2014 سلسلہ روز و شب – تاریخ اورختم نبوت – مارچ ( Abu Yahya ابویحییٰ)

سلسلہ روز و شب 

ابویحییٰ

تاریخ اورختم نبوت

 محترم قارئین پچھلے ماہ تاریخ اور ختم نبوت کے حوالے سے ایک مضمون شروع کیا تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت اگر ختم کی گئی ہے تو اس سے قبل کس طرح دین کی حفاظت کا وہ اہتمام کیا گیا ہے جس کی بنا پر ہمارے دین کی تعلیمات اب ایک تاریخی مسلمے کی حیثیت سے دنیا کے سامنے موجود ہیں ۔ اس ماہ اس مضمون کا باقی اور زیادہ اہم حصہ آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔

رسول اللہ صلی وعلیہ وسلم کے دور میں بننے والی تاریخ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے اور 632ء میں دنیا سے رخصت ہوئے ۔ آپ نے 40 برس کی عمر میں اعلان نبوت فرمایا اور صرف 23  برس کی مختصر مدت کے بعد آپ انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب انسان کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوئے ۔ آپ کواپنی قوم پر جو غلبہ اور اپنے مشن میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس کے چند پہلو بہت اہم ہیں ۔ یہ پہلو درج ذیل ہیں ۔

۱) پوری قوم کا ایمان

آپ نے 40 برس کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا تو آپ تنہا مسلمان تھے۔ مگر 23 برس کے بعد جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے تو انسانی تاریخ کا یہ عجیب واقعہ رونما ہو چکا تھا کہ آپ کی پوری قوم یعنی بنی اسماعیل ، تمام کے تمام، آپ پر ایمان لا کر آپ کے پیروکار بن چکے تھے۔ آپ اور آپ کی قوم کے درمیان جاری کشمکش میں بمشکل ہزار لوگ ہی مارے گئے ۔ باقی قوم ایمان لے آئی اور آپ کا مشن پھیلانے کے لیے آپ کے بعد موجود رہی۔ خیال رہے کہ آپ کی قوم دنیا کے دور دراز خطے میں موجود کوئی چھوٹا قبیلہ یا گروہ نہ تھا بلکہ اُ س دور کی متمدن دنیا کے مرکز میں واقع لاکھوں مربع میل پر پھیلے ہوئے جزیرہ نما عرب میں لاکھوں افراد پر مشتمل ایک پوری قوم تھی۔

۲) تربیت کا بھرپور وقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن 8 ہجری میں فتح مکہ کے ساتھ پورا ہو گیا۔کفار مکہ کے قبول اسلام کے بعد تمام عرب سے آپ کی مخالفت ختم ہوگئی اور لوگ جوق در جوق ایمان لانے لگے۔ فتح مکہ رمضان 8 ہجری تا وفات ربیع الاول 11 ہجری تک آپ کے پاس ڈھائی برس کا وقت تھا جس میں لوگ آپ کے پاس آتے رہے اور دین سیکھتے رہے۔ آپ کے پاس پرامن حالات میں لوگوں کو دین سکھانے ، سمجھانے اور پھیلانے کے لیے 30 مہینے کا طویل وقت تھا۔ پھر آخری حج کے موقع پر تمام عرب سے کم و بیش ایک لاکھ  لوگ حج کے لیے آپ کے ساتھ آئے۔ گویا عرب کے ہر گھر، بستی، قریے کا ایک نہ ایک آدمی لازما ً اس موقع پر موجود تھا۔ اس حج کا خصوصی مقصد لوگوں کو یہ موقع دینا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دین سیکھ لیں ۔ اس طرح یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ جو دین آپ لائے وہ پوری قوم کو خود اپنی نگرانی میں سکھا کر رخصت ہوئے ۔

۳) مکمل سیاسی استحکام اور غلبہ

اس دنیامیں کسی بھی فکر کے لیے یہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی اور علمی بنیادوں پر مخالفین پر فتح حاصل کر لے تب بھی مخالفین کی سیاسی طاقت اس کے قدم جمنے نہیں دیتی۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں عرب پر مکمل سیاسی غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔ آپ پورے عرب کے بلا شرکت غیر حکمران تھے اور تمام مخالفین اسلام لے آئے ، ختم ہوگئے یا پھر ذلت آمیز محتاجی میں سر اطاعت خم کیے ہوئے تھے۔ یہ غلبہ آپ کے خلفائے راشدین کے درمیانی عرصے تک تقریباً اگلے 20 برس میں اتنا بڑھا کہ تمام متمدن دنیا آپ کے ابتدائی پیروکاروں کے سامنے مغلوب ہو چکی تھی۔ تمام دنیا کے خزانے، وسائل اور طاقت اب مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ چنانچہ اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں تھا کہ کوئی بیرونی یا اندرونی قوت بانی اسلام کی تعلیمات کے فروغ اور پھیلاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈال سکے۔ کیونکہ ہر طاقت مسلمانوں کے سامنے مغلوب ہو چکی تھی اور دنیا کا ہر خزانہ ان کے لیے کھل چکا تھا۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2014 سلسلہ روز و شب – تاریخ اورختم نبوت – مارچ ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *