2015 سوال و جواب – مارچ

Download PDF

 

 

سوال وجواب

بنت عتیق /ابویحییٰ

نماز کو بہتر بنانے کا طریقہ

 

سوال: السّلام علیکم!

سورہ معارج کی آیات نمبر 19 تا 23 میں اللہ نے فرمایا ہے : ’’بیشک انسان بڑا بے صبرا (کم ہمّت) پیدا کیا گیا ہے ۔ جب اسے کوئی برائی پہنچے تو گھبرا اٹھنے والا ہے۔ اور اسے آسائش پہنچے تو بخل کرنے والا ہے۔ ان نمازیوں کے سوا جو اپنی نماز پر پابندی کرتے ہیں ۔ ‘‘

میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی حد تک کوشش کرتا ہوں کہ نماز کی پابندی کروں اور شاید ہی کوئی نماز قضا ہوتی ہے ۔ مگر مجھے نماز سے یہ مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو رہے ، میری طبیعت میں گھبراہٹ جوں کی توں موجود ہے ۔ کیا آپ مجھے کوئی ذریعہ بتا سکتے ہیں جہاں سے مجھے فطرت میں پھیلی اللہ کی نشانیوں میں غور کی وجہ سے ایک دفعہ پھر معرفت رب کی دولت میسّر آ سکے؟ نماز کو بہتر بنانے کا اور کیا طریقہ ہے جس سے میں اپنے رب سے قریب ہو سکوں ؟
عرفان راشد

جواب:  وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

عرفان صاحب، آپ نے جس قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے ، اس میں دراصل اُن کفار و منافقین کے رویے پر تنقید کی گئی ہے جن کی آنکھوں پر مادیت کی پٹی بندھی تھی۔ دنیاوی ساز و سامان اور دنیاوی فوائد ہی ان کی تسکین کا باعث تھے اور یہ پا کر وہ بخل کی راہ اختیار کرتے ۔ اور دنیا کے نقصان پر ان کی جان جاتی تھی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے برعکس اُن مومنین کی صفات تفصیل سے بیان کی ہیں جو مادیت سے پرے حکمت و روحانیت کی راہ کے مسافر تھے ۔ نماز کے ذکر کے بعد ان کے انفاق، ان کے ایمان، ان کی دیانت داری اور عفت و حیا ، غرض ان سچے مومنین کی اعلیٰ شخصیت کا تعارف پیش کیا ہے ۔

یہ تقابلی جائزہ بتاتا ہے کہ ایک مومن کے یہ تمام اوصاف اسے اُس رویے سے باز رکھتے ہیں جو آیت 19 میں بیان ہوا ، یعنی بے صبری، بے حوصلگی۔ اس مادیت سے پاک مضبوط شخصیت کا حامل انسان جسے خدا پر کامل یقین ہو اورجس کے پیشِ نظر آخرت کی کامیابی ہو تو دنیاوی نقصانات یا بظاہر مایوس کن حالات و واقعات اس سے اس کی امید اور حوصلہ نہیں چھینتے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب سب سے بڑا منصف اور رحیم ہے ۔

جہاں تک بات ہے نماز میں بہتری اور خشوع کی تو سب سے اہم ہے رب کی عظمت اور اپنے عجز کا احساس جو ہر دم ہم پر طاری رہنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات کا بوجھ دل پر ہو تو یوں بھی انسان کا وجود شکرگزاری کے احساس سے جھُک کر وہ خشوع حاصل کر سکتا ہے ۔ خشوع اس احساس کا نام ہے کہ ہم ایک بلند و عظیم ہستی کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس کے لیے آنکھ میں آنسو اور دل میں رقت اور خیالات میں یکسوئی ضروری نہیں ، صرف نماز میں یہی احساس زندہ رہے کہ میں اللہ کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نماز کے لیے کھڑا ہو گیا ہوں تو بڑی بات ہے ۔

اس کے لیے میرے اپنے تجربے کے مطابق سب سے موثر ذریعہ دعا کا ہے ۔ شیطان اکثر ہماری کیفیات اور خشوع کے بیچ حائل ہوجاتا ہے ، جس کے نتیجے میں خدا سے دوری محسوس ہوتی ہے ۔ ایسے میں خدا کو سچے دل سے ہدایت و معرفت حاصل کرنے کے لیے پُکارا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے قرآن کریم ترجمہ و تفسیر سے پڑھنے کی عادت ڈالیں ۔ اللہ کے مطالبات کو جان کر اسے پورا کریں ۔ ساتھ ہی اچھی باتیں سُن کر دوسروں تک پہنچائیں ۔ اس سے اپنے تزکیے میں بہت مدد ملتی ہے ۔اللہ تعالیٰ آپکا حامی و ناصر ہو۔

نماز فجر میں کیسے اٹھا جائے

سوال: فجر کی نماز اکثر قضا ہوجاتی ہے ۔ ایسا کیا کروں کہ وقت پر جاگ سکوں؟

جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

صبح کی نماز وقت پر پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنا معمول بہتر بنایا جائے۔ اس کی زیادہ تر وجہ رات کو دیر سے سونا ہوتی ہے ۔ دیر سے سونے کی بنا پر فجر کی نماز کے وقت تک انسان کی نیند نہیں بھری ہوتی۔ اس لیے آنکھ کھلنے کا امکان کم ہوتا ہے ۔ انسان اگر جلدی سوجائے تو وہ نسبتاً آسانی کے ساتھ فجر کے وقت اٹھ سکتا ہے ۔ دوسری چیز سونے سے پہلے قطعی ارادہ کرنا ہے ہے کہ فجر میں ضرور اٹھنا ہے ۔ اس کے لیے اللہ سے مدد کی درخواست کی جائے ۔ فجر کے لیے الارم لگایا جائے ۔

ان دونوں اہتمام کے بات انشاء اللہ آنکھ ضرور کھلے گی۔ تاہم بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ آنکھ کھل بھی جائے تو نیند کے غلبے میں الارم بند کر کے پھر سوجاتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ الارم سرہانے پر رکھنے کے بجائے تھوڑا دور رکھیں تاکہ اٹھ کر گھڑ ی یا موبائل تک پہنچیں ۔ اس طرح اٹھنے سے نیند کا وہ غلبہ ختم ہوجائے گا جس میں انسان الارم بند کر کے سوجاتے ہیں ۔ ایک اور غلطی لوگ یہ کرتے ہیں کہ آنکھ کھلنے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ پانچ سات منٹ اور سو جائیں ۔ یاد رکھیں اس کے بعد اتنی گہری نیند آتی ہے کہ انسان کے لیے جاگنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔ اس لیے پہلی دفعہ میں فوراً ہمت کر کے کھڑے ہوجائیں اور واش روم جا کر منہ پر پانی ڈالیں تاکہ نیند بھاگ جائے ۔ تھوڑے دنوں تک ان چیزوں کو معمول بنائیں ۔ انشاء للہ جلد ہی فجر میں اٹھنے کی عادت پیدا ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2015 سوال و جواب – مارچ

  1. maryam says:

    excellent and factfull way to getup for Fajar prayer..its my experience as well..its 100% true and effective.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *