2015 سوال و جواب – جون (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

  

سوال و جواب

ابویحییٰ

 

گرمیوں کے طویل روزے

سوال: السلام علیکم ،

امید ہے آپ خیریت سے ہیں ۔ ابو یحییٰ صاحب آپ نے کافی عرصہ پاکستان سے باہر گزارا ہے لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ آپ اس سوال کا بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ قریب ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ قطب شمالی کے قریب مثلاً شمالی کینیڈا اور سٹاک ہوم وغیرہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے گرمیوں میں دن بہت لمبا ہوتا ہے ۔ پچھلے سال روزے کا دورانیہ ان علاقوں میں تقریباً بیس سے اکیس گھنٹے تھا۔ اس صورتحال میں ان مریضوں اور حاملہ خواتین کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جنہیں پورا دن مسلسل پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگوں نے مکہ مکرمہ کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنا شروع کر دیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس کی کیا توجیہ کرتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس ضمن میں اسلام کیا کہتا ہے اور برائے کرم اس بات کو مد نظر رکھیے کہ دوسرے مہینوں میں روزہ رکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ دوسروں کے ساتھ روزہ رکھنے کے برعکس اکیلے روزہ رکھنا زیادہ مشکل کام ہے۔ انیلہ یاسمین

جواب: محترمہ انیلہ یاسمین صاحبہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عبادت اور احکام شریعت کے بارے میں دین اسلام کا بنیادی اصول جو سورہ بقرہ کے آخر میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد پر دین اسلام میں تمام شرعی معاملات میں رعایت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر نمازوں کا قصر کرنا، وضو کی جگہ تیمم کی اجازت وغیرہ۔ ایسی ہی اجازت اللہ تعالیٰ نے روزوں کی فرضیت کے ضمن میں مسافروں اور مریضوں کو دی ہے ۔ اس حالت میں چونکہ روزہ رکھنا مشقت کا کام ہے اس لیے بعد میں ان روزوں کی قضا کی جا سکتی ہے ۔

اسی اصول پر آپ اپنے سوال کا جواب خود جان سکتی ہیں ۔ مریض اور حاملہ خواتین کو رمضان کے روزے چھوڑنے کی اجازت ہے ۔

جہاں تک مکہ کے وقت کے مطابق روزہ رکھنے کا سوال ہے تو یہ رائے انھی مقامات کے بارے میں دی جا سکتی ہے ۔ جہاں عملی طور پر دن اور رات کا فرق مٹ چکا ہو اور متواتر دن یا رات رہتا ہو۔ جن خطوں میں دن بہت طویل ہوجاتا ہے وہاں ہماری رائے میں روزہ رکھنا چاہیے ۔ اگر کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہو اور باعث ضرر ہو تو پھر وہ دوسرے دنوں میں قضا کر لے ۔ یہ قضا بہرحال کرنی چاہیے اور سستی اور غفلت کو عذر نہیں بننا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوستان میں پیغمبروں کی آمد

سوال: السّلام علیکم

ہندوستان کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ کئی ہزار سال سے انسانوں کا مسکن رہا ہے۔ مگر قرآن یا دیگر صحائف سے یہاں کسی نبی کی آمد کا سراغ نہیں ملتا. یہی معاملہ امریکا وغیرہ کا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسانوں کی طرف پیغمبر نہیں بھیجے؟ یا ہم ان سے لا علم ہیں ؟ پلیز وضاحت فرما دیں ۔          محمد سجاد نواز

جواب: اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کی طرف انبیاء بھیجے ہیں اور ہدایت کو تمام لوگوں تک براہ راست پہنچانے کا اہتمام کیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

ہر قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہوتا ہے ۔، سورۃ الرعد:7

یہ آپ کے سوال کا اصولی جواب ہے ۔ رہا یہ سوال کہ ہندوستان یا امریکہ میں کسی نبی کی آمد کا سراغ نہیں ملتا تو یہ بات ٹھیک ہے ۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں نبی نہیں بھیجے گئے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں صرف ان انبیا کے قصے بیان ہوئے ہیں جن سے اس کے اولین مخاطبین یعنی بنی اسماعیل کے عرب اور یہود و نصاریٰ واقف تھے ۔ یہی وہ انبیا ہیں جن کا ذکر ان کی روایات میں موجود تھا یا پھر ان کی کتابوں میں ان کے حالات تھے ۔ اس کے علاوہ کسی اور نبی کا بیان قرآن مجید نے نہیں کیا۔

ظاہر ہے کہ اس مطلب یہ نہیں کہ باقی اقوام کے لیے نبی نہیں تھے ۔ اس کا جواب تو مذکورہ بالا آیت نے دے دیا کہ ہر قوم کے لیے ہدایت کا اہتمام کیا گیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکیوں کا مسترد کیا جانا

سوال : بھائی وہ آپ کی شادی والی بک ’’یہ نعمت مصیبت کیوں بن گئی ہے‘‘ میں لڑکیوں کی ریجکشن کا ذکر نہیں ۔ حالانکہ آدھی سے زیادہ لڑکیاں خراب ہی بار بار ریجکٹ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں اور اس میں تو والدین کی بھی غلطی نہیں۔ کچھ تو اس سے اللہ کہ قریب ہو جاتی ہیں مگراللہ کو اس کا قصور وار سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے تو آپ اس پہ کوئی آرٹیکل لکھیں ۔  عدیلہ کوکب

جواب: لڑکیوں کی ریجیکشن بڑی تکلیف دے شے ہے ۔ مگر یہ اس مضمون کا موضوع نہ تھا۔ لڑکیوں کو بھی اسے ریجیکشن کے طور پر نہیں لینا چاہیے ۔ انھین سوچنا چاہیے کہ یہ نصیب ہی میں نہیں تھا۔ یا اس میں اللہ کی طرف سے بہتری نہیں تھی۔ یہ اصل میں ریجیکشن ہوتی بھی نہیں ہے ۔ بلکہ ترجیح یا ذوق اور حالات کا معاملہ ہوتا ہے ۔ یہ ہر شخص کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی ترجیح اور ذوق کے لحاظ سے معاملہ کرے ۔ اس پر برا نہیں ماننا چاہیے۔ اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ جلد یا بدیر اچھا رشتہ آہی جائے گا۔ لیکن کبھی کسی بہن کے ساتھ معاشرے نے یہ ظلم کیا کہ اس کی شادی نہیں ہو سکی تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ جنت میں جانے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے کسی بہت اچھے بندے سے اس کی شادی کراوئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی مظلوم بہنیں زندہ گاڑی ہوئی بچیوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ انشاء اللہ ان کو انصاف ضرور ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2015 سوال و جواب – جون (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. zahid mushtaq says:

    Masha Allah I’m very appropriate for questions and answers I have question as well sir I’m living in United kingdom and my profession is bus driver since I’ve read your book when life begin its change my life so I trying to do my job but some time it’s very hard I should say all time because female girls ladies women in warm day wearing impropriet clothes its very easy to attract to others its big sin but in this matter I need help and guidance please. Thanks

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *