(2014 سوال و جواب – (اکتوبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

حجِ بدل

سوال: السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔ سر آج آپ سے ’’حج بدل‘‘ کے حوالے سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ حج بدل کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اس طرح کسی اور کی جگہ حج کرنے پر دونوں کو ثواب ملتا ہے ؟ مطلب کہ جس کے بدلے پر حج کر رہے ہیں اُس کو اور کرنے والے کو، جبکہ جس کی جگہ حج کیا جا رہا ہو وہ حیات بھی ہو۔ اور کرنے والا اخراجات کی وجہ سے مجبور ہو مگر دل میں حج کرنے کی خواہش اور ارادہ رکھتا ہو۔ راحت عباس

جواب: دین کے تمام احکام بشرط استطاعت ہی فرض ہوا کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص اگر مالدار ہے تو اس پر زکوٰ ۃلازم ہے ورنہ نہیں ۔ یہی معاملہ دیگر احکام و عبادات کا اور حج کا بھی ہے ۔ اس کی فرضیت بھی علی الاطلاق نہیں بلکہ کچھ شرائط پر موقوف ہے ۔ مثلاً مال، جسمانی طاقت اور حرم تک کے راستے کا کھلا اور محفوظ ہونا۔ یہ چیزیں نہیں تو حج فرض ہی نہیں ہوتا نہ انسان اللہ کے ہاں ماخوذ ہوتا ہے ۔ اور یہ چیزیں ہوتے ہوئے بلا عذر حج نہیں کیا تو کسی اور کا حج کرنا اسے اس کی ذمہ داری سے بری نہیں کرا سکتا۔

تاہم روایات میں یہ بات آئی ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے مرحوم یا معذور بزرگوں کے حوالے سے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و تسلیم سے دریافت کیا تو آپ نے ان کی طرف سے حج کرنے کی اجازت دے دی۔ اصل اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حج بدل کرانا کوئی لازمی ذمہ داری نہیں ہے ۔ تاہم کوئی اپنے کسی عزیز کی طرف سے کرنا چاہے تو کرسکتا ہے گرچہ ایک دوسری روایت کے مطابق ثواب اسی کو ملتا ہے جس نے کیا ہو۔ اس روایت کے مطابق ایک عورت نے اپنے بچے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ بھی حج کرسکتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں مگر اس کا اجر تمھارے لیے ہے ۔(مسلم3263)۔ گویا یہ حج کا ذوق و شوق رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا اہتمام ہے کہ وہ اپنا حج کر چکے ہوں تو دوسروں کی طرف سے بھی کر لیں ۔ نہ کہ کوئی لازمی دینی حکم۔

رہا وہ شخص جو مجبور ہو لیکن دل میں اجر کی امید اور خواہش رکھتا ہو تو اطمینان رکھیے کہ اس کی نیت کی بنا پر اس کو حج کا بدلہ ویسے ہی دیا جائے گا جیسے کہ حج کرنے والے کو دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس کے حج نہ کرنے کی وجہ اس کی غفلت نہیں بلکہ معذوری تھی اور نیت کی بنا پر وہ اجر کا مستحق ہے ۔

اصول سمجھ لیں حج کی شرائط پوری نہ ہو تو لازمی نہیں ، لیکن اسباب و صحت کی وجہ سے نہ جا سکیں تو نیت کے مطابق اجر ضرور ملے گا۔ لیکن صحت رخصت ہونے کے بعد پیسہ آیا یا پہلے غفلت تھی اور بعد میں احساس ہوا اور توبہ کے جذبے سے معافی بھی مانگی اور اپنی جگہ کسی اور کو بجھوایا تب بھی اچھی بات ہے ۔

یہ تو قانون کی بات ہو گی۔ اب اصل اسپرٹ بھی سمجھ لیں ۔ حج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شیطان اور اللہ کے لشکر میں مسلسل جنگ جاری ہے ۔ ہم حج پر جا کر دراصل اس جنگ میں اپنا نام رجسٹر کراتے ہیں کہ مالک ہمیں بھی اس جنگ میں اپنی طرف سے قبول کر لے ۔ یہ گویا کہ جہاد کی تمثیل ہے ۔ اس جہاد میں کوئی نہ جا سکے لیکن گھر بیٹھے بھی شیطان کے خلاف لڑ رہا ہے تو اسے ان حاجیوں سے زیادہ اجر ملے گا جو وہاں جاتے ہیں اور اپنا نام اللہ کے لشکر میں لکھوائے بغیر واپس آ جاتے ہیں ۔ ہمیں اس اسپرٹ کو سمجھنا اور دوسروں کو سمجھانا چاہیے ۔ تبھی حج حج ہے ۔ ورنہ لوگ حج کرنے جاتے ہیں اور جیسے جاتے ہیں ویسے ہی واپس آ جاتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیطانی وساوس کا علاج

سوال: سلام بھائی جان۔ جب بھی کوئی نیکی کرنے لگتا ہوں یا ارادہ کرتا ہوں تو شیطان حاوی ہو جاتا ہے مطلب کہ ایسی سہولتیں سامنے ہوتی ہیں کہ دل نہیں کرتا نماز کے لیے اٹھنے کو بھی۔ جیسا کہ انٹر نیٹ۔ نیند، فلمیں اور موبائل میسجز وغیرہ۔ زندگی میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو ایک انسان کو اسلام سے دور کر دیتی ہیں۔ جب بھی کوئی گناہ ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ تو توبہ کرتا ہوں لیکن کچھ ہی وقت کے بعد ویسے کا ویسے ہی۔ ۔ ۔ ایسا کوئی عمل قرآن و سنت سے بتائیں کہ انسان کے ذہن میں کوئی برا خیال بھی نہ آئے ۔ اگرآئے تو فوراً چلا جائے ۔ اور زندگی اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزر جائے ۔ جزاک اللہ، وقاص احمد۔

جواب: اس طرح کے مسائل کا حل صرف اور صرف استقامت ہے ۔ مثلا نماز کا وقت آئے تو فوراً نماز پڑھ لیں ۔ یہی معاملہ گناہ سے بچنے کا ہے کہ اس کے لیے قوت ارادی کو استعمال کریں ۔ یہ بات کہ دل میں برا خیال نہ آئے تو ایسی کوئی چیز قرآن و سنت میں نہیں ۔ برا خیال تو آئے گا۔ مگر آپ کو اس سے جنگ کرنا ہو گی۔ جنت اسی کا بدلہ ہے ۔ ہاں گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کر لیں ۔ جب تک توبہ کرتے رہیں گے ۔ گناہ کا جذبہ کم ہوتا رہے گا۔ ا س کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ میری کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان ‘‘اس مقصد کے لیے بہت اہم ہے جس سے قرآن و حدیث کا ایک منتخب ذخیرہ ہر روز آپ کے زیر مطالعہ رہے گا اور انشاء اللہ یہ نیکی کی طرف بلانے اور گناہ سے روکنے میں بہت مفید ثابت ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمازکے ممنوع اوقات

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید کرتی ہوں کہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے آپ اور آپ کے اہل خانہ ٹھیک ہوں گے ۔ میرا سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے ایک سوال ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ ان اوقات میں سجدہ کرنا منع ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ سورج کا طلوع و غروب ان اوقات میں ہوتا ہے جو اسلامی کیلنڈر میں لکھے ہوتے ہیں یا ان اوقات میں جن میں وہ طلوع و غروب ہونا شروع ہوتے ہیں ۔ موجودہ دنوں میں لندن میں کیلنڈر کے مطابق فجر کا وقت 4 بجے ہے اور سورج کے طلوع کا وقت 6 بجے ہے تا ہم 5:45 پر ہی روشنی بہت زیادہ ہو چکی ہوتی ہے ۔لہٰذا ہمیں ممنوعہ اوقات میں سجدہ کرنے سے بچنے کے لیے کتنا وقت انتظار کرنا چاہیے ؟ ، مدیحہ محمد۔

جواب: پہلے یہ سمجھ لیں کہ احادیث میں اصل ممانعت طلوع و غروب آفتاب اور عین نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے کی ہے نہ کہ سجدہ کرنے کی۔ جو لوگ سجدہ نہ کرنے کے بھی قائل ہیں وہ ان کا استنباط ہے ۔ میری رائے میں سجدہ کیا جا سکتا ہے ۔ البتہ عین سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت اس سے بھی اجتناب بہتر ہے ۔ اصل ممانعت نماز کی ہے ۔ چنانچہ ان اوقات میں نفل نمازیں نہیں پڑھنی چاہییں ۔

باقی رہے کیلنڈر تو یہ سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں اس لیے بالعموم ٹھیک ہوتے ہیں ۔ فجر کے بعد روشنی پھیل جاتی ہے ، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سورج طلوع ہو چکا ہے ۔ سورج طلوع ہوتا ہے تو نظر آ جاتا ہے ۔ بلند عمارات کی وجہ سے نظر نہ بھی آئے تب بھی جو وقت دیا ہوتا ہے وہ ٹھیک ہی ہوتا ہے ۔ اس وقت کے پندرہ منٹ بعد جب سورج تقریباً ایک میٹر سے زیادہ اونچا ہوجائے اور اس میں پیلاہٹ آجائے تو نوافل پڑھے جا سکتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (2014 سوال و جواب – (اکتوبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *