2015 سلسلہ روز و شب – مارچ (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

اصول پسندی

انذار کا کام

ہمارے ادارے انذار نے دینی پس منظر میں اپنے ذمے جو کام لیا ہے وہ ایمان و اخلاق کی اس دعوت کو زندہ کرنا ہے جسے لے کر سوا لاکھ انبیائے کرام تشریف لائے اور جس کی ایک زندہ تصویر تاقیامت قرآن مجید کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ ایک دوسرا کام جو ہمارے پیش نظر ہے وہ معاشرے میں کچھ ایسی اقدار کی ترویج کرنا ہے جو قوموں کے لیے زندگی و موت کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ان اقدار پر کسی معاشرے کی تمام تر ترقی اور کامیابی کا انحصار ہوتا ہے ۔ ایسی ہی ایک قدر اصول پسندی ہے جس پر آج تفصیلی گفتگو کرنا میرے پیش نظر ہے ۔

اصول پسندی : ایک کائناتی اصول

اصول کیا ہوتے ہیں اوراصول پسندی کی اہمیت کیا ہے ، اسے سمجھنے کے لیے ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ ہماری یہ کائنات جس میں ہم آنکھ کھولتے اور اپنی ساری زندگی گزارتے ہیں ، اصولوں اور اصول پسندی کا بہترین تعارف ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے یہ پوری کائنات ایسے متعین قوانین اور اصولوں پر بنائی ہے جن کی خلاف ورزی کوئی مخلوق کبھی نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر اس کائنات میں روشنی کی رفتار 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے ۔ آپ اس کائنات میں کہیں چلے جائیں ہر جگہ روشنی اسی رفتار سے سفر کرے گی۔ ایک دوسری قسم کی مثال زمین کی گردش ہے ۔ زمین اپنے محور پر تقریباً ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے ۔ یہ رفتار ہر روز ایک جیسی رہتی ہے ۔ دن اور رات کا مقررہ اور قابل پیش گوئی وقت پرآنا جانا اسی متعین گردش کا نتیجہ ہے ۔ کائنات کے انھی متعین اصولوں کی بنا پر یہ ممکن ہے کہ ایک کرہ ارض پر زندگی موجود ہے ۔ سائنسدان انھی متعین اصولوں کو بنیاد بنا کر نہ صرف دنیا کے حقائق سمجھتے ہیں بلکہ ایسی ایجادات کرتے ہیں جن کی بنا پر ہمارا تمدن ترقی کر رہا ہے ۔ اس بات کو چند مثالوں سے سمجھیں ۔

سورج زمین سے تقریباً نو کروڑ میل دور ہے ۔ یہ فاصلہ اگر کم ہوجائے تو گرمی کی شدت کی بنا پر نہ صرف اہل زمین بلکہ خود زمین اپنا وجود کھو دے گی۔ جبکہ یہ فاصلہ بڑھنے کی شکل میں سردی کی شدت زندگی کی ہر رمق کو ختم کرڈالے گی۔ مگر سورج کبھی اس فاصلے کو تبدیل نہیں کرتا۔ زمین اور سورج کا فاصلہ اسی طرح مسلسل برقرار رہتا ہے ۔ یہی معاملہ چاند کا ہے جو زمین سے 3 لاکھ 84 ہزار کلو میٹر دور ہے ۔ چاند کا یہ فاصلہ سمندروں میں ایک مناسب حد تک جوار بھاٹا پیدا کرتا ہے ۔ یہ فاصلہ اگر کم ہوجائے تو زمین کے سمندر تمام ساحلی شہروں کو نگل جائیں گے ۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔

ان جیسی ان گنت چیزیں ہیں جو مقررہ اصولوں کے مطابق اپنا کام کرتی ہیں جس کے نتیجے میں زندگی اس کرہ ارض پر وجود میں آتی اور موجود رہتی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ہمارا تمدن جن ایجادات پر منحصر ہے وہ تمام تر اسی وجہ سے ہوئی ہیں کہ یہ کائنات اور اس کی تمام قوتیں اور مظاہر کچھ مقررہ اصولوں پر چلتے ہیں ۔ ان کی بنا پر یہ پوری کائنات قابل پیش گوئی کردار کی حامل ہے ۔ مثلاً جہازوں میں استعمال ہونے والے اسٹیل اور الومینیم کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ و ہ کتنا دباؤ اور درجہ حرارت برداشت کرسکتے ہیں ۔ ان کی یہ خصوصیت کبھی نہیں بدلتی۔ چنانچہ ان کو اطمینان کے ساتھ جہاز بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہی معاملہ ہوا اور پانی کا ہے ۔ جن کی متعین اصول و قوانین کی بنا پر ٹنوں وزنی جہاز ان پر اطمینان سے اڑتے اور تیرتے ہیں ۔

انسان : اصول اور آزادی

کائنات کی یہی اصول پسندی اور اس کا قابل پیش گوئی کردار ہی وہ چیز ہے جو زمین پر ہماری زندگی اور تمدن کا باعث ہے ۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آسمان و زمین کی تسخیر سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے جو اس نے انسانوں پر کی ہے ۔ وہ انسان جو اس کائنات کا حصہ ہونے کے باجود اپنی ایک مرضی اور ارادہ رکھتا ہے ۔ اس مرضی اور ارادے کی بنیاد پر انسان آزاد ہے کہ چاہے تو کسی اصول کی پابند ی کرے اورچاہے تو نہ کرے ۔

تاہم اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر یہ خصوصی کرم فرمایا ہے کہ انھیں ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی خود عطا فرمائی ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے ۔ ان اصولوں کو قرآن مجید کی اصطلاح میں ایمان اور عمل صالح یا ایمان و اخلاق کے فطری اصول کہا جاتا ہے ۔ بلاشبہ یہ اصول ایسے ہیں کہ انسان اگر خود سے طے کرنا چاہتے تو ہزار ٹھوکریں کھا کر بھی درست راہ پر نہیں پہنچ پاتے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ ایک طرف فطرت انسانی میں ان کو القا کیا تو دوسری طرف انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے ہر دور میں ان کی طرف انسانیت کی رہنمائی کی اور آخری دفعہ قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے ان اصولوں کو محفوظ کر دیا گیا۔

ان دوالہامی اصولوں کے علاوہ انسان اپنے تجربات کی بنیاد پر دو قسم کے اصول اور بناتا ہے ۔ ایک قسم کے اصول وہ ہیں جو انسانی سماج سے جنم لیتے ہیں اور عرف عام میں ان کو اقدار کہا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر آزادی ایک بڑی قیمتی انسانی قدر ہے ۔ اسی طرح بڑوں کا احترام اور خواتین کی عزت بھی ایک بڑی اہم انسانی قدر ہے ۔ دوسری قسم کے اصولوں کا ماخذ ریاست ہوتی ہے ۔ یہ انتظامی نوعیت کے اصول ہوتے ہیں اور عام طور پر قوانین کے نام سے پہنچانے جاتے ہیں ۔ ان کی ایک مثال ٹریفک کے قوانین ہیں ۔

اصول پسندی : فلاح کی ضامن

یہ تمام اصول ایسے ہیں کہ ان کی پابندی دنیا و آخرت میں انسانی فلاح کی ضامن ہے ۔ پہلے الہامی اصولوں کو لے لیجیے ۔ پہلا الہامی اصول ایمان ہے جس کی اساس اللہ کو تنہا معبود سمجھنا ہے ۔ انسانیت نے شیطان کے زیر اثر اکثر اس اصول کی خلاف ورزی کی۔ اللہ کے شریک بنائے ۔ مخلوقات کی پرستش کی۔ انسانوں، جنوں فرشتوں، اپنا علماء و درویشوں کو وہ مقام دیا جو صرف اللہ کا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر دور میں مذہب کے نام پر کچھ انسان دوسرے انسانوں پر مسلط رہے ۔ پاپائیت ، برہمنیت اور دیگر شکلوں میں مذہب کے نام پر عام آدمی کا استحصال ہوتا رہا۔ سیاسی طبقات نے اہل مذہب کے ساتھ مل کر عام انسانوں کی زندگی مشکل بنادی۔ حکمران خدا بن بیٹھے اور انسانوں کی تقدیروں کے فیصلے کرنے لگے ۔

اس کے برعکس جب کبھی تنہا توحید کے اصول کی بنیاد پر انسانی معاشرے قائم ہوئے تو انسانیت نے خلافت راشدہ کے دور میں یہ منظر دیکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے حکمران عام انسانوں کی طرح زندگی گزارتے اور ریاست کے سارے وسائل غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے وقف تھے ۔

الہامی اصولوں کی دوسری اساس اخلاقیات ہے ۔ اس کا ایک اساسی اصول عفت کو اختیار کرنا اور بدکاری سے پرہیز ہے ۔ اس اصول کی پیروی کا نتیجہ وہ خاندانی زندگی ہے جس میں بچوں کو ماں باپ اور بزرگوں کا تحفظ اور بوڑھوں کو نوجوانوں کا سہارا میسر رہتا ہے ۔ جبکہ اس اصول کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نفسیاتی طور پر کبھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا۔ خاندان تباہ ہوجاتے ہیں ۔ ناجائز بچے ، سنگل پیرنٹ فیملی کے مسائل معاشرے میں زبردست عدم توازن پیدا کرتے ہیں ۔ جسمانی اور ذہنی بیماریاں عام ہوجاتی ہیں ۔

اس کے بعد انسانوں کے بنائے ہوئے سماجی اور انتظامی اصول آتے ہیں ۔ سماجی اصولوں کی ایک عام مثال قطار بنانا ہے ۔ جس معاشرے میں قطار بنانے اور اپنی باری کا انتظار کرنے کا رواج نہ ہو وہاں ہمیشہ لڑائی جھگڑا رہتا ہے۔ انتظامی اصولوں کی ایک مثال ٹریفک کے قوانین ہیں ۔ جب لوگ ان قوانین کی پابندی نہیں کرتے تو ہزاروں حادثات کی نظر ہوجاتے ہیں جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ زخموں اور معذوری کا شکار ہوتے ہیں ۔

اصولوں کی خلاف ورزی کی وجوہات

اصولوں کی یہی وہ اہمیت ہے کہ ساری مہذب دنیا میں اصولوں کی پابندی کو ایک بنیادی قدر سمجھا جاتا ہے ۔ اصولوں کی پابندی کرنے والے لوگ مہذب سمجھے جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل پیش گوئی کردار کے حامل ہوتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ مناسب و ذمہ داریاں ان کے حوالے کی جا سکتی ہیں ۔ ایسے لوگ لوہے کی طرح پختہ اور صاحب کردار ہوتے ہیں ۔

ان سارے حقائق کے باجود لوگ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ خاص کر ہمارے معاشرے میں اصول پسند ہونا بے وقوف ہونے کے مترادف ہے ۔ تاہم یہ کوئی اتفاقی صورتحال نہیں ہے ۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں جن کا سمجھنا ضروری ہے ۔

پہلی اور بنیادی وجہ ہمارے نظام تعلیم کی کمزوری ہے جس میں تربیت اور شعور سازی کا عمل شامل نہیں ۔ اصول پسندی قومی سطح پر بڑوں کو نہیں بلکہ بچوں کو سکھانے کا عمل ہوتی ہے ۔ چھوٹی عمر ہی سے اگر اصولوں کی پابندی کی عادت ڈلوادی جائے تو بچے ساری زندگی ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف اسکول اور اساتذہ تربیت کے تصور سے محروم ہیں بلکہ معاشرے میں تربیت کرنے والے سارے ادارے یا تباہ ہو چکے ہیں یا پھر ان کی دلچسپی کا محور کچھ اور چیزیں ہیں ۔ والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ۔ محلے اور خاندان کے بزرگ اب باقی نہیں رہے ۔ آئمہ مساجد اور علماء کی دلچسپی کے موضوعات کچھ اور ہیں ۔ میڈیا کے لیے شوبز، کھیل اور سیاست سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایسے میں کون تربیت کرے ، کون شعور پیدا کرے اور اصول سکھانے کا درد سر کون مول لے ۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ اصول پسندی کچھ جبلی انسانی تقاضوں کے خلاف ہوتی ہے ۔ مثلاً مفاد پرست، خواہش پرست ، جذباتی اور متعصب انسان کبھی اصول پسند نہیں ہوتا۔ ایک مفاد پرست شخص اطمینان سے رشوت لیتا ہے اور ذاتی فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ ایک خواہش پرست شخص اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے کسی کی بھی جان مال آبرو کو نقصان پہنچا دیتا ہے ۔ ایک متعصب شخص حق و باطل اور صحیح و غلط سے بالاتر ہو کر اپنے تعلق اور گروہی عصبیت کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھتا ہے اور اسی بنیاد پر چیزوں کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتا ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ مفاد، خواہش اور تعصبات کا اگر کہیں غلبہ ہے تو پھر اصول وہاں کبھی نہیں پنپ سکتے ۔

اصولوں کی خلاف ورزی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ عام طور پر سہولت پسند ہوتے ہیں ۔ جبکہ عام طور پر اصول کی پیروی ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ چلتی ہوئی گاڑی سے کوڑا پھینکنا بہت آسان کام ہے ۔ مگر ایک تھیلی میں ڈال کر کوڑا جمع کرنے اور کسی کوڑے دان میں جا کر اسے ڈالنا مشکل کام ہے ۔ رات دیر تک جاگنا اور دیر تک سونا مزے کا کام ہے اور فجر کے لیے صبح سویرے اٹھنا ایک مشکل کام ہے ۔ چنانچہ سہولت پسند لوگوں کو کسی ایسے اصول کی پیروی بھی بے حد مشکل لگتی ہے جسے وہ درست سمجھتے ہو ں اور کرنا بھی چاہتے ہوں ۔

اصول پسند کیسے بنیں؟

اصول پسند بننے کے لیے پہلی چیز یہ ہے کہ ہم اپنے اندر، اپنے بچوں اور گھر والوں میں اور ہر جگہ اصولوں کا شعور پیدا کریں۔ اصولوں کی اہمیت کو نمایاں کریں ۔ یہ بتایا جائے کہ اصول پسند شخص ہی صاحب کردار ہوتا ہے اور کردار ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جانوروں سے مختلف بناتی ہے ۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ہم اصول کی پابندی کے نتیجے میں ملنے والے ذہنی سکون کی اہمیت کو سمجھیں ۔ جو شخص اصول کی پابندی کرتا ہے بعض اوقات اسے کچھ نقصان ہوتا، کچھ فائدہ چھوڑنا پڑ تا ہے ۔ مگر اس کے نتیجے میں اسے ایک مستقل ذہنی سکون حاصل رہتا ہے۔ وہ اس ذہنی کشمکش سے محفوظ رہتا ہے جو بے اصول انسان کے ذہن اور زندگی میں ہمیشہ برپا رہتی ہے ۔ یہ ذہنی سکون اتنی بڑی چیز ہے کہ انسان لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی اس کو حاصل نہیں کرسکتا۔ جبکہ ایک اصول پسند انسان کی زندگی میں یہ سکون ہر وقت ہوتا ہے ۔

اصول پسند بننے کے لیے تیسری چیزاپنے مقصد زندگی کا شعور ہے ۔ ایک بندہ مومن کے سامنے سب سے بڑا مقصد جنت کا حصول ہوتا ہے۔ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مفاد پرست، خواہش پرست یا متعصب شخص جنت میں نہیں جا سکتا۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے مفادات، خواہشات اور تعصبات سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دیتا ہے ۔ یہ اصول ایمان و اخلاق کے بھی ہوتے ہیں اور سماج و قانون کے اصول بھی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ جنت کی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے وہ ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھتا ہے کہ اسے اصولوں کی پابندی کرنی ہے ۔ اس کے بغیر وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

اس ضمن کی آخری چیز ایک دوسرے کو توجہ دلاتے رہنا ہے ۔ قران مجید اسی کو تواصو ابا الحق اور تواصوا بالصبر کہتا ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص حالات اور معاملات سے متاثر ہو کر کبھی بے اصولی کر سکتا ہے ۔ مگر یہ دوسرے لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اصولوں اور سچائی کا شعور زندہ رکھیں ۔ یہ وہ عمل ہے جو انسان کو ہر حال میں حق پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ڈگمگانے کی صورت میں اسے واپس راہ راست پر لاتا ہے ۔

جہاں رہیں بندگان خدا کے لیے باعث رحمت بنیے ، باعث آزار نہ بنیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to 2015 سلسلہ روز و شب – مارچ (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Usman says:

    بہت خوب

  2. Bilal Tariq says:

    mashALLAH, jazakALLAH
    Allah is silsilay ko dawaam bakhshay aur aap logon ko istiqaamat ata farmaye.
    ameen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *