2014 مکاتیب – دسمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

 

مکاتیب

ابو یحییٰ

ڈاکٹر اسرار مرحوم کے جانشین

محترم المقام حافظ عاکف سعید صاحب 09/11/2014

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

آپ کے زیر ادارت چھپنے والے رسالے ماہنامہ میثاق میں محترم  پروفیسر عبداللہ شاہین صاحب کا ایک مضمون بعنوان’’کیا بائبل کا مطالعہ ضروری ہے ؟‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے ۔ یہ مضمون اس عاجز کے ایک وضاحتی مکتوب کی تردید میں لکھا گیا ہے جو ماہنامہ انذار میں اگست 2014 میں شائع ہوا۔

میں اس مضمون کے مندرجات پر تبصرے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اس خط کا اصل مقصود ایک اہم گزارش پیش خدمت کرنا ہے ۔ وہ یہ اگر آپ اور آپ کی تنظیم فاضل مصنف کی اس رائے سے متفق ہیں کہ مسلمان اہل علم کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ قدیم صحف سماوی کا مطالعہ کریں اور قدیم صحف سماوی کی کوئی چیز چاہے وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو اسے نقل نہ کیا جائے تو پھر ایک اہتمام ضرور کر لیجیے ۔ وہ یہ کہ مرحوم ڈاکٹر اسرار صاحب کی وہ تمام تقریریں اور تحریریں جن میں قدیم صحف سماوی کے حوالے ، بائبل کے حوالے سے بیان کردہ واقعات اور اسرائیلی روایات نیز یہود ونصاریٰ کی تاریخ اور انبیائے سابقہ کی تعلیمات بیان ہوئی ہیں ، آپ مہربانی فرما کر تحریر و تقریر کے اس مجموعے سے یہ چیزیں پہلی فرصت میں حذف کروانے کا اہتمام فرمالیجیے ۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد قول اور فعل کا یہ تضاد اچھا نہیں لگتا۔

اس عاجز کو پندرہ بیس برس تک ڈاکٹر صاحب کی نشستوں میں بیٹھ کر براہ راست یا دوسرے ذرائع سے ان کی تقریریں سننے اور کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہے ۔ ڈاکٹر صاحب مفسر قرآن تھے ۔ امم سابقہ کے حالات کا مسلمانوں سے تقابل ان کا خصوصی موضوع رہا ہے ۔ معمولی علم وعقل کا شخص بھی یہ بات سمجھ سکتا کہ قرآن کی تفسیر کرنے اور امم سابقہ کو اس سطح پر موضوع بنانے والے شخص کے لیے ممکن ہی نہیں کہ کتب سابقہ کے واقعات ، بیانات، حوالہ جات اور تاریخی تفصیلات بیان کیے بغیر گزر جائے ۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب ساری زندگی یہ سب کچھ عوام الناس میں بیان کرتے رہے ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوکہ قدیم صحف سماوی کے بالواسطہ اور بلا واسطہ حوالہ جات جتنے کچھ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی تقریروں اور تحریروں میں ملتے ہیں ، تیس چالیس برسوں میں اس کی کوئی مثال کسی دوسرے عالم کے ہاں نہیں ملتی۔

اس بات کو سمجھانے کے لیے مجھے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ، اسی شمارے میں جس میں اس خاکسار کو اسی جرم میں ’’کچھ زیادہ ہی جدیدیت ‘‘کا مجرم قرار دیا گیا ہے ، ڈاکٹر صاحب مرحوم کی سورہ کہف کی تفسیر کا ایک جز شائع ہوا ہے ۔ اس میں واقعہ موسی وخضر علیھما السلام کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ۔

’’اس واقعے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور قدیم اسرائیلی روایات میں بھی، جن میں سے بہت سی روایات قرآن کے بیان سے مطابقت رکھتی ہیں ۔ بہرحال ان روایات سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان کے مطابق۔ ۔ ۔ ‘‘، ( صفحہ 16)

اس مقام پر ڈاکٹر صاحب قدیم صحف سماوی سے آگے بڑھ کر اسرائیلی روایات کی بنیاد پر اس واقعے کی تفصیل بیان کر رہے ہیں ۔ وقت نہیں ورنہ میں صرف اپنی یاداشت ہی سے درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں جن میں ڈاکٹر صاحب نہ صرف کتب سابقہ کے حوالے دیتے ہیں بلکہ بعض جگہ تو شریعت کے بعض احکام جیسے رجم میں ان کا موقف ہی یہ ہے کہ اس کا ماخذ تورات ہے ۔ اس فقیر کا نقطہ نظر اگر ’’کچھ زیادہ ہی جدیدیت ‘‘ کے زمرے میں آتا ہے تو ڈاکٹر صاحب کی ’’جدیدیت ‘‘ کا حدود و اربعہ تو اتنا پھیلا ہوا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے لیے کیا الفاظ استعمال کیے جائیں ۔

اس لیے مودبانہ گزارش یہ ہے کہ اس فقیر کو بدنام کرنے کے لیے آپ اورآپ کی تنظیم نے کوئی اصولی فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ تنظیم کے لوگ اس عاجز کی تحریروں پر طبع آزمائی کرتے اور آپ اطمینان سے اپنے رسالے میں اسے شائع کر دیتے ہیں تو مہربانی کر کے کچھ ایسے موضوعات کا انتخاب فرمائیے جن کی زد ڈاکٹر اسرار مرحوم پر نہیں پڑتی ہو۔ پچھلی دفعہ بھی آپ کی تنظیم کے ایک دوسرے صاحب نے بڑی محنت سے میرے خلاف ایک مضمون لکھا ۔ مگر جہاں اور بہت سے جھوٹے الزام و بہتان اس تنقید کا حصہ تھے ، وہیں وہ یہود کے اس رویے کی حمایت کرتے ہوئے جسے اللہ تعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی ابتدا میں فساد فی الارض کہتے ہیں ، ’’سپر پاور کی غلامی سے نجات کی غیرت مندانہ جدو جہد‘‘ قرار دے بیٹھے ۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر ایمان سلب کر دینے والے اس جرم عظیم کی طرف ان کی توجہ دلائی ۔ مگر ساتھ میں بڑے ادب سے انھیں یہ بھی بتانا پڑا کہ یہود پہ میری جس تنقید پر آپ اتنے چراغ پا ہو رہے ہیں ، اس کی تفصیلات اس عاجز نے بیس پچیس برس قبل ڈاکٹراسرارمرحوم ہی سے سنی تھیں۔

اس لیے محترم المقام جو مہم چلانی ہے چلایے ، جھوٹے الزام و بہتان کے جو تیر برسانے ہیں برسایے ، اس لیے کہ یہ عاجز ایسی چیزیوں کو اپنی آخرت کا عظیم سرمایہ سمجھتا ہے ، مگر خدارا آئندہ یہ اہتمام ضرور کر لیا کریں کہ اس مہم جوئی کی زد ڈاکٹر اسرار مرحوم پر نہ آتی ہو۔ اس فقیر نے ڈاکٹر صاحب سے بڑا استفادہ کیا ہے ۔ اسے ڈاکٹر صاحب کے جانشینوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر نہ صرف بہت دکھ ہوتا ہے بلکہ ایسے نالائق علمی ورثے کو دیکھ کر دل بھی بہت کڑھتا ہے جو ڈاکٹر صاحب کے نام پر شہرت اور ناموری تو خوب حاصل کر رہے ہیں ، مگر انقلاب کے علاوہ ان کی کسی علمی بات کو سمجھنے کی معمولی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔

ایک آخری درخواست یہ ہے کہ جب کبھی کوئی شخص ڈاکٹر صاحب کو اس وجہ سے مطعون کرنے کی کوشش کرے کہ ان کے ہاں بائبل، اسرائیلی روایات ، قدیم صحف سماوی اور انبیائے سابقہ کا ذکر بہت ہوتا ہے تو اس موضوع پر اس فقیر کے مضامین سے ضرور استفادہ کیجیے گا۔ یہ بہت کام آئیں گے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا دفاع آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے ۔ نہ یہ مضمون شائع کر کے آپ اخلاقی طور پر اس قابل رہے ہیں کہ ان کے دفاع میں کچھ کہہ سکیں ۔

باقی پروفیسر عبداللہ شاہین سے بہت معذرت کہ میں نے ان کے مضمون پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ انھوں نے اس حوالے سے میرا اصل مضمون پڑھا، نہ اس کے دلائل کو دیکھا، نہ میرے مکتوب کو دیانتداری سے نقل کیا ، نہ اس پر کوئی علمی سطح کا تبصرہ کیا۔ اس فقیر کے نزدیک غیر متعلق اور غیر مستند چیزوں پر مشتمل کسی تنقید کا جواب دینا اپنے وقت کا زیاں ہے ۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب کہ اس معاملے سے متعلق واحد روایت جو حضرت عمر کے حوالے سے مشہور ہے ، میں اس کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ اس کا ایک راوی متہم بالکذب ہے اور یہ روایت محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔ پھر بھی اس روایت کو نقل کر کے جو لوگ جھوٹا پروپیگنڈا کریں ان کوجواب دینا کار لاحاصل ہے ۔

کوئی بات گراں خاطر گزری ہو تواس کے لیے معذرت چاہتا ہوں ۔

والسلام

بندہ عاجز

ابو یحییٰ

 ____***____

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2014 مکاتیب – دسمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Muhammad Usman says:

    سر آپ تو چڑھ دوڑے ہیں خیر وقت کا تقاضا بھی یہی تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *