2015 مکاتیب – جولائی (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

مکاتیب

ابو یحییٰ

قرآن مجید میں غلامی کی ممانعت کا حکم

 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ     17/9/14     

محترم، غلامی ایک فطری برائی ہے۔ کوئی انسان اسے کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔ یہ اس قدر فطری برائی ہے کہ جو لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں وہ بھی کبھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ ان کی بہن ، بیٹی اور بیوی یا دیگر قریبی رشتہ دار خواتین کو لونڈیاں بنایا جائے۔ اس لیے جو لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں میں ان سے پہلے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا وہ اپنی بہن بیٹیوں کے لیے بھی اس برائی کو جائز قرار دیں گے؟ کوئی طاقتور فرد یا گروہ یا غیر ملکی طاقت بالجبر ایسے لوگوں کی خواتین کو اٹھا کر لے جائے تو کیا وہ یہ کہہ کر خاموش بیٹھ جائیں گے کہ بھئی قرآن میں تو لونڈیوں کی ممانعت ہے نہیں۔ اس لیے ہم اپنی خواتین کا لونڈی بن جانا قبول کر لیتے ہیں ۔

اس لیے اس ناقابل تردید حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ لوگوں کو لونڈی غلام بنانا بدترین ظلم اورجبر ہے۔ تاہم بدقسمتی سے تاریخ میں ایک زمانے میں یہ جبر رائج ہو گیا اور ہزاروں برس تک رائج رہا۔ قرآن مجید نے اسی کی بتدریج اصلاح کی ہے۔ اس کی تفصیل؛ قرآن مجید اور سیرت طیبہ سے اس کے ثبوت اگر آپ کو درکار ہیں تو مولانا امین احسن اصلاحی نے سورہ نور کی تفسیر میں آیہ مکاتبت کے تحت اس کی تفصیل کر دی ہے ، جسے آپ ان کی تفسیر تدبر قرآن میں دیکھ سکتے ہیں ۔ مزید تفصیل ہمارے دوست مبشر نذیر صاحب نے غلامی پر لکھی گئی اپنی کتاب میں کر دی ہے۔ جسے کوئی سوال ہے وہ ان کی تحقیقات دیکھ لے ۔

ہمارے ہاں یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ لونڈیوں کے ذکر سے لوگوں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ نہ قرآن کریم اور سیرت طیبہ کا گہرا فہم رکھتے ہیں نہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ لونڈیاں ہمیشہ کمزوروں کی خواتین کو بنایا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا میں کمزور مسلمان ہیں۔ یہ قانون وحشت اگر دوبارہ لوٹا تو اصل خسارے میں مسلمان رہیں گے۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ     18/9/14

دیکھیے قرآن مجید چیزوں کو حرام قرار دینے کے لیے دو طریقے اختیار کرتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی چیز کا نام لے کر اسے ممنوع قرار دے دیا جائے۔ جیسے قرآن مجید تجسس کی ممانعت کرتے ہوئے کہتا ہے : ولا تجسسو ا، (الحجرات 12:49)۔ یعنی تم تجسس نہ کرو۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ گناہوں کی عمومی کیٹیگری کو ممنوع قرار دے دیا جائے ۔ اس کیٹیگری کے ذیل میں آنے ولی تمام چیزیں خود ہی ممنوع ہوجاتی ہیں اور قرآن کریم میں ان کی ممانعت کا حکم تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مثلاً ایک شخص یہ کہے کہ قرآن پاک میں سور کھانے کی تو ممانعت ہے البتہ سانپ کھانے کی نہیں ہے اس لیے سانپ کھانا جائز ہو گیا۔ یہی معاملہ تمام درندوں اور بول و براز وغیرہ کا ہے۔ آپ کو ان کی ممانعت کا براہ راست حکم قرآن مجید میں نہیں ملے گا۔

ایسی چیزوں کی حرمت میں جیسا کہ بیان ہوا کہ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ عمومی کیٹیگری بیان ہوجاتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے اسی اصول پر خبائث کو حرام قرار دیا ہے اور فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کے لیے صرف طیبات ہی حلال قرار دیے ہیں ، (المائدہ 5:5)۔ چنانچہ سانپ ، شیر، چیتے اور بول و براز وغیرہ اس وجہ سے حرام ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کو فطری طور پر خبیث چیزوں کے طور پر جانتا ہے۔ خیال رہے کہ استثنائی طور پر اگر کوئی واقعہ اس نوعیت کا ہوجائے تو اس سے ان کی فطری حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

حرمت کی ایسی ہی ایک کیٹیگری وہ ہے جس میں قرآن بغی یا زیادتی کوممنوع قرار دیتا ہے ، (اعراف 33:7)۔ اب اس کے بعد ضروری نہیں رہتا کہ قرآن مجید ظلم کی ہر قسم کا نام لے کر یہ بیان کرے کہ فلاں زیادتی ناجائز ہے اور فلاں ظلم حرام ہے۔ بلکہ انسانی فطرت اور معاشرے جس جس چیز پر ظلم کا اطلاق کرتے ہیں وہ خود بخود اسی اصول پر حرام ہوجائے گا۔ کسی انسان کی آزادی کو سلب کر کے اسے غلام بنالینا اسی نوعیت کی چیز ہے۔ چنانچہ غلامی اسی اصول پر حرام ہے کیونکہ اس میں لوگوں کی آزادی پر حملہ کر کے اور ان کی عزت اور آزادی پامال کر کے انھیں غلام بنایا جاتا ہے ، بالجبر ان سے مشقت لی جاتی ہے اور دیگر طریقوں سے انھیں ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ غلامی ہر حال میں ایک برائی تھی اور اسے گوارا کرنا اسلام کے لیے کسی طور ممکن نہ تھا۔ مگر جیسا کہ بار بار بیان ہوتا ہے کہ یہ برائی اتنی زیادہ پھیل چکی تھی کہ نہ صرف اس کی برائی کا تاثر ختم ہو چکا تھا بلکہ پورا معاشرتی نظام اسی پر منحصر ہو چکا تھا اس لیے دین اسلام نے اس برائی کے خاتمے میں تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ برائی کو بھی غیر فطری طریقے پر ختم نہیں کرتا۔

چنانچہ جو لوگ آج غلامی اور خاص کر خواتین کو لونڈی بنا کر ان سے استفادہ کے قائل ہیں اور اس کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں غلامی کے خاتمے کا کوئی حکم نہیں وہ سرتاسر غلطی پر ہیں۔ قرآن مجید ظلم و زیادتی کی ہر قسم کو حرام کرتا ہے۔ غلامی اس ظلم کی بدترین شکل ہے اور اس کا دوبارہ شروع کرنا ایک بدترین جرم ہے۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2015 مکاتیب – جولائی (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Jehanzeb Adil says:

    میرا خیال تھا کہ ماڈریشن ہو چکی ہوگی۔
    بہر حال اسلام نے غلاموں سے حسن سلوک کے جو احکامات دیئے ہیں، ان سے بھی غلامی کی مطلق ممانعت کی نفی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کیلئے غلامی صرف اللہ کہ ہے، دنیا میں مسلمان اگر غلام یا کمزور رہے گا تو اللہ کا پیغام بہتر انداز سے نہ پہنچا سکے گا نہ ہی احکامات الٰہی کو لاگو کر سکے گا۔
    میرے خیال میں اللہ کے احکامات سے رو گردانی کا نتیجہ غلامی کی صورت میں نکلتا ہے چاہے وہ ذہنی غلامی ہو یا جسمانی۔۔۔ اللہ ہم سب کو اپنے دین کی بہتر سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *