(2014 سوال و جواب – جون) (Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

انبیا کے نام کے ساتھ علیہ السلام لگانا

سوال: السلام علیکم

میں ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ اور ’’ قسم اس وقت کی‘‘ کا ایک باقاعدہ خریدار اور ڈسٹری بیوٹر ہوں۔ تاہم اس کے علاوہ میں اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیتا ہوں ۔ اس بار مجھے اپریل کے ماہنامہ انذار کی کاپی بھی ملی۔ یہ موجودہ روائتی طریقوں سے ذرا مختلف انداز میں دین کی تشریح کو اچھے انداز میں پیش کرنے کی ایک عمدہ کاوش ہے ۔ اس کے متعلق میری رائے درج ذیل ہے ۔

۱۔ ’’انذار‘‘ میں گفتگو کا انداز ادبی اور فلاسفی طرز کا ہوتا ہے جو کہ عام لوگوں کے لیے کبھی مشکل بن جاتا ہے ۔ اس کو آسان انداز میں بیان کرنے کے لیے کوشش درکار ہے ۔

۲۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ درود شریف لکھتے ہیں لیکن میری نظر سے گزرا کہ آپ نے حضرت داؤد علیہ السلام کے نام مبارک کے ساتھ علیہ السلام نہیں لکھا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ فرض ہے یا نہیں لیکن ان کی عزت و شرف کو سامنے رکھتے ہوئے یہ زیادہ مناسب ہے کہ ان کے اور دوسرے تمام انبیاء علیھم السلام کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جائے ۔

اللہ پاک آپ کی محنت شاقہ کو قبول فرمائیں اور ہمیں اسلام کو اس کی اصل صورت میں سمجھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ محمد قاسم جان

جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ای میل اور فیڈ بیک کا بے حد شکریہ۔ اللہ تعالیٰ  آپ کی دعوتی جدوجہد کو قبول فرمائے اور آپ کو اپنے کاموں میں لگائے رکھے ۔

انذارکو سراہنے کا شکریہ۔ اس کے بارے میں آپ کی دونوں باتیں درست ہیں۔ یہ بات کہ انذار کے بعض مضامین علمی نوعیت کے ہوتے ہیں اور کچھ ادبی اسلوب میں لکھ دیے جاتے ہیں بالکل درست ہے ۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے مضامین بہت سادہ اور آسان ہوتے ہیں ۔ دراصل میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے قارئین جس سطح کو لے کر میرے پاس آئیں ، واپس جائیں تو ان کی سطح کچھ بلند ہو چکی ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض قارئین کی سطح علمی ہوتی ہے ۔ بعض مضامین کا تقاضہ ہوتا ہے کہ ان کی زبان ایک خاص سطح پر رکھی جائے ۔ اس لیے بعض اوقات کچھ مضامین کو ایک خاص انداز سے لکھنا پڑتا ہے ۔

رہی دوسری بات توبلاشبہ انبیا علیہم السلام ہمارے لیے انتہائی مقدس ہستیاں ہیں ۔ ان کا ادب ضروری ہے ۔ ان کی اہانت کا ہلکا سا پہلو بھی ایمان کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دین اپنی تعلیمات میں انبیا کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھنا اور ہر موقع پر لکھنا لازم نہیں قرار دیتا۔ یہ ایک مندوب اور پسندیدہ ہی ہے ۔ بدقسمتی سے اس خاص معاملے میں ہمارے ہاں غلو بڑھتا جا رہا ہے ۔ یعنی انبیا کے ناموں یا ان کے ذکر کے ساتھ علیہ السلام وغیرہ لکھنا اب کم و بیش فرض سمجھا جاتا ہے ۔ جو یہ نہ کرے وہ بے ادب اور گستاخ قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے اسلاف اور اہل علم تو اس چیز کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و الاصفات کے لیے بھی فرض قرار نہیں دیتے ۔ مثلا امام اعظم اور امام مالک کے نزدیک زندگی میں ایک دفعہ درود پڑھنا فرض ہے اور اس کے علاوہ مستحب ہے ۔ یہی جمہور علما کا مسلک ہے ۔ جب کہ بعض اہل علم جیسے امام سخاوی کی رائے ہے کہ کسی مجلس میں ایک دفعہ آپ کا نام نامی آنے پر درود پڑ ھنا واجب ہے اور اس کے علاوہ مستحب۔ یہی بات ابن عابدین نے درالمحتار میں بیان کی ہے ۔ یہ بڑی جامع، متوازن اور عمدہ رائے ہے ۔

میں اسی رائے پر عمل کرتا ہوں ۔ یعنی بعض مواقع پر میں انبیا کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھ دیتا ہوں اور بعض مواقع پر جان بوجھ کر نہیں لکھتا۔ لکھتا اس لیے ہوں کہ لوگوں کو ترغیب ہو اور چھوڑتا اس لیے ہوں کہ لوگ جان لیں کہ یہ فرض نہیں ہے ۔

امید ہے میرا نقطہ نظر واضح ہو گیا ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گناہ کبیرہ سے متعلق سوال

سوال: اسلام علیکم

کچھ سوال ہے جو میرے ذہن سے جاتے نہیں شیطان بار بار انکو میرے ذہن میں ڈالتا ہے ! وہ یہ ہے کہ کیا قتل، زنا اور اس جیسے گناہ کبیرہ اگر کسی سے سرزد ہوجائیں تو اس وقت تو خلافت نہیں ہے کہ اسے سزا دی جائے تو کیا اس شخص کی سچے دل سے معافی کے بعد اللہ تعالی اسے معاف کر دے گا؟ کیا یہ کبیرہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں ؟ برائے مہربانی میرے اس سوال کا جواب دیجیے ۔ ریاضت خان

جواب: قرآن کریم سے واضح ہے کہ توبہ کرنے سے ہر گناہ معاف ہو سکتا ہے ۔ چاہے زنا ہو یا اور کوئی کتنا ہی بڑا گناہ کیوں نہ ہو۔ تاہم قتل بہت بڑا اور سنگین جرم ہے ۔ کسی کی جان لینا ایک انسان، خاندان بلکہ پوری انسانیت کو مار ڈالنے کے برابر ہے ۔ اس کی سنگینی یہ ہے کہ اللہ سے تو معافی مانگ لی لیکن جس انسان سے معافی مانگنی ہے وہ اس دنیا ہی میں موجود نہیں رہا۔ اس کے خاندان کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ہر حال میں ایک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ اس لیے کسی بے گناہ کے قتل عمد کی سزا بھی بہت زیادہ ہے اور ا سکی معافی کا امکان بہت کم  ہے سوائے اس کے کہ کوئی شخص اپنی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دے ۔ ایسا شخص اگر اللہ کے حضور معافی چاہتا ہے تو دین میں اس حوالے سے جو دنیوی ضابطہ ہے وہ درج ذیل ہے :

﴾ مجرم اپنے آپ کو قتل کے لیے ریاست کے سامنے پیش کر دے ۔

﴾ ریاست اسے مقتول کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دے ۔

﴾ یا پھر مقتول کے ورثا اپنی مرضی سے اسے معاف کر دیں

﴾ وہ شخص مقتول کا خوں بہا دے

ان سب کے ساتھ وہ شخص سچے دل سے توبہ کرے ، اپنے ایمان کی تجدید کرے۔ اگر مقتول کے ورثا معاف کر دیں تو ان کا اور ساری انسانیت کا خیر خواہ بن کر زندگی گزارے ۔ ورنہ اعتراف جرم کر کے اور توبہ کرتے ہوئے پھانسی پر چڑھ جائے ۔ تبھی جا کر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ درگزر کا معاملہ کریں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (2014 سوال و جواب – جون) (Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Riyazat Khan says:

    آپ کا بہت بہت شکریہ….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *