2016 سوال و جواب – اکتوبر (Abu Yahya ابویحییٰ/ Abida Haroon عابدہ ہارون)

 

سوال و جواب

ابویحییٰ/عابدہ ہارون

ہمیں کس کی پیروی کرنا چاہیے؟

سوال:

سرمیں آپ کی کتاب ’’تیسری روشنی‘‘ پڑھ رہی تھی کہ کیسے آپ نے تمام مکاتب فکر کا مطالعہ کیا اور آپ ماشاء اللہ سب کا ہی احترام کرتے ہیں ۔

میں آپ کی رائے سے مکمل اتفاق کرتی ہوں کہ ہمیں دوسروں کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں کہ دلوں کے حال صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں پھر ہمیں کس کی اتباع کرنی چاہیے؟ اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کون اس راستے کے زیادہ قریب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے ۔ زینب طارق

جواب:

ہمیں صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اتباع کرنی چاہیے ۔ آپ کی ہستی ہی اب رہتی دنیا تک دین کا تنہا مآخذ ہے۔ علماء اور دیگر تمام لوگ دین کے حوالے سے اپنے فہم کو بیان کریں گے۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کس کی دلیل مضبوط ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں علماء کے پیش کردہ دلائل کو دیکھنا ہے اور ان کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔ اگر وہ دلائل قرآن اور سنت کے مطابق ہیں تو ہم انہیں قبول کر لیں گے وگرنہ ہم انہیں رد کر دیں گے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ نجات کے لیے جو امور ضروری ہیں وہ ہمارے دین میں انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں ان پر عمل کرنے کے لیے کسی عالم کی ضرورت ہے اور نہ خود کو کسی فرقے سے جوڑنے کی حاجت ہے۔ مزید یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نجات کے لیے جو امور دینی تعلیم میں بیان ہوئے ہیں ان میں علماء کا کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

والسلام

ابویحییٰ (اردوترجمہ عابد علی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیامیں ہدایت کا انتظام

سوال:

السلام علیکم

سر آپ کی کتابیں یقینا بہت اچھی ہیں لیکن کیا اسلام میں ایسے واقعات لکھنے کی اجازت ہے جو وقوع پذیر ہوئے ہی نہیں مثلاً اسلامی ناولزیا دیگر مصنفین کے تحریر کردہ عمومی ناولز وغیرہ۔

میرا ایک سوال آپ کے ناول کے حوالے سے بھی ہے۔ جیسا کہ ناول میں ذکر ہوا ہے کہ ناعمہ نے عصر کے ساتھ سچائی کو پا لیا لیکن یہ ہماری زندگیوں میں تو نہیں ہوتا تو اس صورت میں ہم سچائی کو کیسے سمجھیں ؟ اقصیٰ عزیز

جواب:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا فکشن اور نان فکشن ناول نگاری کی اجازت کے حوالے سے جو سوال ہے تو اس میں اگر کوئی اخلاقی سبق موجود ہو تو ایسی کہانیاں لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر مصنف ہمیں واضح طو ر پر بتا بھی دے کہ کہانی فکشن پر مبنی ہے تواس کے سچ یا جھوٹ ہونے میں کوئی شبہ بھی باقی نہیں رہتا۔

اسلام میں ایک بنیادی قانون ہے کہ دنیاوی معاملات میں ہر چیز کی اجازت ہے جب تک کہ یہ حرام ثابت نہ ہو جائے۔ اور قرآن و سنت میں ہمارے علم کی حد تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے اس طرح کی چیزوں کو حرام قرار دیا جا سکے۔

دوسرے سوال میں آپ نے پوچھا کہ ناعمہ کو خواب کے ذریعے سے ہدایت ملی لیکن یہ ہر کسی کی حقیقی زندگی میں نہیں ہوتا۔ حقیقی زندگی میں ہدایت کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے پیغمبر اوراپنی کتابیں بھیجی ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود مداخلت فرمائی اور قرآن کے ذریعے سے ہم سے مخاطب ہوئے۔ یہ کیا کم عزت و شرف کی بات ہے کہ ہمارے پاس قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا کلام موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر ہدایت دی ہے اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں ان کے لیے جنت کی گارنٹی بھی ساتھ ہی دی ہے۔ قرآن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت ہی عظیم نعمت ہے، یہ دونوں جہانوں میں ہماری کامیابی کا فارمولا ہے مگر افسوس کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

اگر آپ کو قرآن کی ہدایت کے بارے میں مزید پڑھنا ہے تو سر ابو یحییٰ صاحب کی کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کا مطالعہ کیجیے جس میں انہوں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکے۔ سر ابویحییٰ صاحب نے ایک آن لائن کورس بھی’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘پر کروایا ہے جس کی ریکارڈنگ آپ ادارہ انذار کی ویب سائٹ سے بالکل فری حاصل کر سکتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کے راستے کی طرف رہنمائی فرمائے اور پھر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

والسلام

عابدہ ہارون (اردوترجمہ عابد علی)

نوٹ: اس سوال کا جواب سر ابویحییٰ سے گفتگو کر کے دیا گیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کی رحمت

سوال:

السلام علیکم

آپ کی کتاب ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ میں تقریباً 15 مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔ ہر دفعہ ایسے لگتا ہے جیسے پہلی دفعہ پڑھ رہا ہوں ۔ میرے خیال سے ایک اہم خوبی اس کتاب کی جو اسے باقیوں سے ممتاز بناتی ہے وہ یہ کہ یہ کتاب رغبت دلاتی ہے۔ اللہ کی ملاقات کا شوق پیدا کرتی ہے۔ جبکہ باقی کتب ڈر اور خوف پیدا کرتی ہیں۔ میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ اپنے بندوں پر اتنی مہربان ذات کی محبت پیدا کرنے کے بجائے اسے ایسے کیوں بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے وہ جہنم بھڑکا کر بیٹھا ہے اور ہر آنے والے کو پکڑ پکڑ کر اس میں پھینک رہا ہے۔ مالک خان

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ اصلاً ایک رحمان و رحیم ہستی ہیں۔ ان کا یہی تعارف قرآن مجید کراتا ہے۔ یہی تعارف سورہ فاتحہ میں ہے جو ہر نماز کا لازمی جز ہے۔ یہی ہر سورت کے آغاز پر اللہ کا تعارف لکھا ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے۔ باقی رہا وہ سوال جو آپ نے آٹھایا تو اللہ کا یہ منفی تصور کہ وہ صرف لوگوں کو جہنم میں بھیجے گا اس وجہ سے عام ہو گیا ہے کہ لوگ قرآن مجید کو درست پیرائے میں نہیں پڑھتے۔ جہنم کفر اور سرکشی کی سزا ہے۔ قرآن مجید میں جو لوگ زیر بحث ہیں وہ عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ میں سے وہ کفار اور سرکش لوگ ہیں جنھوں نے حق کو جھٹلا دیا تھا۔ جس کے بعد ان پر سزا لازم ہوگئی تھی۔ جہنم کا جو ذکر قرآن مجید میں ہے وہ انھی لوگوں کے حوالے سے ہے ۔ باقی لوگوں کا فیصلہ اللہ قیامت کے دن کریں گے۔ اگر کوئی شخص آج بھی سرکش، متکبر اور بڑے جرائم کا مرتکب ہے تو وہ یہ سزا پائے گا لیکن عام لوگ بالعموم ایسے نہیں ہوتے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید اس طرح کی سزا کا تصور نہیں دیتا۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ بڑ ے کریم و حلیم ہیں۔ خاص کر جو لوگ اپنے گنا ہوں کے احساس میں جیتے ہوں ان کے لیے تو وہ بہت کریم غفور اور ودود ثابت ہوتے ہیں۔ والسلام۔

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *