لوگوں کے لیے ضروری نہیں رہے گا وہ کہ اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ کر روزہ یا عید کا اہتمام کریں ۔ روایات کا درست مطلب یہی ہے۔ یعنی یہ بات کہ ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ ایک جگہ چاند نظر آ گیا تو پوری دنیا کے لوگ روزے شروع کر دیں ۔ اس بات کے مخاطب پوری انسانیت نہیں ، بلکہ ایک نظم اجتماعی یا ایک ملک کے لوگ ہیں ۔

دنیا بہت بڑی ہے اور چاند کا مختلف دنوں میں نظر آنا ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ اس لیے دوسرے ممالک کے لوگ اپنے ملک میں چاند کے نظر آنے پر روزہ رکھیں گے۔ یہی ہمارے نزدیک روایات اور اہل علم کے ارشادات کا مطلب ہے۔ یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا مطلب جس طرح یہ نہیں ہے کہ ہر ہر شخص اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ کر روزہ رکھے ۔ بلکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب نئے چاند کی اطلاع مل جائے توگویا نیا مہینہ طلوع ہو گیا سو روزے رکھ لو، ٹھیک اسی طرح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں چاند نظر آ سکتا ہے وہاں کہ لوگ روزہ رکھ لیں اور جس میں اگلے دن نظر آئے وہ اگلے دن سے روزہ رکھنا شروع کریں ۔

باقی ہمارے نقطہ نظر کے جو کچھ دلائل ہیں اس کا اچھا خلاصہ چونکہ اس مضمون میں آ گیا ہے اس لیے اب اپنی طرف سے مزید کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے یہ مضمون پیش خدمت ہے ۔ یہ مضمون انٹرنیٹ پر شائع ہوا تھا اور اس کا اردو ترجمہ ’’انذار‘‘ کے لیے محترمہ بت عتیق نے کیا ہے ۔

اصل مضمون

آج کل کچھ دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمان ’’عالمی رویتِ ہلال‘‘ کی رائے پر عمل پیرا ہیں ۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ اگر دنیا کے کسی خطے سے چاند دیکھنے کی شہادت موصول ہوجائے تو وہ لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر اس کے مطابق رمضان اور عید وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ طریقہ درست نہیں ۔ ثبوت کے طور پر چند احادیث کا مطالعہ کیجیے :

٭ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مقامی رویت ہلال ہی کا طریقہ رائج تھا اور انہوں نے اس ہی کی تلقین بھی فرمائی۔ یہ روایت امام مسلم اپنی صحیح میں درج ذیل عنوان کے ساتھ لائے ہیں :

’’ہر قصبے کی اپنی رویتِ ہلال ہے۔ کسی ایک قصبے میں چاند کا نظارہ دوسرے قصبے کے لیے لائقِ تقلید نہیں مانا جا سکتا جبکہ دونوں قصبے نمایاں فاصلے پر واقع ہوں ۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب 5)

اس عنوان کے تحت وہ روایت بیان کرتے ہیں :

٭ ایک صحابی (کریب) سے روایت ہے کہ ’’ام الفضل نے مجھے کسی کام سے حضرت معاویہ کے پاس شام بھیجا۔ میں شام ہی میں موجود تھا جب وہاں جمعہ کی رات کو رمضان کا چاند نظر آ گیا۔ اس مبارک مہینے کے اختتام پر میں مدینہ پہنچا تو حضرت ابنِ عباس نے مجھ سے شام کے بابت سوالات کیے ۔ مزید یہ بھی پوچھا کہ وہاں چاند کب دیکھا گیا۔ میں نے عرض کیا کہ ‘ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا’۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ‘کیا تم نے بذاتِ خود ہلال کا دیدار کیا؟’ میں نے کہا ‘جی میں نے اور دیگر بہت سے لوگوں نے بھی ہلال دیکھا اور حضرت معاویہ سمیت ہم سب نے اس کے مطابق رمضان کے روزے رکھے ‘۔ تب حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ‘مگر ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا لہٰذا ہم اس کے مطابق 30 دن تک روزے رکھیں گے یا پھر 29 کو (شوال کا) چاند نہ دیکھ لیں ۔’میں نے ان سے دریافت کیا کہ ‘کیا حضرت معاویہ اور ان کی رویتِ ہلال آپ کے لیے لائقِ تقلید نہیں ؟’ ۔ انہوں نے فرمایاکہ ‘نہیں ! حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی طریقہ سکھایا ہے۔ (مسلم 1819، ترمذی 629، نسائی 2084، ابوداؤد 1985، احمد 2653۔)

مندرجہ بالا روایت واضح ثبوت پیش کرتی ہیں کہ لوگ اپنے اعتبار سے چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ حضرت ابنِ عباس کو ایک ایسے شخص نے کہ جس نے بذاتِ خود چاند کا دیدار کیا، اس بات سے مطلع کیا کہ شام میں رمضان کا آغاز ایک دن قبل ہو گیا تھا، تب انہوں نے یہ کہہ کر شام کی رویت ہلال کی تقلید سے انکار کیا کہ یہ ان کی رائے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کہ دوسرے قصبے کی رویتِ ہلال کی تقلید لازمی نہیں ۔ اسلام اور شریعت کے احکامات وقت کے ساتھ نہیں بدلتے ۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2014 سلسلہ روز و شب – اگست (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Bayshak! Jazak Allah khair for sharing !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *