2014 مکاتیب – ستمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

 

مکاتیب

ابو یحییٰ

بائبل میں قیامت کا تصور

[یہ خط ایک مسیحی کے اس اعتراض کے جواب میں لکھا گیا ہے جس میں انھوں نے ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ کے مصنف ابو یحییٰ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ انھوں نے اپنی کتاب میں مسیحیت کے بارے میں درست حقائق نہیں بیان کیے اصل خط انگریزی میں تھا جس کا ترجمہ رسالے کے لیے عبداللہ صاحب نے کیا ہے ۔]

محترم بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کی ای میل کا شکریہ۔ میں آپ کے احساسات کی قدر کرتا ہوں ۔ لیکن درحقیقت بائبل کی جو آیات آپ نے مجھے بھیجی ہیں وہ میری بات کی تصدیق کرتی ہیں ۔میں نے یہ نہیں کہا کہ قدیم صحیفوں میں میں روز قیامت کا تذکرہ نہیں ہے ۔ بلکہ میں نے یہ کہا ہے کہ ان میں آخرت کے تصورات مبہم ہیں ۔ اور جو آیات آپ نے مجھے بھیجی ہیں ان سے یہ بات بالکل واضح ہو رہی ہے ۔ میری اس بات کی تصدیق کے لیے آپ یہ آیات کسی بدھ ازم کے پیروکار کو بتائیے ۔ وہ سوائے ’’قیامت کے دن‘‘ کے اور کسی بات کو بھی سمجھ نہیں سکے گا۔ جبکہ دوسری طرف اگر میں اس کو روز قیامت کی تفصیلات قرآن و حدیث سے پیش کروں تو قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس کو مانے یا نہ مانے کم از کم وہ واضح طور پر روز قیامت کی تمام تر تفصیلات جان لے گا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ بائبل کی کئی آیات میں بیان ہونے والی سزا دوبارہ جی اٹھنے کے دن یعنی روز قیامت کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ در حقیقت یہ وہ واقعہ ہے جو اس دنیا میں ظہور پذیر ہوا۔ مثال کے طور پر آپ نے جو پہلی آیت کا حوالہ دیا وہ کچھ یوں ہے ۔

خدا فرماتا ہے ، “میں دنیا کو اس کی برائی کے سبب سے اور شریروں کو ان کی بدکرداری کی وجہ سے سزا دو ں گا ۔ اور میں مغروروں کا غرور اور ظالم لوگوں کا گھمنڈ پست کروں گا۔(یسعیاہ 13:11)

اس آیت کے عمومی اسلوب سے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے لیکن اس باب کا سر عنوان واضح طور پر یہ بتا رہا ہے کہ یہ دراصل بابل کی تباہی سے متعلق ہے ۔ اس کی پہلی آیت ہی یہ ہے :

یہ بابل کے بارے میں خداوند کا پیغام ہے جو یسعیاہ بن آموص نے رویا میں حاصل کیا۔

اب اگر آپ آگے پڑھیں تو جب آپ آیت 15 پر پہنچیں گے تو آپ کو اس حقیقت کا ادراک ہو گا کہ یہ سزا انسانوں کے ذریعہ سے تھی۔ آیت 17 میں ان لوگوں کا نام بتایا جا رہا ہے کہ وہ medes  یعنی میڈیا یعنی قدیم ایران کے باسی (مادی) تھے جنہوں نے بابل (Babylon) پر حملہ کیا۔ اس کے بعد اگلی آیات میں یہ حقیقت نام لے کر کھول دی گئی ہے کہ زیر بحث بابل کی تباہی ہے نہ کہ دنیا کی تباہی۔ آیات درج ذیل ہیں ۔

’’ 15: ہر ایک شخص جسے پایا جائے گا اسے موت کے گھا ٹ اتار دیا جا ئے گا۔ ہر ایک شخص کو جسے پکڑا جائے گا اسے تلوار سے مار دیا جائے گا ۔ 16: ان کے گھروں کی ہر شے لوٹ لی جائے گی ان کی بیویوں کی بے حرمتی کی جائے گی اور ان کے بال بچوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے مار ڈالا جائے گا۔ 17: خدا فرماتا ہے ، “میں مادی (یعنی قدیم ایران) کی فوجوں میں بابل پر حملہ کرواؤں گا ۔ مادی چاندی کی پرواہ نہیں کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی وہ سونے سے خوش ہو تے ہیں ۔ 18: ان کی کمان اور تیر جو ان آدمیو ں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گی ۔ لیکن وہ شیر خواروں پر رحم نہیں کرے گا ۔ وہ بچوں کے لئے بھی افسوس نہیں کرے گا ۔ 19: بابل کا سب کچھ سدوم اور عمورہ کی طرح تباہ ہو جائے گا ۔ خدا اس تباہ کاری کو ابھا رے گا اور کچھ بھی باقی بچا نہ رہے گا ۔ بابل سب سے خوبصورت سلطنت ہے کسدیوں کو بابل پر فخر ہے ۔ لیکن بابل سدوم اور عمورہ کی طرح تباہ ہو جائے گا ، جب خدا انہیں پوری طرح سے تباہ کر دے گا ۔ 20: لوگ بابل میں پھر سے کبھی نہیں رہیں گے ۔ بابل کا حسن قائم نہیں رہے گا۔ لوگ وہاں چھاؤنی نہیں لگائیں گے ۔ عرب کبھی بھی اپنا خیمہ وہاں قائم نہیں کریں گے ۔ چرواہا اپنی بھیڑوں کو وہاں سونے نہیں دے گا ۔‘‘

لہٰذا میں معذرت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ بائبل کو آپ نے غلط سمجھا۔ میں مسلمان ہوں اور اللہ پاک کے فضل سے بائبل کو آپ سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2014 مکاتیب – ستمبر ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *