2015 سلسلہ روز و شب – اپریل (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

اسلام پر ایک نیا حملہ

اسلامو فوبیا

اس وقت دنیا بھر میں اور خاص کر مغربی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کے دائیں بازو اور انتہا پسند مذہبی طبقات کی طرف سے ایک زبردست مہم جاری ہے ۔ یہ مہم جسے عام طور پر اسلامو فوبیا کا نام دیا جاتا ہے ، مغربی ممالک میں اپنے نقطہ عروج پر پہنچی ہوئی ہے ۔

مغربی دنیا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ میں مسلمان بالعموم مغرب کے حلیف تھے ۔ اس زمانے میں مغربی دنیا میں مسلمان تارکین وطن کو عام طور پر بہت خوش آمدید کہا گیا۔ یوں مسلمانوں کی آبادی مغرب میں بڑھتی گئی۔ ان تارکین وطن کے اثر سے اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر اسلام مغرب میں تیزی سے پھیلنے لگا ۔ تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی ممالک کے انتہا پسند طبقات میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ اسلام یہاں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے ۔ چنانچہ نوے کی دہائی میں پہلی دفعہ اسلامو فوبیا کی اصطلاح کی بازگشت سنائی دی۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد اس کی گونج نمایاں ہوئی اور حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات اور ہمارے بعض فکری اورمذہبی طبقات کی طرف سے ان کی علانیہ اور غیر علانیہ حمایت کی بنا پر مغربی انتہا پسند طبقات کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اسلام کے خلاف اسلامو فوبیا کی ایک مکمل اور بھرپور فکری جنگ شروع کر دیں۔

اسلامو فوبیا کی یہ جنگ جس خوف سے لڑی جا رہی ہے وہ مسلم ممالک یا وہاں رہنے والے مسلمانوں کا خوف نہیں ہے ۔ بلکہ مغرب کے انتہا پسند طبقات کو اصل خوف اسلام کی اس دعوتی قوت سے ہے جو تیزی سے مغرب میں اسلام کے فروغ کا سبب ہے ۔ اسلامی دعوت کا عمل اگر اسی طرح جاری رہتا تو اکیسویں صدی میں یورپ اور امریکہ میں اسلام اکثریتی مذہب بن جاتا ۔ چنانچہ دہشت گردوں کی کاروائیوں کا فائدہ اٹھا کر مغربی انتہا پسند طبقات نے اسلام کے خلاف ایک انتہائی خوفناک مہم شروع کر دی ہے ۔ اس مہم کے ذریعے سے نہ صرف ایک مغربی شخص کے سامنے اسلام کا ایسا چہرہ رکھا جا رہا ہے جو اسلام کو ایک ناقابل قبول مذہب بنادے بلکہ بہت سے مسلمانوں کے دل ودماغ میں بھی شکوک و شبہات کے بیج بوئے جا رہے ہیں ۔

ایک مکروہ الزام

اس مہم کے بہت سے پہلو ہیں ۔ ایک پہلو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ ہستی کے حوالے سے بعض ایسی بے ہودگیوں کا انتساب ہے جس کا تصور ہم ایک عام انسان کے لیے بھی بہت برا سمجھتے ہیں۔ باخدا میرا دل نہیں چاہتا کہ اس طرح کی بے ہودگیوں کو قرآن مجید اور سیرت پاک کے دفاع کے لیے اشارۃً بھی نوک قلم پر لاؤں لیکن جب کوئی شخص ہماری طرف کیچڑ اچھالتا ہے تو مجبوراً اس کیچڑ کو دھونے کے لیے اس میں ہاتھ ڈالنے پڑتے ہیں ۔

یہ بے ہودہ الزام جو بہت پھیلایا جا رہا ہے اس حوالے سے ہے کہ اسلام بچوں سے جنسی تعلقات کی اجازت دیتا ہے ۔ مغربی انتہا پسند اس حوالے سے قرآن مجید کے ایک بیان اورشادی کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر کے حوالے سے جو کچھ بے ہودگیا ں تخلیق کرتے ہیں اور ہمارے بعض اہل علم جس طرح سادگی میں ایسی باتوں کی تائید کر دیتے ہیں ، وہ ہمارے سنجیدہ طبقات کو خود اسلام اور پیغمبر اسلام کی شخصیت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ اس لیے مجبور ہو کر ان بے ہودہ الزامات کو نقل کیے بغیر میں صرف علمی نوعیت کی کچھ وضاحتیں کرنا چاہوں گا۔ یہ وضاحتیں قرآن و حدیث کے حوالے سے ہیں ۔ معاندین اسلام قرآن و حدیث کے علاوہ مسلمان مفسرین کی تشریحات اور مسلمان اہل علم کے فتاویٰ بھی اس بات کی تائید میں نقل کرتے ہیں کہ اسلام چھوٹی بچیوں سے جنسی تعلق کی اجازت دیتا ہے ۔ مگر ظاہر ہے کہ مسلمان اہل علم کی آراء کا دفاع کرنا ہمارا کام ہے نہ اس کی ضرورت ہے۔ جب اصل بات واضح ہوجائے گی تو مزید کسی بحث و مباحثے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

قرآن مجید کے بیانات

قرآن مجید کے جس بیان کو چھوٹی بچیوں سے جنسی تعلق کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، میں اس پر گفتگو کرنے سے قبل یہ واضح کرنا چا ہوں گا کہ قرآن مجید ایک دوسرے مقام پر یہ بات خود ہی واضح کر دیتا ہے کہ شادی بچپن کی چھوٹی عمر کا معاملہ ہرگز نہیں ہے ۔ ارشاد ہے :

’’اورتم وہ مال، جس کوخدا نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے، نادان یتیموں کے حوالے نہ کرو، ہاں ان کو اس سے فراغت کے ساتھ کھلاؤ پہناؤ اور دستور کے مطابق ان کی دلداری کرتے رہو، اوران یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تواگرتم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کامال ان کے حوالے کر دو۔ اور (اس ڈر سے) کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اسراف اور جلدبازی کر کے ان کا مال ہڑپ نہ کرو۔‘‘ (نساء 4: 6-5)

اس آیت میں cکی عمر کا کوئی سن تو نہیں دیا گیا ہے اس لیے کہ انسانوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ شادی کی عمر کیا ہوتی ہے ۔ لیکن ایک ایسا واضح قرینہ موجود ہے جو اس بات کی قطعی نفی کر دیتا ہیں کہ اسلام کسی نابالغ بچی سے جنسی تعلق کی اجازت دیتا ہے ۔

ان آیات میں قرآن مجید نے یتیموں کے اموال ان کے حوالے کرنے کے لیے ’’نکاح کی عمر‘‘ کی حد مقرر کی ہے ۔ معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے نکاح کی عمر تک پہنچنے کی جب بھی بات کی جائے گی اس سے مراد جنسی بلوغت ہو گی۔ تاہم کوئی نہ سمجھ سکے تو اس کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ نکاح ، جنسی تعلق قائم کر کے اپنی نسل جاری رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یہ کام فریقین کی جنسی بلوغت کے بغیر ہو نہیں سکتے ۔ اس لیے جب بھی کسی بچے کے لیے کہا جائے گا کہ یہ نکاح کی عمر کو پہنچ گیا ہے اس سے مراد یہ ہو گی کہ وہ جنسی بلوغت کو پہنچ گیا ہے اور نابالغ نہیں رہا ہے۔

گویا کہ قرآن مجید کا مدعا یہ ہے کہ نکاح کی عمر وہ ہوتی ہے جب کوئی بچہ بچپنے کی حدودسے نکل کر ، اگر لڑکی ہے تو نسوانیت اور لڑکا ہے تو مردانگی کے دور میں داخل ہوجائے ۔ قرآن مجید نے اپنے اس مدعا کو اس طرح بھی موکد کیا ہے کہ اسی آیت یعنی آیت چھ میں ’’بڑے ہوجانے ‘‘ کو اس کے مترادف اور آیت پانچ میں بچپنے کی چھوٹی عمر کوجس میں بچہ نادان ہوتا ہے اس کے بالمقابل استعمال کیا ہے ۔ اس طرح اس نے اپنے باکمال اسلوب میں یہ حقیقت بالکل کھول دی ہے کہ نکاح کی عمر وہ ہوتی ہے جس میں ایک بچہ یا بچی بچپن کی ناسمجھی سے نکل کر جوانی کے بڑے پن میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ قرآن مجید شادی کو بچپن اور جنسی بلوغت سے قبل کا کوئی معاملہ نہیں قرار دیتا بلکہ بڑ ی عمر کا معاملہ سمجھتا ہے جب بچوں پر بڑوں کا اطلاق ہونے لگتا ہے ۔

سردست اس آیت کے حوالے سے اتنا ہی کہ ہم نے اس آیت پر آگے مزید بات کی ہے، تاہم ایک نکتہ یہاں مزید واضح کرنا ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ اسی سورہ نساء میں مہر کو شادی کی شرط کے طور پر بار بار بیان کیا گیا ہے۔ مہر کے متعلق معلوم ہے کہ یہ مالی ادائیگی کا معاملہ ہے ۔ یعنی یہ مال ہے جو دولہا دلہن کی مالی ذمہ داریاں اٹھانے کے عہد کے طور پر بطور ٹوکن شادی سے قبل یا اسی موقع پر اسے دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ قرآن چھوٹے بچوں کو ان کے اپنے مال دینے سے تو منع کر رہا ہے ، وہ ان کو اسی چھوٹی عمر میں نکاح جیسے معاہدے میں دھکیلنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے جس کے متعلق اس کا بار بار اصرار ہے کہ یہ مال دے کر کیا جائے ۔

اس لیے ہمارے نزدیک اِس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ’’حتی بلغوا النکاح ‘‘ الفاظ استعمال کر کے یہ بت ادیا ہے کہ جنسی بلوغت سے پہلے بچپنے کی عمر نکاح کی عمر نہیں ہے ۔

قرآن پر نالغ بچیوں سے جنسی تعلق کی اجازت کے الزام کی حقیقت

اب آئیے اس آیت کی طرف جس کی بنیاد پر معاندین اسلام یہ الزام لگاتے ہیں کہ چھوٹی بچیاں جن کو حیض نہ آیا ہو ان سے جنسی تعلق کی اجازت ہے ۔ یہ سورہ طلاق (65) کی آیت نمبر 4 ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ، اگر ان کے باب میں شک ہو تو، ان کی عدت تین مہینے ہے ، اور (اسی طرح) ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو۔‘‘

شبلی نے کہیں لکھا تھا کہ مستشرقین جو بھی کالک اسلام کے روشن چہرے پر لگائیں ، اس کے لیے سیاہی ہم مسلمان ہی ان کوفراہم کرتے ہیں ۔ یہی حال اس آیت کا ہے ۔ ہمارے بہت سے اہل علم یہ رائے رکھتے ہیں اور اس آیت کے ذیل میں بیان کرتے ہیں کہ جن چھوٹی بچیوں کو حیض نہ آیا ہو یہ آیت ان ہی سے متعلق ہے ۔ اور اس کی رو سے ان سے جنسی تعلق قائم کرنا درست ہے کیونکہ یہاں عدت کا حکم بیان ہو رہا ہے اور عدت صرف اسی خاتون کی ہوتی ہے جس کے ساتھ شوہر تعلق قائم کر چکا ہو۔ چنانچہ معاندین اسلام یہ آیت اٹھاتے ہیں اور اس کی روشنی میں ہر جگہ یہ بات پھیلاتے ہیں کہ دیکھو قرآن تو چھوٹی بچیوں سے جنسی تعلق کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کا جو ردعمل ہوتا ہے اس کا اندازہ ہر شخص کرسکتا ہے ۔

ہمارے نزدیک قرآن مجید جوبات کر رہا ہے اس کا سادہ ترین مطلب یہ ہے کہ جو خواتین حیض کی عمر کو پہنچ چکی ہوں لیکن کسی مسئلے کی وجہ سے ان کو حیض نہ آیا ہو ان کی عدت تین ماہ ہے ۔ اس سے مراد وہ چھوٹی بچیاں ہیں ہی نہیں جو حیض کی عمر کو نہ پہنچی ہوں ۔

ہمارے نزدیک سیاق کلام اس کے سوا کسی دوسرے مفہوم کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ آیت ’’من نسائکم‘‘ یعنی تمھاری عورتوں کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے ۔ لفظ عورت کا اطلاق کسی صورت ایک نابالغ لڑکی پر نہیں ہو سکتا جب تک کہ کوئی بالکل واضح قرینہ یا موقع محل نہ ہو۔ یہاں سرے سے کوئی قرینہ ہی نہیں ہے کہ یہاں ’’النساء‘‘ سے نابالغ لڑکیاں مراد لی جائیں ۔ بلکہ اس کے برعکس طلاق، عدت، اور حیض جیسی اصطلات استعمال ہوئی ہیں جو بلوغت تک پہنچی ہوئی خواتین سے متعلق ہوتی ہیں ۔ چنانچہ یہاں ’’النساء‘‘ کا لفظ صرف بالغ عورتوں کے لیے محدود ہو چکا ہے ۔

بات صرف اتنی ہی نہیں بلکہ قرآن مجید کی روشنی میں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تین حیض یا تین ماہ کی عدت کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ خاتون حمل سے ہے یا نہیں ۔ کیونکہ سورہ احزاب (49:33) میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جس خاتون سے تعلق زن و شو قائم نہ ہوا ہو اس کی کوئی عدت نہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جو بچی اپنی کم عمری کی بنا پر بلوغت کو نہیں پہنچی وہ کسی صورت حاملہ ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔ اس کو عدت گزارنے کا حکم تو دیا ہی نہیں جا سکتا۔ اس لیے ایک نابالغ لڑکی کسی طور اس حکم کی مخاطب نہیں ہو سکتی۔

چنانچہ سیاق کلام نص قطعی ہے کہ یہاں جن خواتین کے حیض نہ آنے کا ذکر ہے ان سے مراد بالغ لڑکیاں ہیں جن کو جسمانی بلوغت اور نسوانی شباب کے تمام دیگر آثار ظاہر ہونے کے باوجود حیض نہ آیا ہو۔ یہاں کسی صورت وہ بچیاں مراد نہیں جو حیض کی عمر کو پہنچی ہی نہ ہوں ۔ ورنہ اگر یہی مفہوم مراد لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حیض تو تین سال، تین ماہ ، تین دن بلکہ تین گھنٹے پہلے پیدا ہونے والی بچی کو بھی نہیں آیا ہوتا۔ اگر مراد یہی ہے تو پھر تین گھنٹے کی بچی سے مقاربت کے اس عمل کو جس کی شناعت کو بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ ایجاد نہیں ہوا ، اس کے جواز کا فتویٰ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ اگر یہ بات واضح ہے تو کم از کم کوئی مسلمان مفسر تو آئندہ اس سے یہ مفہوم مراد نہیں لے گا۔ رہے معاندین ان کا اس دنیا میں کوئی علاج نہیں ۔

یہاں ایک معترض دو سوالات اٹھا سکتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن خواتین کو حیض کی عمر کو پہنچنے پر بھی حیض نہ آیا ہو ان کا ذکر آیت کے پہلے حصے میں ’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ‘‘ کے الفاظ سے آ چکا ہے ، اس لیے جن کو حیض نہ آیا ہو سے وہ مراد نہیں ہو سکتیں ۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر بچیوں کے لیے ’’النساء ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس لیے یہاں بھی النساء میں بچیوں کو شامل کرنا غلط نہیں ۔ ہمارے نزدیک اس طرح کے اعتراضات محض کج بحثی کے سوا کچھ نہیں ۔ حیض سے مایوس ہونے کے الفاظ سے ذہن صرف ان خواتین کی طرف منتقل ہوتا ہے جو بڑی عمر کو پہنچ چکی ہوں اور ان کا جسمانی نظام اب حیض لانے سے قاصر ہو چکا ہو۔ ایک جوان عورت جسے کسی عارضے یا نقص کی بنا پر حیض نہ آیا ہواس کے لیے یہ الفاظ درست نہیں ۔ ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد ، حمل اوربچوں کی پیدائش کے بعد، علاج معالجے کے بعد اسے حیض آجائے ۔ اس کے لیے مایوس ہونے کی اصطلاح کسی طور موزوں نہیں نہ قرآن میں یہ اس سے مراد ہے ۔

رہا دوسرا سوال تو بے شک قرآن مجید نے اس واقعے کے بیان کے لیے جب فرعون نے بنی اسرائیل کی بچیوں کو چھوڑ کر ان کے نومولود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا ، استعمال کیا ہے ۔ مگر وہاں ہر جگہ ایک بالکل واضح قرینہ ہے کہ یہاں ’’النساء‘‘ یعنی عورتیں بول کر بیٹیاں مراد لی جا رہی ہیں ۔ وہ یہ کہ یہ لفظ ہر جگہ ’’ابناء‘‘ یعنی بیٹوں کے لفظ کے بالمقابل آیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ یہ تاریخی پس منظر بھی مخاطبین کو معلوم تھا کہ اصل واقعہ کیا تھا ۔ اس لیے کسی کو قرآن مجید کے حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہو سکتی تھی۔ اب رہا یہ سوال کہ قرآن مجید نے یہ لفظ استعمال ہی کیوں کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ فرعون کے پیش نظر یہ تھا کہ غلام قوم کی یہ بچیاں زندہ رہ کر عورتوں کی عمر کو پہنچیں اور پھر ہماری خادمائیں بنیں ۔ دوسرا سبب وہی ہے جسے صاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے بنی اسرائیل کی غیرت کو حرکت میں لانے کے لیے یہ تعبیر زیادہ موثر تھی، (211/1)۔ چنانچہ قرآن مجید نے انتہائی بلیغ طور پر ’’النساء ‘‘ کا لفظ ’’ابناء‘‘ کے بالمقابل استعمال کیا۔ جس سے نہ صرف اصل بات بیان ہوگئی بلکہ فرعون کے ظلم اوراللہ کے احسان کی نوعیت بھی پوری طرح واضح ہوگئی کہ فرعون نے ان کی جو بچیاں چھوڑی تھیں بطور احسان نہیں چھوڑیں بلکہ اس لیے چھوڑیں کہ ایک روز یہ بچیاں جوان عورتیں بن کر مصریوں کے گھروں اور بستروں کی زینت بنیں ۔ اللہ تعالیٰ اگر ان کو فرعون کی غلامی سے نجات نہ دیتے تو یہی ان کا مقدر تھا۔ اس طرح ’’ تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے ‘‘ کے الفاظ سے جو بات سمجھائی گئی وہ کبھی ’’ تمھاری بچیوں کو زندہ رکھتے‘‘  کہ الفاظ سے واضح نہیں ہو سکتی تھی۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to 2015 سلسلہ روز و شب – اپریل (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Irfan says:

    Jazak Allah

  2. Muhammad Tanveer says:

    Ma sha Allah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *