2016 سوال و جواب – جنوری (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

منافقت کیا ہے؟

سوال:

السلام علیکم

سر میرا سوال منافقت کے بارے میں ہے کہ منافقت کیا ہے اور میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کہیں میں منافق تو نہیں ہوں۔ اوراگرمیں منافقت کی بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں تو میں اس بیماری کا علاج کیسے کر سکتا ہوں۔ جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے تو وہ کون سی چیزیں ہیں جن کو اختیار کر کے منافقت کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

براہِ کرم رہنمائی فرمائیے تا کہ میں خود کو منافقت سے بچا سکوں۔

اور آپ سے درخواست ہے کہ میرے لیے دعا فرمائیے کہ میں قرآن اور دین کو درست طریقے پر سمجھ سکوں اور کامیاب ہو سکوں۔ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

محمد دانش فضل

جواب:

محترمی و مکرمی دانش فضل صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

منافقت اس بات کا نام ہے کہ انسان دل سے ایمان کا منکر ہو لیکن اپنے ظاہر سے اس بات کا اظہار کرے کہ گویا وہ ایک مسلمان ہے۔ اگر عقلی طور پر اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں اور دل سے اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر آپ علانیہ طور پر اس کا اقرار بھی کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی شخص خود کو منافق سمجھے۔ دین کی تعلیم یا اعتقاد پر کسی قسم کا سوال پیدا ہونا یا عملی طور پر کسی کمزوری کا ظہور ہونا منافقت نہیں ہوتا۔

منافقت کی بیماری وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان ظاہری طور پر تو اسلام کا اقرار کرنے پر مجبور ہوتا ہے، مگر دل سے وہ حق کا منکر ہوتا ہے۔ اس طرح کا شخص اپنی منافقت کو کوئی بیماری نہیں سمجھتا وہ اسے حالات کا تقاضہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ آپ کا یہ سوال درست نہیں ہے کہ مجھے منافقت کی بیماری لاحق ہو تو اس کا کیا علاج ہے۔ منافق کو اپنا رویہ کبھی بیماری محسوس نہیں ہوتا۔

ہاں بعض روایات میں منافق کی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جیسے بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے وغیرہ۔ یہ اس دورکے منافقین کی عام علامات تھیں ۔ مومن صادق میں اس طرح کی چیزوں کا کوئی امکان نہیں ۔ اگر ہو تو اسے پوری قوت سے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ سچ بولے اور وعدہ پورا کرے۔

یہ چیزیں ضعف ایمان کی علامت ہوتی ہیں۔ یہ منافقت میں اس وقت بدلتی ہیں جب آدمی پورے شعور سے اپنے غلط رویے کو درست سمجھے اور پھر اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے گناہوں کی تاویل کرنا شروع کر دے۔ یہ منافقت ہے، اس کا علاج سوائے توبہ کے کچھ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کی کتاب ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ دنیا کے لیے ایک تحفہ ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اس میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبہت زیادہ نمایاں کیوں نہیں کیا گیا؟

نوشین عباسی

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

محترمہ نوشین عباسی صاحبہ

کتاب کی پسندیدگی کے لیے آپ کا شکریہ۔

جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ ایک فطری سوال ہے جو بہت سے لوگوں نے مجھ سے کیا کہ کیوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض دیگر مذہبی شخصیات کو اس کتاب میں نمایاں نہیں کیا۔ دیکھیے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں ایک ناول کے قالب میں چیزوں کو بیان کر رہا ہوں۔ ناول میں آپ کو مکالمات لکھنے ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر آپ شخصیات کو زیادہ بیان نہیں کرسکتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی کو بھی میں اگر بیان کرتا تو پھر مکالمات لکھنے پڑتے۔ اس معاملے میں چونکہ ہمارے ہاں لوگ بے حد حساس ہیں تو اس بات کا شدید اندیشہ ہوتا کہ کوئی فتنہ پرور کوئی فتنہ نہ پیدا کر دے اور اصل مقصد فوت ہو جائے۔ اس لیے میں نے اس سے احتراز کیا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ روز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت یا دیگر انبیا کی شخصیت نمایاں نہیں ہو گی۔ میں نے مرکزی کردار کا احوال لکھا ہے۔ اس لیے اس کو نمایاں کرنا پڑا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جو مقام انبیائے کرام کا ہے وہ تو قیامت ہی کے دن پوری طرح نمایاں ہو گا۔ امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *