2016 سوال و جواب – اگست (Abu Yahya ابویحییٰ)

سوال و جواب

ابویحییٰ

ہدایت کے لیے عرب کا انتخاب

سوال:

میرا ایک سوال ہے برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نبوت کے لیے عرب معاشرے کو ہی کیوں منتخب کیا؟ ہم سنتے آئے ہیں کہ حضرت آدم کو سری لنکاکے علاقے میں اتارا گیا۔ اور یہ سارا سلسلہ عرب کیسے پہنچا۔ دنیا میں اور بھی سولائزیشنز تھیں ۔ تہمینہ اعجاز

جواب:

حضرت آدم کے سری لنکا میں اترنے والی بات کسی مستند ماخذ میں موجود نہیں صرف ایک مشہور بات ہے۔ حضرت آدم کی اولاد میں حضرت نوح بہت بڑے رسول گزرے۔ ان کے تین بیٹے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی اولاد مشرق وسطیٰ کے علاقے میں آباد ہوئی۔ یہ لوگ سامی اقوام کہلاتے ہیں اور عرب انھی کی ایک شاخ ہیں۔ انھی کے اندر حضرت ابراہیم پیدا ہوئے ۔

جہاں تک عرب کے انتخاب کا تعلق ہے تو اصل انتخاب حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا کیا گیا تھا۔ چنانچہ پہلے ان کی اولاد کے ایک حصے یعنی بنی اسرائیل کو نبوت و امامت عالم سے سرفراز کیا گیا اور تقریبا ڈیڑھ ہزار برس تک دنیا کی ہدایت و رہنمائی ان کے ذریعے سے کی جاتی رہی۔ تاہم جب ان کا بگاڑ حد سے زیادہ بڑھا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ کا بھی انکار کر دیا تو انھیں اس منصب سے معزول کر دیا گیا۔

اس دوران میں حضرت ابراہیم کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل کی اولاد عرب میں ایک قوم بن چکی تھی۔ چنانچہ ان کے درمیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ 23 برس کی جدوجہد کے بعد عرب معاشرے نے اسلام کو مکمل طور پر قبول کیا اور دنیا پر شہادت حق کی وہی ذمہ داری ادا کی جو اس سے قبل بنی اسرائیل ادا کرتے رہے تھے ۔

چنانچہ پچھلے چار ہزار برس سے دنیا میں وہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کے منصب پر فائز ہیں جن کا تعلق آل ابراہیم سے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز نہ پڑھنے کی سزا

سوال:

السلام علیکم

اللہ سبحانہ و تعالی نے نماز نہ پڑھنے کی کوئی سزا بیان نہیں کی جیسا کے چوری، زنا یا قتل کی سزائیں، مجھے آج یہ سوچ آئی کہ اللہ رب العزت کی ذات اتنی عظیم ہے کہ وہ بندے کے ساتھ give and take policy نہیں اپناتا جیسا کہ عام طور پر انسانوں کے آپسی معاملات میں ہوتا ہے ۔ رب نے عبادت! نماز فرض تو کر دی لیکن نہ پڑھنے پر سزا نہیں رکھی۔ ایسا نہیں کہا کہ نماز نہیں پڑھو گے تو کھانا نہیں ملے گا۔۔۔ اس کو تو عبادت کی ضرورت نہیں ہے یہ تو بندے کو شرف بخشا گیا کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرے۔ اور سب سے بڑھ کر وہی ذات لائقِ عبادت ہے۔ ایک بندہ جب اپنے رب کے ساتھ تعلق بنا لیتا ہے تو اس کو گوارہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے رب کے سامنے نماز کے لئے کھڑا ہی نہ ہو یا اس کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر خود کو عاجز ظاہر نہ کر دے ۔

آپ سے پوچھنا یہ تھا کہ ایسا سوچنا کہ نماز نہ پڑھنے کی سزا نہیں ہے اور اس کی یہ وجہ ہے جو میں نے سوچی کیا یہ غلط تو نہیں ۔۔۔ میرا علم بہت محدود ہے لیکن میں سارا دن اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے باتیں کرتی رہتی ہوں اس لیے ڈر رہتا ہے کہ گستاخی نہ ہو جائے ، سارہ معظم

جواب:

وعلیکم السلام

دیکھیے اللہ کی نافرمانی دو پہلوؤں سے قرآن مجید میں زیر بحث آئی ہے ۔ ایک حیثیت میں یہ باعث گناہ ہے ۔ اس حیثیت میں نافرمانی کا ہر کام انسان کو آخرت میں سزا کا مستحق بنادیتا ہے چاہے اس کی سزا بیان ہوئی ہو یا نہیں ۔۔ دوسرے پہلو سے اللہ کی نافرمانی کے کاموں کو گناہ کے ساتھ جرائم بھی قرار دے دیا گیا ہے ۔ اس پہلو سے دنیا میں ان کی کوئی سزا بھی بیان کی گئی ہے ۔ جیسے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، قتل کی سزا موت اور زنا کی سوکوڑ ے وغیرہ۔

اس پہلو سے دیکھیں تو نماز کی کوئی متعین سزا دنیا میں بیان نہیں کی گئی ہے ۔ البتہ آخرت کے بارے میں قرآن بالکل واضح ہے کہ اہل جہنم کے اس سزا کے مستحق ہونے کی وجہ نماز نہ پڑھنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’(اہل جنت مجرموں سے پوچھیں گے ) تمھیں جہنم میں کیا چیز لے گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑ ھتے تھے ۔‘‘ (المدثر ۔آیت 42-43)

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ کو عبادت کی ضرورت ہے یا نہیں تو یہ سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ حقوق یا عبادات اس لیے مقرر نہیں کیے ہیں کہ بندوں کا عبادت کرنا کسی پہلو سے ان کی کوئی ضرورت ہے۔ فلسفہ عبادت یہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ عبادت کر کے بندے وہ حق ادا کرتے ہیں جو ان پر ایک معبود کے حوالے سے عائد ہوتا ہے۔ کوئی نماز نہیں پڑھتا تو وہ اپنے اوپر عائد ہونے والے ایک اہم بلکہ اہم ترین حق کو ادا نہیں کرتا۔ سزا اس حق تلفی کی ہو گی۔ اس کی نہیں کہ اللہ کی عبادت نہیں کی۔ انھیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم اور آخرت، قرآن فہمی

سوال:

محترم ابویحییٰ صاحب

السلام علیکم

امید کرتا ہوں کہ آپ اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوں گے ۔ میں نے آپ کی کچھ کتابیں، جب زندگی شروع ہو گی سیریز اور تیسری روشنی پڑھی ہیں ۔ بہت اچھی تھیں ۔ بہت کچھ سیکھا۔

سر میں نمل کالج میں الیکٹریکل انجینئرنگ کا طالب علم ہوں اورآپ سے کچھ سوالات ہیں ۔

۱۔ بعض اوقات میں اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتا کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنا بہت سا وقت اس پڑھائی میں لگا رہا ہوں جس کا مجھے آخرت میں کچھ فائدہ نہیں۔ برائے کرم اس معاملے میں کچھ رہنمائی فرمائیے ۔

۲۔ میں قرآن پاک کو گہرائی میں جا کر سمجھناچاہتا ہوں۔ لیکن عربی کا کچھ زیادہ علم نہیں ہے۔ برائے کرم کچھ اہم چیزوں کی طرف رہنمائی فرما دیجیے جو قرآن فہمی کے دوران پیش نظر رہنی چاہئیں۔ اور قرآن پاک کو بہتر سمجھنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ محمد یوسف

جواب:

عزیز بھائی محمد یوسف

السلام علیکم

آپ کا ای میل پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اللہ آپ کو دین و دنیا کی ترقی عطا فرمائے۔ آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں ۔

۱۔ یہ تصور کہ دنیا کی تعلیم حاصل کر کے آخرت کا کوئی فائدہ نہیں ، ایک ایسا تصور ہے جس کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہمارے دین کی تعلیم یہ ہے کہ تمھارا امتحان اسی دنیا میں لیا جائے گا نہ کہ ترک دنیا کی صورت میں ۔ سو آپ کو تعلیم بھی حاصل کرنی ہے، شادی کرنی ہے گھر بسانا ہے ملازمت کرنی ہے اور تمام ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد رکھنا ہے۔ ہرمعاملے میں اللہ کے احکام کو جاننا ہے اور اس کی مرضی کے مطابق چلنا ہے۔ سارا اجر اسی چیز کا ہے۔

۲۔ دوسرے سوال کے جواب میں عرض یہ ہے کہ پہلے مرحلے پر قرآن مجید کا اصل پیغام سمجھنے کی کوشش کیجیے یعنی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کیا ہے اور وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں نیز جنت اور آخرت کی کامیابی کن چیزوں پر موقوف ہے۔ خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ نے اس فقیر سے یہ کام بھی لے رکھا ہے۔ میری کتاب قرآن کا مطلوب انسان میں قرآن و حدیث کے حوالے سے یہ ساری تفصیل موجود ہے ۔ اس کو میں نے ایک کورس کی شکل میں پڑھا بھی دیا ہے جو آپ انذار کی ویب سائٹ www.inzaar.org پر سن سکتے ہیں ۔

اسے سنیے اس کے بعد پھر اسی سائٹ پر میرا خلاصہ قرآن کا پورا درس قرآن موجود ہے جو علمی طور پر بھی قرآن کا پیغام واضح کر دے گا۔ یہ سب سن لیں اس کے بعد اردو کی تین چار اہم تفاسیر کا مطالعہ کر لیں تو قرآن کی گہری سمجھ پیدا ہوجائے گی۔ ان میں اصلاحی کی تدبر قرآن، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن اور مفتی شفیع کی معارف القرآن شامل ہیں۔ اس طرح آپ عربی سیکھے بغیر قرآن کو سمجھ لیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *