2015 سلسلہ روز و شب (اسلام اور خلافت) – مئی (Abu Yahya)

Download PDF

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

اسلام اور خلافت

اس وقت ہمارے ملک میں بیانیے کی ایک بحث جاری ہے ۔ اس بحث کا تناظر پاکستان میں جاری وہ دہشت گردی ہے جس نے پچھلے کئی برسوں میں تقریبا ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانیں لے لی ہیں ۔احباب کی طرف سے یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کروں ۔ خاص کر وہ احباب جو مجھے براہ راست جانتے ہیں اور جنھو ں نے میری کتاب ’’تیسری روشنی‘‘ پڑھ رکھی ہے ، ان کا خیال ہے کہ چونکہ میں ایک طالب علم کی طرح اس خاص بحث سے بہت پہلے گزر چکا ہوں ، اس لیے مجھے اپنی فکری دریافت لوگوں کے ساتھ ضرور شیئر کرنی چاہیے ۔

ایمان اور عصبیت

اِدھر میرا معاملہ یہ ہے کہ عرصہ ہوا میں نے اس قوم کے اصل مرض کی تشخیص یہ کی ہے کہ یہاں ایمان کے بجائے تعصبات و خواہشات اور عمل صالح اور اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے کچھ اور چیزیں دین داری کا معیار بن چکی ہیں ۔ چنانچہ کرنے کا کام ان چیزوں کی اصلاح ہے۔ ورنہ ان فکری بحثوں کا نتیجہ بارہا یہ نکلتا ہے کہ ایک گروہ تو اندھا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور دلیل و استدلال سے آگے بڑھ کر نیت اور محرکات کے فیصلے کر کے مہم جوئی شروع کر دیتا ہے ۔ جبکہ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تعصب سے نکل کر دوسرے تعصب میں چلے جاتے ہیں اور ایک گروہ کے بجائے دوسرے گروہ کی عصبیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ جبکہ دین کا اصل مقصد تو اعلیٰ اخلاق کے حامل ایسے انسان پیدا کرنا ہے جو ہر طرح کے تعصبات اور خواہشات سے بلند ہوکر اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنالیں ۔ جنت کی بادشاہی، لا ریب، انھی لوگوں کی منزل ہے۔ یہی کام جو بظاہر ’’ہاٹ‘‘ نہیں ، نہ اس میں زیادہ شہرت اور ناموری ملتی ہے ، اس عاجز نے اپنے لیے منتخب کیا ہے ۔ یہ کام اتنا اہم ہے کہ کسی اور مصروفیت کی اجازت نہیں دیتا۔

پھر یہ کہ آج کل میں نے ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ اور ’’قسم اس وقت کی ‘‘ کے بعد اس سلسلے کے تیسرے ناول پر کام شروع کر دیا ہے ۔ یہ ناول نگاری میری ڈھیر ساری مصروفیات کے ساتھ بہرحال ایک مشکل کام ہے۔ مگر کیاں کروں کہ ابھی تک اس طرز نگارش کی پہنچ کسی بھی دوسرے ذریعہ سے زیادہ ہی ثابت ہوئی ہے ۔ اس لیے کچھ اہم باتیں جو کہنی ہیں وہ اسی تیسرے ناول کے ذریعے سے لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔

ایسے میں کسی فکری بحث میں اترنا جس توجہ اور وقت کا طالب ہے ، اس کی دستیابی آسان نہیں ۔ مگر بعض احباب نے میری خاموشی کو ’’کتمان حق‘‘  قرار دے دیا تو مجبوراً مجھے اس معاملے میں کچھ مختصر گزارشات پیش کرنا پڑ رہی ہے۔ کسی بحث یا جوابی بحث میں الجھنا اس خاکسار کے پیش نظر نہیں ۔ میں گرچہ اپنے مزاج کے لحاظ سے ایک داعی ہوں لیکن میں اپنے مالک کے عطا کردہ دین کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی ہوں۔ طالب علمانہ طریقے پر یہ جانتا ہوں اور بیان کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین سے متعلق کیا چاہتے ہیں اور کیا نہیں ۔ اور اگر ان کی بات ہی ٹھیک طور پر سامنے نہیں آ رہی تو اس کا سامنے لانا بہرحال ایک ذمہ داری ہے ۔

تاہم میں ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی غلط ہوں ۔ اس لیے اگر کوئی بھائی یا بہن علمی طریقے پر (نہ کہ استدلال سے خالی ، اعتماد سے بھرپور جذباتیت اور دلیل کے نام پر نکتہ آفرینی کر کے) غلطی واضح کر دیں گے کہ میں ہی غلط جگہ پر ہوں تو کسی بحث میں الجھے بغیر میں اپنی اصلاح کر لوں گا۔ میرا حال تو یہ ہے کہ بچپن سے آج تک تعصبات کے جتنے بت تھے ، ہر ایک کو توڑا اور چھوڑا ہے ۔اس ’’بت شکنی‘‘ کے لیے یہ عاجز ہمیشہ تیار رہتا ہے ۔ اس لیے کہ یہی ایمان ہے ۔ باقی صرف کہانیاں ہیں یا پھر ایمان کے وہ دعوے ہیں جن کی قلعی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کھول کر رکھ دیں گے ۔ ہم سب کو اس انجام سے اپنے رب کی پناہ مانگنی چاہیے ۔

تین بنیادی سوالات

آگے بڑھنے سے قبل میں یہ واضح کرنا چاہوں گا اب کچھ بزرگوں کے نام آئیں گے ۔ یہ سب اِس دور میں امت کے بڑے اہل علم ہیں ۔ان میں سے ہر ایک سے میں نے بہت استفادہ کیا ہے ۔اس لیے میرے دل میں ان کے لیے بے حد محبت اور احترام ہے ۔ تاہم یہ مقام اور مرتبہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے چکا ہوں اور بلاشبہ یہ صرف سرکار دوعالم ہی کا حق ہے کہ ان کی ہر بات کا دفاع کیا جائے ۔آپ سراپا حق ہیں اور صرف آپ ہی حق ہیں ۔ باقی لوگ جتنے بڑے عالم بھی ہوں ، بہرحال انسان ہیں ۔ ان سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ان کی بات غلط ہو سکتی ہے ۔ مگران کی کسی بات سے اختلاف کا مطلب ان کے مقام و مرتبہ کو کم کرنا نہیں بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ بہرحال رسول اور نبی نہیں ہیں جن سے اختلاف نہیں ہو سکتا ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کی ایک چیز سے اختلاف کے باوجود ان کی دس چیزوں سے مجھے اتفاق بھی ہے۔ میں ان کی عظمت کو ان کی خدمات کے حوالے سے یاد رکھتا ہوں ، ان کے تسامحات کے حوالے سے نہیں ۔

جن لوگوں نے میری کتاب تیسری روشنی پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ میں ایک فکری دریافت کے سفر سے گزرا ہوں ۔ یہ فکری دریافت دیگر مذاہب اور افکار کے مقابلے میں اسلام کی سچائی کی دریافت بھی تھی اور خود مسلمانوں میں پائے جانے والے باہمی اختلافات میں قرآن مجید سے مطابقت رکھنے والی درست شاہراہ کی دریافت کا عمل بھی تھا۔

اس سفر میں تین بنیادی سوالات تھے جن کے جواب تلاش کرنا میرا مقصد تھا۔ ایک یہ کہ عقائد کے لحاظ سے جو اختلافات مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں ان میں درست نقطہ نظر کیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ فقہی مسالک کی شکل میں جو مختلف گروہ پائے جاتے ہیں ، ان میں کس کی رائے درست ہے ۔ جبکہ تیسرا سوال یہ تھا کہ دین کے مقصد، حقیقت اور تعبیر کے لحاظ سے جو مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، ان میں سے کون سا نقطہ نظر اسلام اور قرآن مجید کی درست ترجمانی کرتا ہے ۔

دین کا بنیادی مقصد

صاحبان نظر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بیانیے کی موجودہ بحث اصلاً اسی تیسرے سوال سے متعلق ہے۔ اس بحث کے اگرچہ کئی پہلو ہیں لیکن اس کا مرکزی نقطہ اگر متعین کیا جائے تو وہ بنیادی طور پر ایک ہی ہے ۔ دین اسلام ایک فرد کے سامنے کون سا نصب العین رکھتا ہے۔ دین کا وہ کون سا مقصد ہے جس کے حصول کے لیے دین کے باقی سارے احکام دیے گئے ہیں اور درحقیقت جس کے حصول یا حصول کی کوشش پر اخروی نجات موقوف ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے جواب سے پھر وہ سارے نکات پیدا ہوجاتے ہیں جو اِس وقت زیر بحث ہیں۔

اس بحث کا آغاز پچھلی صدی کی تیسری دہائی میں اس امت میں ایک جلیل القدرامام مولانا مودودی ؒ  کی اُس تعبیر دین سے ہوا تھا جسے دین کی سیاسی تعبیر کہا جا سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بندہ مومن کی زندگی کا اصل مقصد حکومت الہیہ کے قیام کی جدوجہد کرنا ہے ۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کا اقتدار فاسقین کے ہاتھ سے چھین کر صالحین کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ یہ صالحین پھر سماج پر اللہ کا دین نافذ کریں گے اور ساتھ میں پوری دنیا سے ایک ’’مصلحانہ جہاد ‘‘ کر کے ہر جگہ اسلام کا غلبہ قائم کریں گے۔ یہی وہ جدوجہد ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے اور دین کا ہر حکم اسی بنیادی فریضے سے متعلق ہے۔ اس نقطہ نظر کی علمی اساسات حضرت مولانا ؒ کی کتاب ’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ اور ان کی بعض دیگر تصانیف میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جبکہ ادبی اسلوب میں غالباً نعیم صدیقی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے اس کو یوں بیان کیا تھا۔

میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

مولانا مودودی کی خدمات

مولانا مودودی ؒ  بہت بڑ ے عالم اور محقق تھے ۔ انھوں نے اپنے نقطہ نظر کو قرآن مجید کے تفصیلی دلائل کی بنیاد پر مرتب کیا تھا۔ وہ اعلیٰ درجہ کے ادیب اور انشاء پرداز تھے ۔ چنانچہ اپنی بات کے ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیت ان میں تھی۔ اپنے نقطہ نظر کو معقول طریقے پر ثابت کرنے کی ان میں اتنی غیر معمولی قابلیت تھی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی صاحب ندوی ؒ نے ان کو بیسوی صدی کے نصف اول میں اسلام کا سب سے بڑا متکلم قرار دیا تھا۔ چنانچہ اپنے نقطہ نظر کو بھی انھوں نے اسی بلاغت ، جامعیت اور منطقی استدلال کے ساتھ پیش کیا تھا۔ پھر جس زمانے میں انھوں نے یہ نقطہ نظر پیش کیا، پورا عالم اسلام مغربی طاقتوں کی سیاسی غلامی کا شکار تھا۔ جو قوم ہزار برس تک دنیا کے اقتدار کی مالک رہی ہو ، دور غلامی میں اس کی نفسیات سے یہ بات اتنی قریب تھی کہ گویا :

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اس پر مزید یہ کہ اس زمانے میں ہرجگہ کمیونزم کا طوطا بول رہا تھا۔ یہ نظریہ اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوکر سماج کو بدل دینے کا وہ طریقہ کار دیتا تھا جسے اُس زمانے کے انقلابی فکر میں بہت مقبولیت حاصل ہوگئی۔ کمیونزم کے پیش کرنے والے مفکرین نے یہ کمال کیا تھا کہ انھوں نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ایسا نقطہ نظر پیش کیا جو ایک سادہ بنیادی خیال یعنی سماجی ناہمواری کے خاتمے اور معاشی انصاف کے گرد گھومتا تھا۔ مگر اس کے پیچھے فلسفے، تاریخ، سیاست، معاشیات، سماجیات غرض ہر پہلو سے استدلال فراہم کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے نفاذ کے لیے ایک اقلیتی گروپ کو واضح پروگرام اور لائحہ عمل بھی دیا گیا کہ کس طرح حکومت پر قبضہ کر کے اپنا نقطہ نظر پورے سماج پر مسلط کرنا ہے۔ پھر اس انقلاب کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے ایک پورا پروگرام اور اخلاقی توجیہ بھی دی گئی تھی۔ ان سب سے بڑھ کر حقیقتاً یہ انقلاب دنیا کے ایک بڑے ملک میں آبھی گیا اور اس کی توسیع کا عمل شروع ہو گیا۔

اس چیز نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ظاہر ہے کہ اُس دور کے مسلمان بھی اس سے بڑی شدت سے متاثر ہوئے ۔ مگر کمیونزم کے لادینی پس منظر کی بنا پر ایک روایت پسند مسلمان ذہن کبھی کمیونزم کو قبول نہیں کرسکتا تھا۔ چنانچہ جو اسلامی نظریہ اس مقبول کمیونسٹ طریقہ کار کا ایک اسلامی متبادل دے سکے ، اس میں اُس دور کے لحاظ سے بڑی کشش تھی۔ چنانچہ حکومت الہیہ کا نظریہ جس میں صالحین کی ایک جماعت جدوجہد کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور پہلے پورے سماج کو بدل دینے اور پھر دنیا بھر پر اسلام کو غالب کر دینے کی علمبردار تھی ، کمیونزم کا ایک بہت اچھا متبادل بن کر سامنے آئی۔

اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے میں جب کمیونسٹ انقلاب ہندوستان کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور کمیونسٹ پارٹی اور ترقی پسند تحریک کی شکل میں تیزی سے ہندوستان کے مسلمانوں میں اپنی جگہ بنا رہا تھا، ایسے میں مولانا مودودی کا کام ایک بہت بڑی خدمت تھا۔ مولانا مودودی نے ایک طرف اپنے مضامین میں (جن کا مجموعہ بعد میں ’’تنقیحات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا)مغربی فکر کے بڑھتے ہوئے اثرات پر زبردست چوٹ لگائی تو دوسری طرف کمیونزم کے مقابلے کے لیے اہل اسلام کو گویا اُس دور کا ایک بیانیہ دیا۔ آدھی دنیا میں پھیل جانے والا کمیونزم مذہب کے انکار کی بنیاد پر زندگی کا ایک نظریہ اور نظام دے رہا تھا جو بہت متاثر کن تھا۔ اس کے جواب میں اسلام کو اسی انداز سے پیش کر کے مولانا مودودی نے بہرحال بہت سارے لوگوں کو کمیونزم کی آغوش میں جانے سے بچایا اور اس وقت اسلام کا دفاع کیا جب فکری میدان میں اس کا دفاع کرنے والا کوئی نہ تھا۔

مولانا کے کام کی مزید عظمت اس وقت واضح ہوتی ہے جب اس کا تقابل جناب غلام احمد صاحب پرویز کے کام سے کیا جاتا ہے ۔ پرویز صاحب نے اسی زمانے میں معاشی نظام یعنی نظام ربوبیت کو بنیاد بنا کر گویا دین کی ایک معاشی تعبیر دی تھی۔ یہ بھی کمیونزم کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک جوابی بیانیہ تھا۔ مگر اس عمل میں خود قرآن کریم کے ساتھ جو کچھ انھوں نے کیا اس پر سب سے اچھا تبصرہ خود مولانا مودودی ہی نے کیا ہے کہ مختلف عربی لغات ہاتھ میں اٹھا کر وہ جو کچھ قرآن کریم کے ساتھ کرتے ہیں ، کوئی شخص یہی کچھ اردو لغات اٹھا کر ان کی اپنی کتابوں کے ساتھ کرنا شروع کر دے تو وہ چیخ اٹھیں گے۔ اس کے برعکس مولانا کے کام کی یہ خصوصیت تھی کہ ان کا کام اتنی محکم بنیادوں پر کھڑا تھا کہ اس پر کسی قسم کی گرفت کرنا بہت مشکل تھا۔

اس نقطہ نظر پر اہم تنقیدیں

یہی وہ وجوہات تھیں کہ جن کی بنا پر اُ س دور کے بڑے بڑے اذہان کو اُس فکر نے متاثر کیا۔ اور جو متاثر نہ ہوئے ، وہ ان کی تردید میں بھی کچھ نہ کہہ سکے ۔ چنانچہ مجدد وقت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ  جیسے بڑے عالم اور عارف کا حال یہ تھا کہ فرماتے تھے کہ (مفہوم جو اس وقت مجھے یاد ہے ) ان کی بات درست نہیں گرچہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اس میں کیا غلط ہے۔ بہرحال آہستہ آہستہ یہ صورتحال ہوئی کہ مولانا مودوی کے فکر کو مسلمانوں کے بیشتر مذہبی فکری حلقوں بلکہ پورے عالم اسلام میں مقبولیت حاصل ہوگئی۔ یہاں تک کہ ان کے بدترین مخالفین اور ان کے خلاف ’’فتنہ مودودیت‘‘ کی مہم چلانے والے طبقات بھی ان کی فکر کے سامنے سجدہ ریز ہو چکے ہیں ۔ وہ ان ہی کی بولی بولتے اور ان ہی کی تعبیر دین کے مختلف پہلوؤں کو اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں ۔

یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ میں اپنے ابتدائی فکری سفر میں مولانا مودودی کو اپنا سب سے بڑا محسن خیال کرتا ہوں جن کی تصانیف پڑھ کر میرے اندر اسلام پر اعتماد پیدا ہوا ۔ اسی پس منظر میں میں ان کی تعبیرِ دین اور ان کے نقطہ نظر کو بالکل درست خیال کرتا تھا۔ یہاں تک کہ میرے مطالعے میں حضرت مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ آئی۔ انھوں نے اپنی اس کتاب میں بہت واضح طریقے پر یہ ثابت کر دیا کہ یہ نقطہ نظر اسلاف کی پوری علمی روایت کے خلاف ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کی یہ کتاب مسلمانوں کے تنقیدی ادب میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے ۔ مولانا مودوی کا کام جتنا بڑا اور جتنا مدلل تھا، یہ تنقید بھی اتنی اعلیٰ پائے کی ہے۔ سن 63ء میں یہ کتاب شائع ہوئی اور پھر سن 79ء میں یہی کام مفکر اسلام حضرت مولانا ابو لحسن علی صاحب ندوی ؒ  نے ’’عصر حاضر مین دین کی تفہیم و تشریح‘‘ لکھ کر کر د یا۔

غرض ان دونوں بزرگوں نے خالص علمی تنقید کر کے یہ بتا دیا ہے کہ جن آیات اور اصطلاحات کی بنیاد پر یہ پورا نظریہ قائم کیا گیا ہے، وہ آیات کسی طور یہ بات بیان نہیں کرتیں ۔ یہ سر تا سر ایک غلط فہمی ہے جو مولانا مودودی ؒ  کو لگ گئی تھی۔ تاہم یہ تنقیدیں صرف علمی حلقوں تک محددود رہیں ۔ بعد میں ان بزرگوں کی تنقید بس اِدھر اُدھر ہوکر رہ گئی اورسردست عالم اسلام پر مولانا مودودی کی فکر ہی کا غلبہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فکر کی اصل طاقت یہ نہیں کہ اس کی علمی بنیادیں ناقابل تردید تھیں ۔ بات دراصل یہ تھی اور ہے کہ یہ نقطہ نظر مسلمانوں کی نفسیات کے لیے بہت متاثر کن ہے ۔ دوسروں کو چھوڑیں خود آج کے دن تک ہماری یہ شدید خواہش ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا غلبہ ہو اور اسلام غالب ہوجائے ۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک یہ تنقیدیں سامنے آئیں ، مولانا کی تحریک عملاً ایک بہت بڑا حلقہ اثر قائم کر چکی تھی۔ علمی دنیا کے ساتھ سماج، سیاست اور صحافت میں اس کے بڑے اثرات ہو چکے تھے ۔ پھر مولانا وحید الدین خاں صاحب اس زمانے میں بہت کم عمر (انھوں نے یہ کتاب 35 برس کی عمر میں لکھی تھی) نسبتاً غیر معروف شخص تھے ۔ ان کا اپنا کوئی حلقہ اثر تھا نہ علمی قدوقامت۔ اس لیے ان کی تنقید معاصر علمی حلقوں میں بھی وہ جگہ نہیں بنا سکی جس کی وہ مستحق تھی۔

چنانچہ مولانا کے افکار پھیلتے گئے اور ان کی فکر نے عالم عجم کے ساتھ عالم عرب کو بھی فتح کر لیا۔ حسن البنا ؒ ، سید قطب ؒ  اور اخوان اپنے جذبات اور قربانیوں میں جس جگہ بھی کھڑے ہوں ، فکراور استدلال میں بہرحال وہ مولانا مودودی ؒ  ہی کے ممنون احسان ہیں۔ سردست اس وقت امت مسلمہ پر اس پہلو سے اگر کسی شخص کی فکری بادشاہی قائم ہے تو وہ ہمارے ممدوح حضرت مولانا مودودی ؒ  ہی کے نظریے کی حکومت ہے۔ اور جیسا کہ عرض کیا ان کے بدترین مخالفین بھی آج ان ہی کی بولی بولتے ہیں۔ گرچہ نام مولانا کا نہیں لیتے نہ ان کو کوئی کریڈٹ دیتے ہیں ۔

دین کی سیاسی تعبیر کے لیے لفظ خلافت کا نعرہ

مولانامودودی کے نظریات نے گرچہ مسلمانوں کے مذہبی فکری طبقات کو فتح کر لیا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ عوام الناس میں ان کی فکر کوکوئی بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کی فکر عوامی تحریک میں تبدیل نہ ہو سکی۔ دوسری طرف مولانا نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کمیونسٹوں کے انقلابی طریقہ کار کو چھوڑ کر جمہوری طریقے کو نہ صرف اختیار کر لیا بلکہ سورہ شوریٰ میں آیت ’’امرھم شوری بینھم ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے قرآن مجید سے اس کے دلائل بھی فراہم کر دیے ۔ اس تبدیلی سے مولانا کے فکر کی اخلاقی حیثیت بہت بلند ہوگئی، گرچہ فوری طور پر ان کی جماعت کو کامیابی نہ مل سکی۔ مگر اس کی وجہ اس طریقے کی غلطی نہیں بلکہ جماعت کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل کی سیاست کرنے کے بجائے زیادہ زور اپنے آفاقی ایجنڈے پر دیتی ہے ۔ میری پختہ رائے ہے کہ پاکستان کی جماعت اسلامی بھی اگر اپنے آفاقی ایجنڈے کو ایک کونے میں رکھ کر صرف پاکستان اور پاکستانیوں کی سیاست شروع کر دے تو آج بھی پاکستان کا معاشرہ کسی صالح اور کرپشن سے بلند قیادت کا منتظر ہے ۔ جوکچھ ترکی میں ہورہا ہے پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے۔ کاش جماعت کے دوست یہ حقیقت سمجھ سکیں ۔ بہرحال دنیا بھر میں اہم اسلامی تحریکوں نے جیسے ترکی اور مصر میں مولانا مودودی کی پیروی میں جمہوری طریقے سے جدو جہد کی اور آفاقیت سے کہیں زیادہ زور مقامی مسائل پر دیا۔ یوں وہ آخر کار اقتدار تک پہنچ گئیں ۔ خیر یہ الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں تفصیل سے لکھوں گا۔

تاہم بہت سے لوگ تھے جنھوں نے طریقہ کار کی اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔ بلکہ وہ اور شدت کی طرف چلے گئے۔ خاص طور پر عرب آمریتوں نے اخوان کے ساتھ جو سختی کی اس کے ردعمل میں یہ مزید انتہا پسند ہوتے چلے گئے۔ ان میں سے ایک جماعت حزب التحریر تھی۔ اس نے اپنے سیاسی نصب العین کے لیے ’’خلافت ‘‘ کے نعرہ کو اختیار کر لیا۔ اس نعرے کی علمی اور دینی قدر و قیمت تو ابھی زیر بحث آ جاتی ہے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’خلافت‘‘ کی اصطلاح کا نفسیاتی اثر ایک عام مسلمان کے لیے بہت زیادہ ہے ۔ خلافت کا لفظ سنتے ہی ایک طرف سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی درویشانہ حکومت ذہن میں آتی ہے جس میں شیر اور بکری ایک گھاٹ میں پانی پیتے تھے تو دوسری طرف مسلمانوں کا ہزار سالہ اقتدار اور غلبہ یاد آ جاتا ہے ۔ عرب میں اس فکر کو حزب التحریر جیسی جماعتوں نے اورہمارے ہاں اس فکر کو ڈاکٹر اسرار مرحوم نے بہت عام کیا۔ اس خاکسار کو یہ شرف حاصل ہے کہ جس زمانے میں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے تحریک خلافت کا باقاعدہ آغازکیا، یہ عاجز دن رات ان تمام اجتماعات اور تقریروں میں شریک ہوکر براہ راست وہ استدلال سمجھتا رہا ہے جو ڈاکٹر صاحب مرحوم پیش فرما رہے تھے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی عوامی اپیل حکومت الہیہ کے نعرے سے کہیں زیادہ ہے اور الحمد اللہ ثم الحمدللہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

3 Responses to 2015 سلسلہ روز و شب (اسلام اور خلافت) – مئی (Abu Yahya)

  1. محمد کامران عثمانی says:

    جزاک اللہ خیرک
    ابو یحیی صاحب
    آپ نے یہ پورا مضمون لکھ کر کمال کردیا اور اخباروں میں جاری بیانیے کی بحث میں اصل قرآنی فکر بھی واضح کردی
    اللہ آپ کو اس کی جزا دے اور ہمارے دانشوروں کو اسے سمجھنے کی توفیق دے آمین

  2. anonymous says:

    Alhamdulillah, great article. Thanks for writing…

  3. Gul Rayz says:

    Jazak Allah Janab. Aap ne is mazmoon ki shakal mein boht bara aur ahem kaam saranjam dia hai. Shukriya.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *