2014 سوال و جواب – ستمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

کتاب متروک

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سورہ الفرقان کی آیت 30 (وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا یعنی ’’ اور رسول کہیں گے کہ اے رب میری قوم نے اس قرآن کو۔’مہجور‘ بنالیا تھا۔‘‘) سے متعلق درج ذیل سوالات ہیں :

اِس قولِ رسول کا موقع دنیا ہے ، یا آخرت؟

“قَوْمِی” سے مراد مسلم ہیں ، یا غیر مسلم؟

“مَہْجُورًا” کا مطلب کیا ہے ؟

کیا اِس آیت کا انطباق مسلمانوں پر ہو سکتا ہے ، جن کے درمیان عملاً قرآن’’ کتاب مھجور‘‘ بن چکا ہے ؟

محمد ذکوان ندوی

جواب:

یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے وہ مشرکین مکہ کا یہ اعتراض ہے کہ ہم اس رسول اور اس کلام کو نہیں مانیں گے جب تک ہم فرشتوں اور خود اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں یا وہ ہم تک خود اپنا پیغام نہ پہنچائیں ۔ جواب میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جس روز یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس روز ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں ہو گی۔ اس کے بعد کی آیات قیامت کے دن کے ہی حوالے سے ہیں ۔ اور آخر میں آیت 30 میں اس گواہی کا ذکر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیں گے ۔ اس روشنی میں آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں ۔

۱) قول رسول کا موقع روز قیامت ہے ۔

۲) قومی سے مراد مشرکین مکہ ہیں یعنی غیر مسلم۔

۳) مھجورا کے مادے کے لحاظ متعدد ترجمے کیے گئے ہیں ۔ ایک ترجمہ ترک کرنے یا چھوڑنے کا کیا جاتا ہے۔ تاہم میرے نزدیک قرآن مجید کی اسی سورت کے آغاز میں آیت 4 اور 5 میں بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ قران کو افک یعنی جھوٹ اور اساطیر الاولین یعنی پچھلوں کی داستانیں قرار دیتے تھے ۔ لہٰذا ’مہجور‘ کے الفاظ سے غالبا اسی طرف اشارہ ہے کہ انہوں اس عظیم کتاب کو ماننے کے بجائے اسے اپنی فضول بکواس کا موضوع بنائے رکھا تھا۔

۴) چوتھے سوال میں آپ غالبا کتاب مھجور سے مراد کتاب متروک لے رہے ہیں ۔عملاً تو یہ بات بالکل ٹھیک ہے ۔ ماننے والے جب ماننے کے باوجود کتاب کو چھوڑ دیں تو اس پر سب سے اچھا تبصرہ خود اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ (101) میں یوں کیا ہے کہ ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب الہی کو اپنی پیٹھ کے پیچھے اس طرح پھینک دیا کہ گویا وہ اسے جانتے ہی نہیں۔ یا جس طرح سورہ جمعہ (5) میں کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے گدھے سے تعبیر کیا ہے ۔

ظاہر ہے کہ ہم مسلمانو ں نے جس طرح قرآن مجید کو نظر اندار کیا ہے اور اسے بالکل پیچھے کر دیا ہے اس پر یہی تبصرہ کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ ہمارا اصل مسئلہ اور جرم یہی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے ۔ ہمیں اپنے لوگوں کو قران مجید کی طرف لانا چاہیے ۔ یہی کرنے کا کام ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے قران مجید کو پیٹھ پیچھے بھی پھینک رکھا ہے اور کتاب متروک بھی بنارکھا ہے ۔ اس پہلو سے ہم بھی سورہ جمعہ والے گدھے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلاوت قران سے متعلق ایک حدیث

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے ۔ جب سے میں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا اور خالق کائنات کی نازل کردہ کتاب پر توجہ دینی شروع کی تو مجھے پتہ چلا کہ جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے ، یہ واقعی انسانیت کے لیے ہدایت ہے ۔ اور میرا یہ ماننا ہے کہ یہ کتاب اللہ ہے تو اسے صرف نیکیوں کے حصول کے لیے ہی نہیں پڑھنا چاہیے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ہر کتاب، میگزین اور اخبار پڑھتے وقت اس کا سمجھنا یقینی بنائیں لیکن قرآن پاک کو بلا سمجھے پڑھتے جائیں ؟ اور جب میں نے یہ حدیث سنی کہ الف لام میم پڑھنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں تو میں اور زیادہ کنفیوز ہو گیا کیوں کہ اس کے ظاہری مطلب سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور جب میں نے سورۃ فرقان میں یہ پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود امت کے خلاف کیس دائر کریں گے اور قرآن پاک کو اس پر گواہ بنائیں گے تو مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوا کہ اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کے بغیر اور سمجھے بغیر قرآن پاک پڑھنا غلط ہے ۔برائے کرم آپ اس حدیث کی سند کے بارے میں بتا دیجیے ۔ جزاک اللہ خیر

نجم، کینیڈا

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے بالکل درست فرمایا۔ قرآن مجید کو سمجھ ہی کر پڑھنا چاہیے ۔ باقی جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے وہ درج ذیل ہے ۔

من قرأ حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنۃ ، والحسنۃ بعشر أمثالہا لا أقول (الم) حرف ولکن : ألف حرف ولام حرف ، ومیم حرف). (صحیح الجامع 6469)

امام البانی نے اس کو درست قرار دیا ہے ۔ تاہم میرے نزدیک حدیث کا موقع محل سمجھ لیا جائے تو کوئی اشکال نہیں رہتا۔ یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو اس کے مخاطب صحابہ کرام ہی ہیں ۔ عربی ان کی اپنی زبان ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا ہے ۔ اب ایسے میں اگر ان سے یہ بات کہی جائے تو اس میں یہ بات خود بخود شامل ہے کہ یہ لوگ جب بھی قرآن پڑھیں گے تو لازماً سمجھ رہے ہوں گے ۔ کیونکہ ان کے لیے پڑھنا اور سمجھنا بالکل ایک ہی ہے ۔ مگر ہمارے لیے یہ دو الگ الگ کام ہیں ۔ اس لیے ہمیں اس روایت پر اشکال محسوس ہوتا ہے ورنہ اپنے موقع محل میں یہ روایت ایک بالکل سیدھی سی بات بتا رہی ہے کہ یہاں پڑھنے میں سمجھنا ہر حال میں شامل ہے ۔ امید ہے بات واضح ہوگئی ہو گی۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل عرب میں نبوت کیوں ؟

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ماشاء اللہ سر ، آپ نے بہت مشکل ٹاپک کی بہت آسانی سے وضاحت کی۔ میرا ایک سوال ہے برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے عرب معاشرے کو ہی کیوں منتخب کیا؟ ہم سنتے آئے ہیں کہ حضرت آدم کو سری لنکا کے علاقے میں اتارا گیا۔ اور یہ سارا سلسلہ عرب کیسے پہنچا۔ دنیا میں اور بھی سولائزیشنز تھیں ؟ نجم، کینیڈا

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حضرت آدم علیہ السلام کے سری لنکا میں اترنے والی بات کسی مستند ماخذ میں موجود نہیں صرف ایک مشہور بات ہے ۔

جہاں تک عرب کے انتخاب کا تعلق ہے تو اصل انتخاب حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا کیا گیا تھا۔ چنانچہ پہلے ان کی اولاد کے ایک حصے یعنی بنی اسرائیل کو نبوت و امامت عالم سے سرفراز کیا گیا اور تقریبا ڈیڑھ ہزار برس تک دنیا کی ہدایت و رہنمائی ان کے ذریعے سے کی جاتی رہی۔ تاہم جب ان کا بگاڑ حد سے زیادہ بڑھا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ کا بھی انکار کر دیا تو انھیں اس منصب سے معزول کر دیا گیا۔

اس دوران میں حضرت ابراہیم کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل کی اولاد عرب میں ایک قوم بن چکی تھی۔ چنانچہ ان کے درمیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ 23 برس کی جدوجہد کے بعد عرب معاشرے نے اسلام کو مکمل طور پر قبول کیا اور پور ی دنیا پر شہادت حق کی وہی ذمہ داری ادا کی جو اس سے قبل بنی اسرائیل ادا کرتے رہے تھے ۔

چنانچہ پچھلے چار ہزار برس سے دنیا میں وہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کے منصب پر فائز ہیں جن کا تعلق آل ابراہیم سے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to 2014 سوال و جواب – ستمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. emad says:

    Jazak Allah khair
    Allah aap ko qayem aur sehat de Amin

  2. Kulsoom Alu says:

    Nice
    Concept is clear

  3. mrs.hassan says:

    Assalam o Alekum

    Subhan Allah aap ne bahut acha explain kea.Jazak Allah bhai.Allah aap ki omer draz kry aameen.

  4. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *