2016 سلسلہ روز و شب – مارچ (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

پاکستانی جمہوریت کے مسائل

پاکستان اور جمہوریت

پچھلے مہینے ہم نے آمریت، خلافت اور جمہوریت کے حوالے سے اپنا تفصیلی نقطہ نظر دلائل کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ریاست کا انتظام کون چلائے گا، اس سوال کے جواب میں انسانیت نے اپنی پوری تاریخ میں تین ہی تصورات پیش کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ کوئی بادشاہ اور اس کی اولاد یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کا خاندان نسل درنسل معاشرے پر حکومت کرے۔ دوسرا یہ کہ کوئی فرد یا گروہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر یا کسی سازش کے ذریعے سے اقتدار پر قبضہ کر لے اور اپنے مخصوص تصورات اور نظریات کی بنیاد پر حکومت چلاتا رہے۔ تیسرا طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی مرضی سے اپنے حکمران کا انتخاب کریں ۔

ایک چوتھا طریقہ بھی اُس گفتگو میں زیربحث آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی ہستی کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیں کہ وہی حکمران بنے گا اور لوگ اللہ کے اس فیصلے کے مطابق اسے اپنا حکمران بنالیں ۔ یہ بہترین راستہ تھا لیکن ختم نبوت کے بعد چونکہ اب اس طریقے سے کسی شخص کے حق میں آسمان کی سند اترنا ممکن نہیں رہی ہے، اس لیے یہ کوئی ممکنہ راستہ نہیں رہا۔

اس کے علاوہ بیان کیے گئے تین طریقوں میں سے دو یعنی بادشاہت اور آمریت ہر پہلو سے ظلم و استبداد کا راستہ کھولتے ہیں ۔ کوئی بادشاہ یا آمر تو اچھا ہو سکتا ہے، مگر اس نظام میں کوئی خوبی نہیں کیونکہ یہ جبر اور استبداد پر مبنی ہے ۔ انسانیت کے سماجی ارتقا سے قبل یہ برائی اسی طرح قابل قبول رہی جس طرح انفرادی سطح پر غلامی انسانی معاشروں کا حصہ تھی۔ مگر جیسے جیسے انسانی سماج ارتقا پذیر ہورہے ہیں، ان میں جبر واستبداد پر مبنی کوئی نظام قابل عمل نہیں رہا۔ جہاں یہ نظام ابھی تک موجود ہے وہ بھی جلد یا بدیر ختم ہوجائیں گے ۔

جمہوری نظام کی کمزوریاں

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ جمہوریت کے نام جو کچھ ہمارے ملک میں ہورہا ہے وہ ہر پہلو سے قابل تائید ہے۔ ہم نے سابقہ مضمون میں بھی لکھا تھا کہ ہمارے ہاں تو جمہوریت کے نام پر وہی مذاق ہورہا ہے جو اسلام کے نام پر فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا زہر پلا کر ہمارے ساتھ کیا گیا تھا۔ لیکن جس طرح ہم اسلام کو اس بنیاد پر نہیں چھوڑ سکتے کہ عملی طور پر اس کے نام پر فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا چلن عام ہے، اسی طرح ہم عوامی رائے کے بجائے جبر و استبداد پر مبنی کسی ایسے نظام کی تائید صرف اس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ جمہوری نظام بدترین حالت میں ہے یا یہ کہ اس استبدادی نظام کو خلافت اور اسلام کے مقدس ناموں کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کو ہم نے ماہ فروری کے کالم میں تفصیل سے واضح کر دیا تھا کہ اسلام میں کسی جبر اور استبداد کی کوئی گنجائش نہیں ۔

رہے پاکستان کے معروضی حالات تو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری عمل کے ذریعے سے وجود میں آیا۔ اگر جمہوری اصول نہ ہوتا اور لوگوں کو اپنی مرضی سے سیاسی نظام اختیار کرنے کی آزادی نہ ہوتی تو پاکستان نام کی کوئی ریاست دنیا کے نقشے پر اس وقت موجود نہ ہوتی۔ چنانچہ اس حوالے سے ہمارے ہاں ایک اجماع پایا جاتا ہے کہ اس ملک میں کسی بادشاہت یا کسی آمریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں جو فوجی حکمران بھی آیا اس نے جلداز جلد جمہوری طریقے سے جواز حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کبھی یہ استدلال نہیں کیا کہ حکمرانی میرا حق ہے یا آمریت کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز ہے۔ ایک آمرکا اخلاقی جواز ہمیشہ جمہوری حکمرانوں کا غیر اخلاقی رویہ رہا ہے۔ اس کے سوا کچھ اور نہیں ۔

بدقسمتی سے حکمرانوں کا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی رویہ ہی آج بھی جمہوری نظام کو سب سے بڑھ کر نقصان پہنچا رہا ہے ۔ یہی پاکستان کی جمہوریت کا کمزور ترین پہلو ہے ۔ ہمارے جمہوری حکمران اپنے اخلاقی رویوں میں کسی بہتر جگہ پر کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ ان کا یہی رویہ جاری رہا تو اس کا شدید اندیشہ ہے کہ ملک میں ایک دفعہ پھر آمریت نہ آجائے ۔ ذیل میں ہم اپنے جمہوری نظام کے کچھ ایسے ہی پہلوؤں پرتوجہ دلا رہے ہیں جو جمہوریت کے سارے واعظین کے مواعظ کے باوجود ملک میں ایک دفعہ پھر آمریت کا چلن عام کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔

دولت پر مبنی جمہوری نظام

پاکستان کے سیاسی نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں دولت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ انتخاب میں حصہ لینا اور انتخابی مہم چلانا کسی طور پر کوئی سیاسی عمل نہیں ہے۔ بلکہ یہ دولت اور طاقت کی بنیاد پر ایک سیاسی کاروبارمیں حصہ لینے کے مترادف ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بیشتر جماعتوں کی طرف سے وہی لوگ انتخاب میں حصہ لیتے ہیں جو کروڑوں روپے پانی کی طرح بہانے کی سکت رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ جب منتخب ہوجاتے ہیں تو ایوان کی کاروائی میں حصہ لینا، ملک کے نظم و نسق کو بہتر کرنا، عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بنانے سے کہیں زیادہ ان کی دلچسپی اپنی انویسٹمنٹ کو زیادہ سے زیادہ منافع کے ساتھ وصول کرنے میں ہوتی ہے ۔

ایسے میں ملک کے اصل باشندوں یعنی غریب اور مڈل کلاس لوگوں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ کسی فرد کی سیرت، شخصیت، صلاحیت، خدمات ، سمجھ بوجھ اس پورے عمل میں شاذ ہی زیر بحث آتی ہیں۔ پیسہ اس راہ کی بنیادی شرط ہے جس کے پاس یہ ہوتا وہی سیاسی جماعتوں سے الیکشن کا ٹکٹ لے پاتا ہے۔ ثانوی طور پر اگر کوئی چیز زیر بحث آتی ہے تو وہ ذات برادری اور قومی اورلسانی تعصبات ہیں جو زر پر مبنی سیاست میں تعصبات کا زہر گھولنے کے سوا کوئی اور خدمت سرانجام نہیں دیتے ۔

خاندانی سیاسی پارٹیاں

انسانوں میں شاہ پرستی کے جذبات بڑے گہرے ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرصہ تک دنیا بادشاہی نظام کو قبول کیے رہی جس میں بادشاہ کے بعد بادشاہ کا بیٹا حکمران بنتا تھا۔ تاہم انسانیت نے رفتہ رفتہ اس مرض سے نجات پائی۔ خود ہمارے پڑوس میں بھارت میں عرصہ تک نہرو خاندان اور کانگریس لازم و ملزوم رہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ وہاں صورتحال بدلی۔ پہلے کانگریس کے علاوہ ایک دوسری پارٹی نے اپنے قدم جمائے۔ جس کے بعد کانگریس میں بھی یہ تبدیلی آئی کہ کانگریس کی حکومت میں بھی نہرو خاندان سے باہر اقتدار منتقل کیا گیا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہو چکی ہے۔ یہاں ابتدا میں خاندانی پارٹیاں کم تھیں ۔ مگر اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ایک دو جماعتوں کو چھوڑ کر کوئی ایسی قومی یا علاقائی پارٹی نہیں ہے جو باپ کے بعد بیٹے یا بیٹی کے اصول پر نہیں چل رہی ہو۔ اس معاملے میں خرابی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کسی پارٹی میں تن تنہا سارے اختیارات کا مرکز ایک ہی شخصیت بن جاتی ہے ۔ جس کے بعد پارٹی تو برائے نام رہتی ہے، اصل وہی شخصیت ساری قوت کا سرچشمہ بن جاتا ہے ۔ پھر یہ لیڈر شعوری کوشش کرتے ہیں کہ اپنی موجودگی ہی میں اپنی اولاد کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ چنانچہ ان کے بعد ان کی اولاد ہی پارٹی کے سربراہ کا منصب سنبھال لیتی ہے ۔ اولاد چھوٹی یا نا اہل ہوتو بیوی، شوہر، بھائی غرض کوئی بھی قریبی رشتہ ان کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہ گویا ہر پہلو سے خاندانی بادشاہت کا ایک تسلسل ہے جو جمہوریت کے نام پر ہمارے ہاں رائج ہے ۔

چنانچہ ایک طرف ایک ہی شخص کے ہاتھ میں سارے اختیارات ہونا اور پھر اس کی طرف سے یہ شعور ی فیصلہ کیا جانا کہ اس کے بعد طاقت اس ہی کے خاندان میں رہے ، اس خرابی کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے ۔

کرپشن اور بیڈ گورننس

زر پر مبنی سیاست اور خاندانی سیاسی پارٹیوں کا لازمی نتیجہ کرپشن اور بیڈ گورننس ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہمارا ملک اگر گردن تک کرپشن کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے اور ایک عشرے کے مسلسل جمہوری عمل کے باوجود بھی اگر ملک مسائل کے گرداب سے نکل نہیں پا رہا تو اس کی وجہ کرپشن اور بیڈ گورننس ہیں ۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ دنیا بھر میں کرپشن ہوتی ہے۔ انسان جب تک انسان ہے کرپشن مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی بجا کہ ہمیں حضرات ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنھم جیسی شخصیات کی توقع نہیں کرنا چاہیے۔ مگر کرپشن کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ خاص کر صوبہ سندھ کے حوالے سے جو کچھ سامنے آتا رہتا ہے سچی بات یہ ہے کہ اس کے لیے کرپشن کا لفظ موزوں نہیں ہے۔ اس کے لیے اہل لغت کو کچھ دوسرے الفاظ ایجاد کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارے الزام ہیں ۔ کسی خاص جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ جمہوریت کے خلاف ایک سازش ہے ۔ چلیے یہ ساری باتیں درست سہی، مگر اس صوبے کا جو حشر حکمران جماعت کے ہاتھوں پچھلے آٹھ برسوں میں ہوا ہے وہ اپنی داستان آپ سناتا ہے ۔ چھوٹے شہروں اور گوٹھوں کو تو چھوڑ دیجیے کہ ان بے چاروں کی کوئی شنوائی نہیں ، شہر کراچی تو نعمت اللہ خاں صاحب اور مصطفی کمال صاحب جیسے لوگوں کی سربراہی میں 2002 سے 2007 تک بالکل بدل چکا تھا۔ مگر سردست اس شہر کے لیے درست ترین تعبیر ایک کچرا کنڈی کے سوا کچھ نہیں ۔ شہر میں پانی کا کال ہے ۔ زیر زمین پانی کثرت استعمال کی وجہ سے بہت نیچے جا چکا ہے ۔ شہر میں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ۔ ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

سب سے بڑی چیز امن امان تھی۔ جب تک آپریشن شروع نہیں ہوا تھا دسیوں ہزار لوگ قتل ہو چکے تھے ۔ ہر روز تیس چالیس لوگوں کا مارے جانا معمول تھا۔ اسٹریٹ کرائم اپنی انتہا کو چھو رہے تھے ۔ مگر پھر نواز شریف صاحب اور جنرل راحیل صاحب نے ایک عزم کیا۔ اس کے نتیجے میں آج صورتحال بہت بہتر ہے، مگر آج یہ آپریشن ختم ہوجائے تو ایک دفعہ پھر کراچی جہنم بن جائے گا۔ ایسے میں جمہوریت کا کوئی وعظ کم از کم اس صوبے اور اس شہر کے باسیوں کو تو اچھا نہیں لگ سکتا۔ لوگ تو آج بھی جنرل مشرف کے تعاون سے نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کے دور کو یاد کرتے ہیں۔ ان کی بلا سے جمہوریت جاتی ہے تو جائے ۔ اگر جمہوری حکمرانوں کا رویہ یہی رہا تو صوبہ سندھ کے حکمران باقی سیاستدانوں کو بھی لے ڈوبیں گے ۔

رہا باقی ملک تو گرچہ صوبہ سندھ سے وہاں کے حالات بہت بہتر ہیں ، مگر جتنے بہتر ہو سکتے تھے اورہونے چاہیے تھے، اس کے کوئی آثار نہیں۔ پاکستان میں جتنے وسائل ہیں ، عوام پر ٹیکسوں کی جتنی بھرمار ہے ، پچھلے ایک عشرے سے جس طرح جمہوریت کو تسلسل حاصل اور خاص کر صوبہ پنجاب میں ایک ہی پارٹی طویل عرصے سے حکمران رہی ہے ، اس کے بعد ان کی پرفارمنس بہت بہتر ہونی چاہیے تھی۔ مگر دعا دینی چاہیے پیپلز پارٹی کو کہ جس کی انتہا درجے کی نا اہلی کی بنا پر صوبہ پنجاب ہی لوگوں کو آئیڈ یل نظر آتا ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ توانائی کے بحران اور دہشت گردی میں الجھی ہوئی قوم کے لیے زندگی کی بنیادی سہولیات یعنی صحت، تعلیم، پٹواری اور پولیس نظام کی خرابیوں سے پاک ایک فلاحی معاشرے کی منزل جو دنیا بھر میں جمہوری معاشروں کا نصب العین ہے ، یہاں سرے سے زیر بحث ہی نہیں۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے باجوداس کا مکمل فائدہ عوام کو نہیں پہنچا۔ حال یہ ہے کہ اس وقت حکمرانوں نے ملک و قوم کو بہت زیادہ شرح سود پر لیے گئے قرضوں کے جال میں بری طرح جکڑ دیا ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق یہی صورتحال رہی تو دو چار برسوں میں ملک ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔ جبکہ حکمرانوں کا واحد انحصار گوادر کی بندرگاہ کے بننے اور وہاں سے متوقع طور پر حاصل ہونے والے ٹیکسوں پر ہے۔ یہ ہو گیا تو ملک معاشی تباہی سے بچ جائے گا ورنہ حکمرانوں نے کسی ایسی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی بنا پر ملک میں کسی بہتری کے آثار پیدا ہوجائیں۔ یہ نتیجہ ہے خاندانی سیاست دانوں کے اقتدار میں آنے کا۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *