2016 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

جمہوریت ، آمریت، خلافت

انسان اور ریاست : تاریخی پس منظر

ریاست انسان کی ایک اتنی ہی فطری ضرورت ہے جتنی چھت اور گھر انسان کی ضرورت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آج زمین پر انسان کا جو غلبہ نظر آتا ہے، ایک زمانے تک صورتحال اس سے بالکل مختلف تھی۔ ہزاروں برس پہلے جب انسان تمدن کے ابتدائی مرحلے میں تھا، اس زمین پر انسان بہت کمزور اور دفاعی پوزیشن میں رہتا تھا۔ فطرت کی طاقتوں اور وحشی جانوروں کی کثیر انواع کے مقابلے میں بنی نوع انسان ایک بہت کمزور جسم کے ساتھ موجود تھا۔ اس کی عقل نے بہت تیر مارا تو لکڑی اور پتھروں کے کچھ اوزار اور ہتھیار بنالیے ، لیکن پھر بھی گوناگوں چیلنجز اسے ہمیشہ خطرے کی زد میں رکھتے تھے ۔

چنانچہ انسان کی بہترین دفاعی لائن یہ تھی کہ وہ تن تنہا جینے کے بجائے گروہوں کی شکل میں جیے۔ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت اور ساخت پر انسان کو تخلیق کیا اس کی وجہ سے خاندان کی شکل میں ساتھ رہنا ویسے بھی اس کی مجبوری تھی۔ مثلاً یہ حقیقت کہ دوسرے جانداروں کے برعکس انسانی بچہ اپنی پیدائش کے کئی برس بعد بھی اپنی بقا کے لیے ماں باپ کا محتاج رہتا ہے۔ یا پھر انسان کا یہ اخلاقی احساس کہ وہ اپنے کمزور متعلقین خاص کر والدین کی ذمہ داری کو ان کی موت تک ترک نہیں کرتے ۔ چنانچہ پہلے کئی خاندان اور پھر قبائل کی شکل میں لوگ جیتے بستے رہے تاکہ یہ اجتماعیت ان کی کمزوری کا مداوا بن جائے ۔

تاہم یہ بھی انسانی طبیعت ہے کہ لوگ جب ساتھ رہتے ہیں تو ان میں آپس میں جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ یہیں سے یہ ضرورت بھی پیدا ہوئی کہ باہمی تنازعات کو طے کرنے کے لیے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ظلم سے بچانے کے لیے کوئی ایسا فریق ہو جو جھگڑے نمٹا سکے ۔ یہیں سے قبائلی سردار وں کا تصور ابھرنا شروع ہوا جو لوگوں کے باہمی جھگڑے نمٹانے کے ساتھ خارجی خطرات کی صورت میں بھی ان کی رہنمائی کرتے۔ یہ سردارعام طور پر قبیلے کا کوئی بزرگ ہوتا یا پھر کوئی طاقتور شخص جس کی طاقت اور صلاحیت کے سب معترف ہوتے۔ اس طرح کے طاقتور سرداروں کی زندگی میں ان کی اولادیں بھی نمایاں ہوجاتی تھیں ۔ چنانچہ عام طور پر سردار کے بعد اس کا بیٹا ہی سردار بن جاتا۔ بعض اوقات کسی سردار کی اچانک موت، کسی دوسرے زیادہ حوصلہ مند شخص کی موجودگی یا پھر دیگر خاندانی عصبیتوں کی بنا پر کوئی شخص سردار بن جایا کرتا لیکن عام حالات میں باپ کے بعد بیٹے کی سرداری ایک معروف رواج بن گیا۔ کیونکہ لوگوں کے تعصبات ایک خاص شخص کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہوتے تھے۔ چنانچہ عصبیت کے پہلو سے اس کے بیٹے کو بھی اپنے سردار کے طور پر قبول کرنا ان کے لیے زیادہ آسان تھا۔

ریاست اور خاندانی آمریت

تمدن کے ارتقا کے ساتھ انسان نے بڑی بڑی بستیاں آباد کرنا شروع کیں۔ قصبے اور شہر وجود میں آئے۔ نسلیں اور قومیں بننا شروع ہوئیں جو صدیوں ایک ہی جگہ آباد رہتیں۔ چنانچہ نسلی اور جغرافیائی وحدتیں وجود میں آنے لگیں۔ ان میں متعدد سردار اپنے اپنے قبائل یا گروہوں کی قیادت کرتے اور کسی اجتماعی مسئلے کی شکل میں مل بیٹھ کر تنازعات اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش بھی کیا کرتے تھے ۔

تاہم اس تاریخی عمل میں کبھی کبھی کسی قبیلے میں کوئی اولوالعزم اور غیر معمولی شخص پیدا ہوجاتا۔ یہ حوصلہ مند فرداپنی کرشمہ سازشخصیت، جرات وعزیمت، تنظیمی صلاحیت اور لوگوں کو متاثر کرنے کی استعداد کی بنیاد پر مختلف الخیال لوگوں کا رہنما بن جاتا۔ اور رفتہ رفتہ اپنی طاقت بڑھاتے ہوئے دیگر قبائل کو شکست دے کر یا اپنے ساتھ ملا کر ایک وسیع حکمرانی قائم کر لیتا۔ یوں اس جغرافیائی یا نسلی وحدت میں ایک منظم اور باقاعدہ ریاست وجود میں آ جاتی۔ اس کی ایک نمایاں مثال چنگیز خان کی ہے جو ایک چھوٹے سے قبیلے کے سردار کا بیٹا تھا، مگر اپنی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر اس نے منوا لیا کے مختلف قبائل کو ساتھ ملا کر ایک منظم ریاست قائم کی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایسے کسی حکمران کی طاقت محض ذاتی طاقت نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کا قبیلہ ، اس کے جنگجو اور اس کے حلیف بھی پوری طرح اس کے ساتھ ہوتے اور اس نظام سے مستفید ہوتے تھے ۔ چنانچہ حلیف اور رفقا اپنے مفاد کے تسلسل کے لیے اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد یا متعلقین میں سے کسی کو اپنا حکمران تسلیم کر لیتے ۔ مفاد اورعصبیت کے علاوہ اس کا ایک اور اہم سبب یہ تھا کہ یہ طریقہ پرامن بھی تھا۔ ورنہ ہردفعہ حصول اقتدار کی جنگ میں بہت کشت و خون ہوتا۔ خاندانی بادشاہت ان تمام وجوہات کی بنا پر قیادت کی تبدیلی کا ایک بہترین ذریعہ تھی۔ یوں قدیم دنیا میں بادشاہت کا ادارہ اقتدار کا پہلا اور سب سے عام ذریعہ رہا۔

نظریاتی آمریت

آمریت کی ایک دوسری شکل بھی دنیا نے تمدن کے ارتقا کے ساتھ ساتھ دیکھی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ چونکہ کسی قائم شدہ بادشاہت کو ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔ ایسی کوشش کرنے والے بالعموم قتل کر دیے جاتے تھے ۔ اس لیے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بعض اولوالعزم لوگ نظریات کا استعمال کرتے تھے ۔مثلاً اسلامی تاریخ سے واقف لوگ یہ جانتے ہیں کہ جس وقت بنوامیہ کے خلاف بنوعباس نے اپنی مہم شروع کی تو انہوں نے قرابت رسول اور اہل بیت کا نام بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ برسر تنبیہہ یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ خراسان کے حوالے سے جن ضعیف اور موضوع روایات کی بنیاد پر اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جو فساد برپا ہے وہ عباسی تحریک ہی کے زمانے میں وجود میں آئیں ۔ بات صرف یہ تھی کہ عباسی تحریک کے سب سے بڑے داعی اور نقیب ابو مسلم خراسانی نے عباسی بغاوت کا آغاز خراسان سے کیا تھا جو کہ خلافت بنو امیہ کا مشرقی صوبہ تھا۔ اسی ابومسلم نے ضعیف الاعتقاد نومسلم عجمیوں کی قوت کو بنو امیہ کے خلاف منظم کیا۔ خراسان اس کا مرکز تھا۔ کالے جھنڈے اور کالے عمامے عباسیوں کے نشان تھے ۔ اسلامی تاریخ کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے۔ یہی کالے جھنڈوں اور خراسان سے اٹھنے والے لشکروں کی کل حقیقت ہے ۔ یہ بنو امیہ کے خلاف عباسیوں اور علویوں (سیدنا علیؓ کی اولاد اور نام لیواؤں) کے متحدہ محاذ کی نظریاتی جنگ تھی تاکہ اپنی جنگ کو مقدس بنا کر عوامی تائید حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے یہ تائید اور اقتدار حاصل کربھی لیا۔ مگر نجانے اس خراسان اور کالے جھنڈوں کے پیچھے اور کتنی تباہی ہمیں دیکھنا ہو گی۔ خیال رہے کہ اُس وقت موجود ائمہ اہل بیت اِس فساد کی حقیقت کو سمجھتے تھے اور اس لیے وہ اس سے بالکل دور رہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر عباسیوں نے ان کے نام پر بنو امیہ سے جنگ تو کی مگر آخر کار علویوں کو کونے میں کر کے اقتدار پرخود قبضہ جمالیا۔

بہرحال عباسیوں ، علویوں اور خاص کر ابو مسلم خراسانی نے عربوں کے خلاف عجمیوں کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے نظریات کا استعمال کیا۔ کالے عمامے ، کالے جھنڈے ، اہل بیت اطہار اور قرابت رسول کے مقدس ناموں کا زبردست استعمال ہوا۔ یوں ان نظریات کے سہارے دنیا کی سب سے طاقت ور بادشاہت بنو امیہ اپنے عین عالم شباب میں ختم کر دی گئی ۔ تقدس کا یہ ہالہ اتنا مضبوط تھا کہ بنو عباس کی سیاسی قوت تو دو صدی ہی میں ختم ہوگئی لیکن قرابت رسول کے تقدس کی بنیاد پر خلافت بنو عباس پانچ صدیوں تک قائم رہی۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم حملہ آور ہلاکو خان نے اس کو ختم کر دیا۔

بہرحال خلاصہ یہ کہ سماج اور ریاست میں بادشاہت اور خاندانی آمریت کے بعد اقتدار کی دوسری بنیاد نظریاتی آمریت کو حاصل رہی ہے۔ اس طریقے میں فرد کی ذاتی صلاحیت اور استعداد کے ساتھ ساتھ یا اس سے بڑھ کر ایک نظریہ کچھ ہم خیال لوگوں کو حصول اقتدارکی جدوجہد پر ابھارتا ہے۔ یوں ایک نظریاتی پارٹی یا گروہ وجود میں آتا ہے۔ بعض اوقات اقتدار پر اس گروہ کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ یوں ایک فرد کے بجائے ایک پورا نظریاتی گروہ کسی معاشرے کو اپنا یرغمال بنا کر اپنا غلبہ و اقتدار قائم کر لیتا ہے۔ قدیم دورمیں یہ نظریاتی پارٹی بھی بادشاہت کا روپ دھار لیتی تھی البتہ دورجدید میں فرد کے بجائے پارٹی یا گروہ کی آمریت کا چلن عام ہوا۔ اس کی ایک نمایاں مثال کمیونسٹ تحریک ہے جس کے اقتدار نے ستر برس تک نصف دنیا کوا پنے شکنجے میں جکڑے رکھا۔

یہ دونوں شکلیں بظاہر مختلف ہیں ، مگر ان میں جو چیزمشترک ہے وہ یہ ہے کہ عوام کی مرضی و منشا کے بغیربادشاہت اور آمریت عوام پر مسلط ہوجاتی ہے ۔ ان میں کوئی اچھی بات ہوتی ہے تو لوگوں کو اس کا فیض ملتا ہے اور ان کا جو شر ہے وہ بہرحال عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

آسمانی جمہوریت

بعض لوگوں کو یہ تعبیر شاید کچھ اجنبی لگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب آسمان سے زمین کے حکمران کے براہ راست فیصلے نازل ہوتے اور لوگ خوش دلی سے ان فیصلوں کو قبول کر کے اپنی ریاست چلاتے تھے۔ قدیم صحیفوں میں اس کو خدا کی بادشاہی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ہم نے اس ترکیب کو ذرا وسیع کرتے ہوئے ’خدا کی بادشاہی‘ کے لیے آسمان کا استعارہ لیا ہے اور جمہوریت سے مراد یہ ہے کہ یہ کسی قسم کا جبرنہیں تھا بلکہ لوگ اپنی مرضی سے انبیا کی بات مانتے تھے ۔ اور یہ اختیار بھی رکھتے تھے کہ ان فیصلوں کو قبول نہ کریں ۔ اس کو ہم نے آسمانی جمہوریت سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں حکمران اللہ کی منشا اور عوام کی فلاح کو اپنی ہر ذاتی غرض سے بلند رکھتے اور معاشرے میں عدل وانصاف کا الم بلند رکھتے ۔

دنیا میں اس کی سب سے قدیم مثال وہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے قائم کی۔ اللہ تعالیٰ مختلف قوموں میں اپنے رسولوں کو بھیجتے رہے ہیں۔ یہ لوگ پر امن طور پر لوگوں کو اپنی دعوت پیش کرتے۔ کچھ لوگ یہ دعوت مان لیتے اور کچھ رد کر دیتے۔ جس کے بعد ماننے والے اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے رسول کو اپنا حکمران بھی تسلیم کر لیتے۔ باقی قوم کو ہلاک کر دیا جاتا اور پھر یہ علاقہ اللہ تعالیٰ ان بچے ہوئے لوگوں کو دے دیتے جہاں اللہ کے رسولوں کی قیادت میں یہ لوگ حقیقی اسلامی معاشرے قائم کرتے۔ معلوم تاریخ میں اس کی سب سے قدیم مثال وہ ہے جو بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ سے شروع ہوئی اور کئی صدیوں تک طالوت بادشاہ کے ظہور تک جاری رہی۔ یہ دور قاضیوں اور انبیاء کا دور کہلاتا ہے جس میں ریاست میں کوئی بادشاہ یا آمر نہیں ہوتا تھا بلکہ عوام کے جھگڑے اور جنگ و امن کے معاملات انبیاء اورقاضی چلایا کرتے تھے ۔

اس کے بعد بنی اسرائیل نے ایک انحراف کیا۔ انہوں نے اللہ کی پسند کے قانون کے بجائے عام دنیوی اصولوں کے مطابق اپنے لیے بادشاہی نظام چاہا۔ ان کے نبی سیموئل علیہ السلام نے ان کو بہت سمجھایا۔ مگر وہ باز نہ آئے ۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کر دیا گیا ۔ جس کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان جیسے جلیل القدر انبیا بادشاہ بنے۔ لیکن بنی اسرائیل اللہ کی پسند کے نظام کو چھوڑ کر ایک غلط قدم اٹھا چکے تھے۔ کیونکہ بادشاہی نظام اپنی نوعیت کے لحاظ سے جابرانہ نظام ہے جس میں بادشاہ اپنی من مانی کرتا ہے اور اچھے خاصے فساد کے بغیر بادشاہ کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ پیغمبروں کے اس منصب سے ہٹنے کے ساتھ ہی اس نظام کی خامیاں پوری طرح ظاہر ہوگئیں اور بنی اسرائیل آمریت کے شکنجے تلے جکڑ ے گئے ۔

انبیا علیھم السلام اور بنی اسرائیل کے قاضیوں کا نظام دنیا کا پہلا جمہوری نظام تھا۔ اس میں عوام اپنی مرضی سے اللہ کی مرضی اپنے اوپر نافذ کرتے ہیں ۔ کوئی زبردستی ان پر اسلام نافذ نہیں کرتا۔ یہ نظام اپنی روح میں اتنا زیادہ جمہوری تھا کہ جب لوگوں نے اللہ کی مرضی کے خلاف ایک شخص کو بادشاہ مقرر کر کے اس نظام کی بساط لپیٹنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی بھی اجازت دے دی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انسانی اختیارکے مقابلے میں اپنی مرضی بالجبر نافذ نہیں کرتے ۔ عوام اپنی مرضی سے اللہ کی مرضی اپنے اوپر نافذ کرتے ہیں۔ تاہم نافرمانی کی سزا دینا اور اطاعت پر عطا کرنا ان کا حق ہے اور یہ کام وہ بہرحال کرتے رہتے ہیں۔

اس کی ایک دوسری شکل وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ میں ظاہر ہوئی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور اپنی خوشی سے آپ کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ آخری نبی اور رسول تھے اور آپ کے بعد آسمان سے وحی اترنے کا سلسلہ بند ہو گیا اس لیے آپ کے بعد کسی کو آسمان سے حکومت کے لیے نامزد کرنے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت راشدہ میں خلفائے راشدین کو لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنا حکمران منتخب کیا۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2016 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Usman says:

    Respected Abu Yahya,

    Assalam Alaikum wa Rahmatullah
    Jazak Allah for this very informative and thought provoking although quite controversial article. The way you have presented your case in this article in support of democracy is seamless except that it did not address few important facets of Islamic history. By not touching those aspects, you have been unable to answer few questions that would arise in one’s mind regarding the validity of your argument. I am going to ask you two questions and would like you to please address those aspects of our history and give your opinion and tell us how these facts jive with your pragmatic approach to the issue of a sovereign state which has been a dogma in the contemporary Islam.
    Q.1: If state is not a fundamental obligation of a Muslim society then why the prophet Sayyidena Muhammad Sallalahu Alaihi Wasallim needed to migrate from Makkah to Medina. In my mind, the obvious reason for migration was nothing but the creation of a sovereign Islamic state. Also why the guided khulafa continued to carry on a series of battles. Was it not the purpose of those battles to expand the Islamic state and bring more people under the blessed umbrella of Islam?

    Q.2: If there is no quest for an Islamic State it is quite possible that there will be no Islamic state existing. And if there is no existence of an Islamic state then how the commandments of Allah SWT will be fulfilled and carried out which are specific to the state such as implementation of Zakat, riddance of Usury from the society etc.?

    I hope you shed some light on these issues and clarify few tangled thoughts is people’s minds. I look forward to receiving your response.

    Wassalam

    Usman Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *