2016 سلسلہ روز و شب : میرا مطالعہ – ستمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

میرا مطالعہ

احباب وقتاً فوقتاً مجھے اچھی کتابوں کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں میرے عزیز دوست ندیم اعظم صاحب کی طرف سے یہ فرمائش دہرائی گئی کہ میں اپنی منتخب اور پسندیدہ کتابوں کے بارے میں کچھ لکھوں۔ مجھے یہ محسوس ہوا کہ اس طرح لکھنے کی فرمائش اسی شخص سے کی جانی چاہیے جو یا تو بہت وسیع المطالعہ ہو یا پھر کوئی غیر معمولی علمی حیثیت کا شخص ہو۔ یہ خاکسار ان دونوں شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ پھر جس طرح کی کتابوں نے مجھے غیر معمولی طور پرمتاثر کیا ہے وہ شائد عام لوگوں کو بہت زیادہ اپیل نہ کریں۔ لیکن پھر بھی ان کا اصرارجاری رہا تو سوچا کہ اوائل عمری کے اپنے مطالعے کی داستان لکھ دی جائے۔ اس میں کچھ ایسے اسباق ہیں جن سے کچھ نہ کچھ دوسروں کے بھلا ہونے کا بھی امکان ہے ۔

بچپن کی کتب بینی

ہم نے کتابیں پڑھنے کا شغل اسی وقت اختیار کر لیا تھا جب عام بچے دوسرے بچوں کے ساتھ چھپن چھپائی اور لنگڑی پالا جیسے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ گرچہ ان کھیلوں سے بھی ہم کبھی لاتعلق نہیں رہے اور ان کھیلوں کے ساتھ کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال سے لے کر ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن سب ہی کو حسب توفیق کھیلا، مگر اس کے ساتھ پرائمری ا سکول کے زمانے ہی سے ہمیں مطالعے کی عادت ہوگئی ۔گھر میں اخبار آتا تھا۔ اس میں ٹارزن کی کہانی روزانہ آیا کرتی تھی۔ اسے پڑھنا ہمارا معمول تھا۔ اسی کے ساتھ اخبار میں موجود دیگر خبریں بھی پڑھنے لگے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کی پوری تفصیل میں نے اخبار میں پڑھی تھی اور میں اس وقت روزانہ اخبار کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔ میں اس وقت غالباً تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔ یہی وہ مقام تھا جب اپنی عمر سے کہیں زیادہ آگے کی چیزو ں میں دلچسپی لے کر انھیں پڑھنے کی عادت پڑ گئی جو ساری زندگی بہت کام آئی۔

کچھ غیر اخلاقی مطالعہ

میں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ بڑے بھائی بہنوں کوپڑھنے کی عادت تھی۔ عمران سیریز اور ڈائجسٹیں عام طور پر گھر میں آتی تھیں۔ جلد ہی مجھے اس نئی دنیا کا شعور ہو گیا۔ چنانچہ سیاست اور حالات حاضرہ کی طرح رومانوی اور جاسوسی کتب سے بھی وقت سے بہت پہلے متعارف ہو گیا۔ مگر اس مطالعہ کی داستان کچھ دلچسپ ہے ۔

یہ ناول اور کتابیں بڑ ے بھائی گھر لاتے، شوق سے پڑ ھتے اور ہم سے چھپا کر رکھتے کہ اُس زمانے کے مروجہ اخلاقی معیارات کے مطابق ان کتابوں میں کسی وقت بھی اخلاق سے گری ہوئی کوئی چیز وارد ہو سکتی تھی۔ اور چھوٹوں کو ایسی اخلاقی پستی میں گرنے سے بچانا بڑوں کی بہرحال ایک اخلاقی ذمہ داری تھی۔ مگر ہم عمران سیریز پڑھ کر خود ہی علی عمران بن چکے تھے ۔ چنانچہ چھپائے گئے ناولو ں اور ڈائجسٹوں کو ڈھونڈنا، بڑ وں کے علم میں لائے بغیر چوری چھپے انھیں پڑھنا، اور ان کے گھر لوٹنے سے قبل ان کی خفیہ جگہوں پر واپس رکھ  دینا، ہماری ذاتی جاسوسی مہمات کا مرکزی خیال ہوتا تھا۔ یوں رازداری سے یہ آتش شوق اور بھڑ کتی رہی۔

مجھے یاد ہے کہ اپنی زندگی کا پہلا رومانوی ناول ’’محبت یا شرارت‘‘ بھی تیسری چوتھی جماعت میں پڑھ لیا تھا۔ داستان امیر حمزہ جیسی ضخیم تاریخی فکشن بھی اسی دور میں پڑ ھی تھی۔ ان رومانوی اور جاسوسی ناولوں کی بہت سی باتیں اپنی کم عمری کی بنا پر سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ مگر اپنی عمر سے آگے کی چیزوں کا مطالعہ کرنے کا ایک بنیادی فائدہ یہ ہوا کہ میرا تصور اور تخیل بہت وسیع ہونے لگا۔ بعد میں بھی یہ چیز قائم رہی بلکہ مطالعہ کے عمل میں مستقل شامل ہوگئی۔

مطالعہ اور تخیل

ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے، مگر تخیل بڑا محدود ہوتا ہے۔ ایسے لوگ لکھے ہوئے الفاظ کی سیاہی تک محدود رہتے ہیں ۔ وہ اس میں تخیل کے رنگ بھر کر کوئی تصور قائم نہیں کرپاتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہر اسم کے پیچھے ایک مسمیٰ ہوتا ہے۔ الفاظ کے پیچھے شخصیت ہوتی ہے ۔ ان کا تصور قائم کیے بغیر بات پوری طرح سمجھی نہیں جا سکتی۔ وہ زیادہ پڑھ کر بھی اپنے مطالعہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاپاتے ۔ چنانچہ مطالعہ کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ جو بھی پڑھیں اس کو ذہن میں زندہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اس دنیا میں پہنچیں جہاں مصنف آپ کو لے جانا چاہتا ہے ۔

اس کو یوں سمجھیں کہ میں جو کچھ اپنے بارے میں لکھ رہا ہوں اسے سرسری پڑھتے ہوئے نہ گزریں ۔ یہ سوچیں ایک پرائمری اسکول کا بچہ کتنی عمر کا ہوتا ہے۔ تصورکی آنکھ سے اسے دیکھیں کہ وہ ایک موٹی سی کتاب آنکھوں کے سامنے لیے بیٹھا ہے اور نگاہیں اس سے نہیں ہٹا رہا۔ یا پھر جیسے میں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کا لکھا ہے۔ تو ذرا ذہن دوڑائیں کہ ان کو کس سن میں پھانسی دی گئی تھی۔ معلوم نہ ہو تو کہیں سے معلوم کریں۔ یہ وہ عمل ہے جو آپ کے تخیل کو دوران مطالعہ زندہ رکھے گا۔ اس طرح کا مطالعہ ذہن کے دریچے کھول کر انسان کی سمجھ بوجھ کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود کوئی اوریجنل بات کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ورنہ بہت سے لوگ بہت کچھ پڑھ کر بھی ایک اوریجنل بات نہیں کہہ سکتے۔ بس مکھی پر مکھی مار دی یا دوسروں کی باتوں کو نقل کر دیا۔ فیس بک پر یہ رویہ عام طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ پڑھنے سے لکھنا آ جاتا ہے۔ اچھا لکھنے کے لیے تخیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ تخیل تو خیر بہت آگے کی چیز ہے۔ ہمارے ہاں تو پڑھنے کے عمل میں لوگ سمجھ بوجھ اور فہم و ادراک کو بھی کونے میں رکھ دیتے ہیں۔ میں اس حوالے سے کچھ عرض کرتا ہوں لیکن پہلے اپنی بات کو ذرا آگے بڑھا لوں ۔

مطالعہ اور فہم

میں گھنٹوں نان اسٹاپ مطالعہ کا عادی تھا۔ اس لیے ہر کتاب جلد ہی ختم ہوجاتی۔ ایک وقت آیا کہ بڑوں کی لائی ہوئی کتابیں میرے لیے کم پڑ گئیں۔ خود لائبریری جا کر یہ ناول لانا یا پیسے خرچ کرنا ہماری عمر کے دائرے سے آگے کی چیز تھی۔ اس لیے یہ راستہ تو بند تھا۔ چنانچہ مجبور ہو کر دستیاب ناول اورکتب ہی باربار پڑھنا شروع کر دیں۔ مگر یہ بھی کب تک کرتے کہ وقت ختم نہ ہوتا تھا۔ اس دور میں بچے شام کے وقت کھیل کود کے لیے گھر سے باہر جایا کرتے تھے ۔ ٹی وی کے بھی یہی اوقات تھے ۔ یوں شام کا مصرف تو تھا، مگر دوپہر بیوہ کی جوانی کی طرح کٹتی نہ تھی۔ دوسری طرف پڑھنے کی لت تھی کہ نشے کی طرح اپنے مطالبات کی تسکین چاہتی تھی۔ چنانچہ پہلے پہل بڑے بھائیوں کی کورس کی کتابیں چاٹ ڈالیں ۔ پھر آگے بڑھتے بڑھتے بڑی بہن کی گریجویشن کی سطح کی کتابیں جن کا تعلق مذہب، ادب، فلسفے اور تاریخ سے تھا پڑھنا شروع کر دیں۔ آج سے تین چار عشروں پرانا یہ وہ دور تھا جب بی اے اتنی آسانی سے نہیں ہوتا تھا جس طرح اب کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ اتنا ہی مشکل تھا جتنا اب اپر کلاس کے پرائمری اسکولوں کا کورس ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے پی ایچ ڈی سے بھی زیادہ مشکل۔ ان کتابوں کو بھی بار بار پڑھنا شروع کیا۔ جن کے بعد یہ مشکل مباحث سمجھ میں آنے لگے ۔ جس کے بعد اعلیٰ علمی مباحث پڑھنے اور ان کو سمجھنے کی عادت ہوگئی۔

اب کبھی خیال آتا ہے کہ ایک ہی چیز کو بار بار پڑ ھنے کی عادت بہت مفید ثابت ہوئی۔ اب کبھی کسی وسیع المطالعہ شخص کی بات پڑھتے ہوئے اور سنتے ہوئے واقعی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ جس نے زیادہ پڑھ لیا ہو، اس کی سمجھ میں بھی کچھ آ گیا ہو۔ پڑھنا ایک الگ وصف ہوتا ہے اور پڑھ کر سمجھنا ایک الگ وصف ہوتا ہے۔ پہلا تو کوئی وصف ہی نہیں ہوتا، مگر چونکہ یہ بھی اب عنقا ہو گیا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، مگر اصل وصف تو پڑھ کر سمجھنا ہوتا ہے ۔ ورنہ انسانی دماغ معلومات کا کباڑ خانہ تو بن سکتا ہے ، علم کا گہوراہ نہیں ۔

یہی مطالعہ کا دوسرا اصول ہے ۔ پڑھنا سمجھنے کے لیے ہونا چاہیے۔ سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ پڑھنے والا مصنف کی بات کو پوری طرح سمجھے۔ اس کے بیان کردہ تصورات، اصطلاحات اورخیالات کو اپنی گرفت میں لے۔ آج کل جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ نامور صحافی اور فیس بک پر ہزاروں لوگوں کے مرشد کسی اعلیٰ محقق کی بات کو پوری طرح سمجھے بغیر تنقید شروع کر دیتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اس صورتحال پر ہنسوں یا آنسوں بہاؤں ۔

دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ مطالعہ سے انسان کچھ اخذ کرے۔ اور ضروری ہے کہ درست بات اخذ کرے ۔ ورنہ مطالعہ بہت سطحی رہ جاتا ہے چاہے وہ کتنا زیادہ بھی کر لیا جائے ۔ مطالعہ کی ہر بات یاد نہیں رکھی جا سکتی۔ لیکن اہم ترین نکات کو نوٹ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کا اہتمام ہونا چاہیے ۔

ہمارے ہاں جو لوگ وسیع المطالعہ کہلاتے ہیں، میں نے یہ دیکھا ہے کہ اکثر ان کی سمجھ بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنے اور اپنے مطالعے کا رعب جھاڑنے کے لیے ہر وقت کتابوں کے حوالے اور نام گنواتے رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی علم اور فہم کا معاملہ آئے گا تو اندازہ ہو گا کہ انھوں نے بات کو پوری طرح نہیں سمجھا ہے۔ ایسے لوگ اچھے نقال تو ثابت ہو سکتے ہیں ۔ یا دوسرے کی باتیں اپنے الفاظ میں تو بیان کرسکتے ہیں لیکن عالم یا دانشور ہونا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب اس طرح کے لوگ ہی علم و دانش کی مسند پر فائز ہیں ۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *