2016 سوال وجواب – اپریل ( Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

بچوں کا کھانا کتوں کو کیوں دیا جائے

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سر میں آپ کا نیا ناول’’آخری جنگ‘‘ پڑھ رہی ہوں ۔ ماشاء اللہ یہ ایک اور شاہکار ہے اور بہت متاثر کن اور معلوماتی بھی ہے۔ برائے کرم ناول میں عورت کے اس جواب اور اللہ پاک سے سب کچھ پانے کے اس پیغام کی ذرا وضاحت کر دیجیے مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ یقینا یہ کوئی بہت گہرائی کی بات ہے لہٰذا آپ ذرا وضاحت فرما دیجیے ، آمنہ فاروق۔

’’ ایک دفعہ ایک عورت جو یہودی نہیں تھی، ان کے پاس آئی ۔ اس کی بیٹی بہت بیمار تھی۔ اس نے آپ سے مدد کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ اس عورت نے بہت اصرار کیا تو آپ نے کہا۔ بچوں کی روٹی کتوں کے آگے نہیں ڈالتے ۔

عبداللہ یہاں تک پہنچ کر رک گیا۔ پھر داؤد کی طرف دیکھا جو بڑی دلچسپی سے یہ سن رہا تھا۔

جانتے ہو داؤد اس عورت نے حضرت عیسیٰ کو کیا جواب دیا۔

کیاجواب دیا؟

عبداللہ نے میز پر رکھی ہوئی روٹی ہاتھ میں اٹھائی اور کہا۔

اس عورت نے ایک کمال کا جواب دیا۔ یہ جواب جس کو دینا آجائے وہ خدا سے سب کچھ پا سکتا ہے۔ اس نے کہا: آقا! کتے بھی تو وہی روٹی کھاتے ہیں جو مالکوں کی میز سے گر جاتی ہے ۔

یہ کہہ کر عبداللہ لمحے بھر کو رکا اور بھرپور تاثر کے ساتھ کہا:

پھر اس عورت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون بدل دیا ۔ حضرت عیسیٰ نے اس عورت کی بیٹی کو ٹھیک کر دیا۔ ‘‘

جواب:

فیڈ بیک کا بہت شکریہ۔

عورت کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ کتوں کا حق نہیں ہوتا کہ مالک کی روٹی ان کو دی جائے لیکن ان کو حق کی بنیاد پر نہیں ملتا بلکہ مالک مہربانی کر کے بچی ہوئی روٹی کتوں کو ڈال دیتے ہیں۔ جیسے ہم کھانا کھانے باہر جاتے ہیں تو بلیاں اکثر آ کر بیٹھ جاتی ہیں اور ہم اپنی بچی کھچی ہڈیاں ان کے آگے ڈال دیتے ہیں ۔

اگر انسان محتاج ہوکر بھی اتنا رحم دل ہو سکتا ہے تو اللہ رب العالمین جس کے قبضے میں سارے خزانے ہیں اور جو کبھی ختم نہیں ہوں گے ، تو اس کی رحمت کے کیا کہنے ہیں ۔ وہ ایسا کیوں نہیں کرے گا کہ جب ہمارا حق نہ بھی ہو تو اپنے فضل سے ہمیں اس وجہ سے عطا کر دے کہ ہم اس سے فریاد کر کے مانگ رہے ہوں ۔ چنانچہ جو بندہ اس یقین کے ساتھ اللہ سے مسلسل مانگتا رہے تواللہ تعالیٰ اسے بغیر حق کے بھی سب کچھ دے دیتے ہیں، کیونکہ ان کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا میں انسانی کردار اورآخرت میں اجر

سوال:

۱۔ کیا وہ لوگ جو اس دنیا میں حیثیت، مرتبے اور دولت میں دوسروں سے پیچھے ہیں اگر وہ صبر کریں تو ان کو اگلی دنیا میں زیادہ اجر دیا جائے گا؟ ان سے میری مراد قدیم ادوار کے لونڈی غلاموں اور موجودہ دور کے تنگدست لوگوں سے ہے ۔یعنی کیا اس جہان کی تکالیف اگلے جہان کی راحتوں کا باعث بنیں گی؟ کیا وہ شخص جو اس جہان میں اپنے آقا کی تابعداری کے ساتھ ساتھ اپنے حقیقی رب کی فرمانبرداری اختیارکرے اور اس کا آقا بھی اسی درجے میں رب کا فرمانبردار ہو تو دونوں میں سے زیادہ مستحق انعام کون ہو گا؟

۲۔ کیا جن لوگوں پر اس جہان میں فضل کیا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں ہم جس پر چاہیں فضل کریں، اور وہ فی سبیل اللہ انفاق بھی کریں تو اصولاً ان کے پاس زیادہ موقع ہوا نا اللہ کے اجر کو حاصل کرنے کا، اور جس شخص کا ہاتھ اتنا وسیع نہ ہو کہ وہ اس قدر صدقہ خیرات کر سکے تو اس کے لیے اجر میں صاحب ثروت شخص سے مقابلہ مشکل ہے۔ اگرچہ دونوں متقی بھی ہوں ۔ اس صورت میں کم مال و دولت والے کو پہلے صاحب ثروت ہونا پڑے گا کہ انفاق فی سبیل اللہ کر سکے ؟

۳۔ اور کیا اس نیت پر کہ خدا نے اپنی کتاب میں اس دنیا کی زندگی اور اس کے مال ومتاع کو دھوکے کا سامان قرار دیا ہے، صاحب ثروت لوگ جو دوسروں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، ترک دنیا کر دیں؟ میں اپنی بات کو مثال سے واضح کر دوں کہ اگر ایک فیکٹری کا مالک اس بات پر اپنی فیکٹری بیچ کر اس کا سارا پیسا خیرات کرتا ہے تو وہ کئی صاحب روزگار لوگوں کے لیے مشکل کا باعث بنتا ہے ، اور اس کے برعکس اگر وہ محنت سے کام کرتا ، صدقہ خیرات کے ساتھ کاروبارکو بڑھاتا ہے تا کہ مزید لوگوں کو روزگار میسر آئے اور خلق خدا کا فائدہ ہو تو اس کا اپنے مال و اسباب کو بڑھانا اس کے لیے وبال تو نہیں ہو گا نا؟

۴۔ اور آخری سوال یہ ہے کہ اگر تمام لوگ اپنی مرضی اور رضا کے مطابق اس جہان میں اتارے گئے ہیں اور ہر ایک سے اس کی مرضی کا امتحان لیا جا رہا ہے جس کا بدلہ بھی اس کے موافق ہو گا تو ایک بادشاہ اور ایک غریب بھوکا شخص دونوں ہی اپنے اپنے طریقے کی آزمائش میں ہیں ایسے میں زیادہ اجر صبر کرنے والے کو دیا جائے گا یا عدل کرنے والے کو؟

حضرت میں جانتا ہوں کہ میرے سوال طویل ہیں ۔آپ چاہیں تو ان کا جواب مرحلہ وار ارسال کر دیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے۔ اور آپ کو زندگیاں بدلنے کا ذریعہ بناتا رہے۔ آمین

والسلام ، جواد احمد نسیم

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

جزاک اللہ جواد صاحب۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ہیں :

1۔ اس دنیا کی تکالیف اور مصائب اور اسی طرح غربت، معذوری اور محرومی کی ہر قسم آخرت میں بہت زیادہ اجر کا باعث بنے گی۔ تاہم کسی خاص شخص یا کسی خاص معاملے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتے ہیں۔ وہ عدل کرنے والے ہیں اوران کے پاس ہی سارا علم ہے ۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم میں سے ہر شخص دراصل الگ نوعیت کے امتحان میں ہے۔ مثال کے طور پر دولت مندوں کا امتحان زیادہ تر شکرگزاری، عاجزی اور سخاوت کا ہوتا ہے ، جبکہ اس کے برعکس غرباء عموما صبر اور استقامت کے امتحان میں ہوتے ہیں ۔ جب امتحان کی نوعیت ہی الگ ہے تو مارکس دینے کا معیار بھی مختلف ہو گا۔ کم یا زیادہ اجر کا فیصلہ نہ ہم کر سکتے ہیں نہ ہمارا یہ کام ہے ۔ یہی اطمینان بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ذرہ بھر نیکی کو بھی لکھ رکھیں گے ، ان کی نظرسے ہماری کوئی کاوش چھُپی ہوئی نہیں ۔

2۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا، ہر شخص کے امتحان کی نوعیت مختلف ہے ۔ صاحبِ ثروت تو ہے ہی انفاق و صدقے کے اصل امتحان میں کیونکہ اس کے مال کے زائد حصے پر بہرحال ضرورتمندوں کا حق ہے۔ جبکہ ایک کم حیثیت شخص کو شاید کسی اور جگہ آزمایا جا رہا ہو۔ اور راہِ خدا میں چند روپے بھی اسے اس کی نیت و کم مرتبے کے لحاظ سے اللہ کی نظر میں بے انتہا محبوب بنا دیں ۔ اللہ تعالیٰ بے شک سب عادلوں سے بڑا عادل ہے۔ میری ناقص رائے میں غریب آدمی نسبتاً زیادہ آسان امتحان میں ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کی محرومی اسے کم ذمہ داری کا مکلف بناتی ہے ۔ جبکہ امیر شخص کا امتحان زیادہ سخت ہے کہ وہ زیادہ خرچ کر کے ہی اپنے امتحان میں سرخرو ہو سکتا ہے اور ایسا کرنا ہر شخص کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ لیکن وہ یہ کر دے تو ظاہر ہے کہ اجر بھی زیادہ ہونا چاہیے ۔

3۔ آپ نے بالکل صحیح فرمایا۔ اسلام ہرگز ترکِ دنیا کا حکم نہیں دیتا۔ اصل امتحان دنیا میں رہ کر بھی آخرت کی فکر میں جینا ہے۔ مومن کا وجود کشتی کی طرح ہوتا ہے ۔ کشتی کے ہر طرف پانی ہوتا ہے ۔ مگر اس کے اندر نہیں ہوتا۔ ہونا بھی نہیں چاہیئے ۔ اسی طرح مومن کے ہر طرف دنیا ہوتی ہے مگر اس کے دل میں نہیں ہوتی۔ چیزیں اس کے گھر میں آتی ہیں دل میں نہیں ۔ مال بینک اسٹیٹمنٹ میں نظر آتا ہے ، دل کے بینک میں صرف آخرت کا حساب ہو رہا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں بھی اس ہی نوعیت سے دنیاوی مال کو کم تر کہتے ہیں ۔ کاروبار کو حلال طریقوں پر بڑھانا غلط نہیں بلکہ معاشرے کی ایک خدمت ہے کہ دوسرے لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے ۔

4۔ اس کا جواب بھی وہی ہے جو پہلے سوال کا ہے کہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ سے بہتر کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ اور وہ بہترین انصاف کرنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس اصول پر فیصلہ کریں گے وہ یہ ہے کہ جس کو جو پرچہ امتحان دیا گیا تھا اس نے اس کو کس طرح ادا کیا۔ چنانچہ اصل انحصار اس پر ہے کہ کسی خاص شخص نے اپنے امتحان میں کس اخلاص، کس یکسوئی اور کس رویے کا مظاہرہ کیا۔ تاہم اس کے باجود میں اصولی طور پر یہ رائے رکھتا ہوں کہ بادشاہی اور امارت کا پرچہ زیادہ مشکل ہے ۔ اس میں ناکامی کا امکان زیادہ ہے ۔ اس لیے جو اس میں سرخرو ہو گا، اس کا اجر زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔، ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2016 سوال وجواب – اپریل ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Najam Tameem says:

    Assalamo alaikum wa Rehmat Ullah
    I am a Geologist by profession. Recently while reading Surat Al Baqra and paid some attention… was Surprised to find this aayat No 29.

    هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿٢٩﴾
    It is He who created for you all of that which is on the earth. Then He directed Himself to the heaven, [His being above all creation], and made them seven heavens, and He is Knowing of all things. (29)
    It solved a great mystery about the age of this Planet Earth and the Universe… That is The Earth was Created First..
    Is taking this Concept from Quraan is right. I don’t think to understand this Aayah Properly We Need To Look At The Context … What is your comment?

    Bohat Shukrya
    Allah Hafiz
    Najam

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *