2015 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

ہماری اصل جنگ کیا ہے ؟

اس دنیا میں انسان کا اصل مقصد 

قرآن مجید اپنے اس مدعا میں آخری درجہ میں واضح ہے کہ انسان کو اس دنیا میں آخرت کی ابدی فوز و فلاح حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔آخرت کی یہ اہمیت اور انسان کا جہنم کی کھائی سے بچ کر جنت کی باشاہی تک پہنچنا قرآن مجید کے نزدیک اتنا اہم ہے کہ محض فال نکالنے کے طریقے پر اگر آپ کبھی قرآن مجید کا کوئی صفحہ کھول لیں تو آپ پر یہ انکشاف ہو گا کہ قرآن کے ہر صفحے پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے پر یہ مضمون بیان ہوتا ہے۔

یہ بات جو میں بیان کر رہا ہوں کوئی اجنبی بات نہیں ۔ سب مسلمان خواص و عوام اس بات کو مانتے ہیں اور مسلمانوں کا ہر گروہ ہر دور میں اس حقیقت کو مانتا اور بیان کرتا رہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی منزل کے بارے میں کسی پہلو سے بھی کسی شک و شبہ میں نہیں رہنے دیا۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ بھی بڑا عظیم احسان ہے کہ اس نے قرآن مجید میں واضح طور پر یہ بتادیا ہے کہ فلاح آخرت کی اس منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے ۔ یہ بات تفصیل اور اختصار دونوں طریقوں پر قرآن مجید میں بہت مقامات پر بیان کی گئی ہے ۔ جن لوگوں کو تفصیل میں یہ بات دیکھنا ہے وہ میری کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان ‘‘ کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ ایک ایک عمل بیان کر دیا گیا ہے جس کے کرنے یا نہ کرنے پر ہماری اخروی نجات موقوف ہے ۔

قرآن مجید اس تفصیل کو جب مختصر کر کے بیان کرتا ہے تو بلاشبہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیتا ہے ۔اس اختصار میں وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں جو اعمال کرنے ہیں اور جن کو قرآن مجید عمل صالح کہتا ہے ، ان کو کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ ہمارا نفس یا دور جدید کی اصطلاح میں ہماری شخصیت کو پاکیزہ ہوجانا چاہیے ۔ جنت اسی پاکیزگی کا بدلہ ہے ۔ اس بات کو قرآن مجید نے کئی مقامات مثلاً اعلیٰ(14:87)، الشمس(91 : 10-7 )، طہ(20 : 76-75) اور دیگر کئی مقامات پربھی بیان کیا ہے ۔

ہمارے نفس کے کچھ مسائل

تاہم نفس انسانی کی یہ پاکیزگی، اسے بہتر بنانے کا عمل، شخصیت کی بہتری اور اس میں ارتقا، اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر قابو، اچھی عادتوں اور رویوں کا اختیار کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے ۔ یہ اس روئے ارض پر کیا جانے والا مشکل ترین کام ہے ۔ یہ کام اتنا مشکل ہے کہ ہر دور میں لوگوں نے اس مشکل کام کو چھوڑ کر مذہب کے نام پر بہت سے ایسے کام کرنا شروع کر دیے جو دیکھنے میں بظاہر مشکل ہیں لیکن کچھ عرصہ کی عادت اور کوشش کے بعد بہت آسان ہوجاتے ہیں ۔ تاہم اس مضمون کا مقصد مذہب کے نام پر کیے گئے ان انحرافات پر گفتگو کرنا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ جو کام قرآن مجید بتاتا ہے یعنی اپنے نفس کو پاکیزہ بنانا وہ کتنا مشکل کام ہے ۔ یہ لمحہ لمحہ کی وہ جنگ ہے جو ساری زندگی لڑنی پڑتی ہے اور موت تک کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے نفس یا شخصیت کو پاکیزہ بنا چکا ہے ۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی شخصیت کا تجزیہ کر کے یہ دیکھا جائے کہ یہ کیا ہے ، کس طرح تشکیل پاتی ہے اور تزکیہ نفس کی راہ میں خود ہمارا نفس کس طرح مزاحم ہوجاتا ہے ۔

نفس انسانی کے تشکیلی عناصر

انسان اس دنیا میں جوانی کے عالم میں قدم نہیں رکھتا نہ وہ ایک روز اچانک اس زمین پر آسمان سے نازل ہوجاتا ہے ۔ انسان ایک بہت چھوٹے اور معصوم سے بچے کی شکل میں اپنے ماں باپ کے ہاں جنم لیتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں یہ کہ معصوم انسان ایک فطرت صالحہ لے کر اس دنیا میں آتا ہے ۔ مگراس سے کہیں زیادہ مضبوط اور فعال عناصر انسانی شخصیت کی تشکیل اپنے اپنے طریقے پر کرتے ہیں ۔

ان میں سب سے پہلا اور بنیادی عنصر یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنے ماں باپ اور دیگر قریبی رشتہ دارو ں کی جنیاتی ساخت وراثت میں لے کر آتا ہے ، اسی طرح ان کی شخصیت، مزاج اور طبیعت کا بھی ایک عکس اپنے اندر لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ نیا پیدا ہونے والا بچہ یا بچی شکل و صورت میں ماں ، باپ اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ مشابہت کبھی کسی ایک شخص کی ہوتی ہے اور کبھی ایک سے زیادہ لوگوں کے اثرات کم یا زیادہ اس پر نظر آتے ہیں ۔ مثلاً ناک اور آنکھیں ماں کی ہیں تو رنگ باپ پر چلا گیا ہے ۔ قدو قامت دادا کا ہے تو شکل پر چچا یا ماموں کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں ۔

ٹھیک یہی معاملہ انسان کی طبیعت اور مزاج کا ہوتا ہے ۔ باپ میں اگر بہت غصہ ہوتا ہے تو چار پانچ بچوں میں سے کسی ایک میں یہی چیز نمایاں ہوجاتی ہے ۔ ماں اگر بہت دھیمے مزاج کی ہے تو کوئی نہ کوئی بچہ مزاج کا یہ رنگ اپنے اندر ضرور رکھتا ہے ۔ مگر ضروری نہیں کہ بڑے ہونے پر بعینہ بچہ اس مزاج میں ڈھلا ہوا نظر آئے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اثر ایک حد تک ہی ہوتا ہے اور لوگ مزاج میں کاربن کاپی نہیں ہوا کرتے ۔ دوسرے یہ کہ وراثت سے ملنے والے ان اثرات کے علاوہ بھی بہرحال دیگر عوامل شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ ان عوامل کی وجہ سے مزاج پر وراثت کے اثرات کچھ کم ہوجائیں لیکن یہ بہرحال ہوتے ضرور ہیں ۔

ماحول اور وراثت کے اثرات

وراثت سے کہیں زیادہ بڑھ کر انسان کی صورت گری اس کا ماحول کرتا ہے ۔ وراثت کی طرح یہ ماحول بھی انسان کو اس کی مرضی کے بغیرابتداء ہی سے خود بخود مل جاتا ہے ۔ یہ ماحول انسان کا گھر اور گھر والے ، رشتہ دار، محلے والے ، اساتذہ، دوست، رفقاء اور آج کل کے دور میں ٹی وی اور میڈیا بھی فراہم کرتے ہیں ۔

ایک چھوٹا بچہ زبان یہاں سے سیکھتا ہے ۔ کھانے پینے کی عادات یہاں سے اخذ کرتا ہے ۔ سونے جاگنے کے اوقات یہاں سے متعین کرتا ہے ۔ ملنے جلنے کے طریقے ، لب و لہجہ، رسوم و رواج  یہاں سے لیتا ہے ۔ یہ ساری چیزیں ضروری نہیں کہ انسان کو باقاعدہ سکھائی جائیں ۔ ماحول خود سب سے بڑا استاد ہوتا ہے ۔ یہ وہ مدرسہ ہے جس کا نصاب تقدیر طے کرتی ہے ۔ یہ ایک خاندان کے ہر فرد کے لیے بہت مختلف ہو سکتا ہے ۔ مگر ہر انسان چاہے نہ چاہے اس مدرسے کا طالب علم بننے پر مجبور ہے اور وہ وہی کچھ بن کر نکلتا ہے جو یہ مدرسہ اسے غیر نصابی اور غیر رسمی انداز میں سکھاتا ہے ۔ یہ مدرسہ چھوٹی عمر ہی نہیں بلکہ بڑی عمر تک انسان پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے اورغیر شعوری طور پر انسان مجبور ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتا رہے جو اس کی تقدیر اس کے لیے طے کر چکی ہے ۔

فطرت ، وراثت اور ماحول کے اثرات اپنی جگہ مگرا نسانی شخصیت کی تشکیل میں اہم ترین کردار تعلیم و تربیت کا ہوتا ہے ۔ ماحول کے برعکس جو غیر شعوری اور غیر رسمی طور پر بچے کی شخصیت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے ، تعلیم و تربیت پورے شعور سے اور رسمی طور پر اس لیے دی جاتی ہے کہ ماں باپ اور معاشرہ یہ چاہتے ہیں کہ بچہ ان کی اقدار اور روایات کے مطابق ان کے خاندان اور سماج کا حصہ بنے ۔

یہ بات ایک منطقی حقیقت ہے کہ عام حالات میں تربیت وہی ہوتی ہے جس طرح کا ماحول انسان کو ملا ہوتا ہے ۔ تاہم والدین اور معاشرے اگر چاہیں تو تعلیم اور تربیت اتنی مضبوط اور فیصلہ کن قوت ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ بچے پر ماحول اور وراثت کے تما م اثرات کو مٹا کر اس کی شخصیت کو ایک نئے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں ۔

بچے میں اگر غصے کی عادت ہے تو اس کو تربیت سے یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ اس پر قابو کیسے پایا جائے ۔ بچے کے ماحول نے اگر اس کے انداز گفتگو میں بدتمیزی کا عنصر پیدا کر دیا ہے تو تربیت اس کو با ادب اور تمیزدار بنا سکتی ہے ۔ یہی تربیت کی اصل اہمیت ہے کہ یہ انسانی شخصیت کی تشکیل کے عمل کو جس رخ پر چاہے موڑ سکتی ہے ۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2015 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Usman says:

    بہت خوب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *