2016 سوال و جواب – جولائی (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

حرام سے رکنے کا اجر

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سر جب ہم اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرتے ہیں مثلاً نماز پڑھنا تو اجر ملتا ہے لیکن جب ہم اللہ پاک کی منع کی ہوئی چیزوں سے رک جاتے ہیں مثلاً حرام طریقے سے مال کمانا تو کیا اس پر بھی انسان کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں؟ عبداللہ

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بہت عمدہ سوال ہے آپ کا۔ یہ سمجھ لیجیے کہ اجر اصلاً اطاعت پر ملتا ہے ۔ اطاعت میں نیکی کے کاموں کا کرنا اور برائی کے کاموں سے رک جانا دونوں شامل ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نیکی کے کام بار بار کرنے ہوتے ہیں ۔ جیسے رمضان کے روزے ہم ہر برس رکھتے ہیں، نماز ہر روز پانچ دفعہ پڑھتے ہیں ۔ تو خیال یہ ہوتا ہے کہ اس پر تو ہر دفعہ اجر ملنا چاہیے۔ لیکن گناہ سے ہم ایک دفعہ اصولی فیصلہ کر کے رک جاتے ہیں ۔ جیسے چوری یا زنا نیک لوگ پوری زندگی نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک دفعہ کے بعد ان کو اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔ بلکہ ان کو ہر روز بدکاری سے رکنے اور ہر روزی چوری سے رکنے کا اجر ملے گا۔ اس کے علاوہ اگر گناہ کا موقع سامنے آجائے اور پھر رکیں تو اس کا اجر خصوصی طور پر ملے گا۔ اس لیے اطمینان رکھیے کہ مال حرام سے رکنے کا اجر آپ کو ساری زندگی ملے گا۔ جب بھی آپ مال کمائیں گے تو ایک اجر رزق حلال کا ہو گا اور دوسرا اجر حرام سے بچنے کا ہو گا۔

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسانوں کی باہمی دشمنی

سوال:

السلام علیکم ابویحییٰ صاحب

میں سورہ طہ کی آیت 123 تا 126 کا مطالعہ کرتے ہوئے اٹک گئی ہوں ۔ ان میں حضرت آدم علیہ السلام کا وہی قصہ بیان ہو رہا ہے جو سورہ بقرہ آیت 35 تا 38 میں اور سورہ اعراف آیت 19 تا 25 میں بیان ہوا ہے۔ میں سورہ طہ کی مذکورہ آیات کے الفاظ پر اٹک گئی ہوں ۔ سورہ طہ کی ان آیات میں استعمال ہونے والا مثنیٰ کا صیغہ مجھے کنفیوژ کر رہا ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ اعراف میں اسی واقعہ کو بیان کرتے وقت جمع کا صیغہ (اھبطوا) استعمال ہوا ہے ۔

یعنی کہ دو سے زیادہ ۔ لیکن سورہ طہ میں اسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے مثنیٰ صیغہ استعمال ہوا ہے۔ کیا یہ بے معنی ہے یا سورہ طہ میں مثنیٰ صیغہ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ ہم توجہ کریں۔ سورہ طہ میں اس کے بعد لفظ ’’جمیعا‘‘ بھی استعمال ہوا ہے۔ زیادہ تر مفسرین یہاں لفظ ’’جمیعا‘‘ کو مثنیٰ کے صیغہ کی تلافی کے طور پر لیتے ہیں۔ لہٰذا زیادہ تر تفاسیر میں سورہ طہ کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے ۔

’’تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ اور اب سے تم دونوں (یعنی اولاد آدم اور شیطان) ایک دوسرے کے دشمن ہو گے ۔‘‘

جبکہ درست ترجمہ یہ ہونا چاہیے ۔

’’تم دونوں اکٹھے یہاں سے اتر جاؤ، تم میں سے بعض، بعض کے دشمن ہوں گے ۔تو اب جس نے ہدایت کی پیروی کی‘ نہ تو وہ گمراہ ہو گا اور نہ ہی بدبخت، لیکن جو میرے ذکر(نصیحت) سے منہ موڑے گا تو اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے ۔‘‘

یعنی دشمنی کا ذکر انسان و شیطان کے حوالے سے نہیں بلکہ اولاد آدم کی باہمی دشمنی کے حوالے سے ہے۔ میں اس آیت کو اپنے اس کیس کو پیش کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہوں کہ صرف وہ مرد و خواتین جو قرآن پاک کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں صرف وہی دنیا و آخرت میں ’’ پریشانی سے آزاد‘‘ زندگی پائیں گے۔ صرف یہی وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوں گے باقی سب ’’بعض‘‘ کی کیٹیگری میں آ جائیں گے ۔(تلخیص ترجمہ ، عابد عبداللہ)

جواب:

آپ نے جو کچھ تحقیق کی ہے وہ قابل قدر ہے ۔ ایک طالب علم اپنی تحقیق سے جن نتائج پر پہنچتا ہے اس کا ان پر اطمینان ایک فطری چیز ہے ۔ تاہم آپ نے مجھ سے میرا نقطہ نظر دریافت فرمایا ہے کہ سورہ بقرہ، اعراف اور پھر طہ میں دیا گیا ’’اھبطو‘‘ کا حکم کس سے متعلق ہے خاص کر سورہ طہ میں تثنیہ کا صیغہ لا کر اللہ تعالیٰ کس خاص بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔

آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سورہ طہ میں تثنیہ کے صیغے سے مراد یہ ہے کہ نیچے اترنے کا یہ حکم حضرت آدم و حوا کو دیا گیا اور’’ بعضکم لبعض عدو‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ان کی اولاد کا کچھ حصہ ایک دوسرے کا دشمن ہو گا۔

میرے نزدیک قرآن مجید کی آیات کو قرآن کے مجموعی نظم کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ کلام کے کسی جز کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پورے پس منظر کو سمجھا جائے جس میں بات کہی جا رہی ہے۔ ان تینوں مقامات پر اور دیگر مقامات پر واقعہ ابلیس و آدم جس پس منظر میں بیان کیا جا رہا ہے اور قرآن مجید میں مزید مقامات پر ’’ان الشیطان لکم عدو‘‘ کہہ کر جس حقیقت کی صراحت بھی کر دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ اس کی دشمنی کی تاریخ کے بیان میں قرآن کریم وہ واقعہ بیان کرتا ہے جو ہمارے جد امجد حضرت آدم و حوا کے ساتھ پیش آیا۔ رہے بنی آدم تو ان کو جگہ جگہ یہ سمجھا کر کہ وہ ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوئے ہیں انھیں ہم آہنگی کا درس دیا گیا ہے ، نہ کہ ان کی دشمنی کا بیان ہے ۔

اگر یہ پس منظر درست سمجھا گیا ہے تو’’ بعضکم لبعض عدو‘‘ کا مطلب یہی درست محسوس ہوتا ہے کہ ان تمام مقامات پر انسانوں کی باہمی دشمنی کا بیان نہیں بلکہ شیطان اور اس کی اولاد کی آدم اور ان کی اولاد سے دشمنی کا بیان ہے ۔

اس بات کو سمجھنے کے بعد زبان و بیان کے پہلو سے جو اعتراضات آپ نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر ایک کی وضاحت کی جا سکتی ہے ۔ سورہ طہ میں تثنیہ کا صیغہ لا کر آدم و حوا نہیں بلکہ آدم و ابلیس بحیثیت دو فریق مخاطب ہیں ۔ ’’جمیعا ‘‘وہاں آپ کے سمجھے ہوئے مفہوم simultaneously یا ایک ہی وقت میں کے معنی میں نہیں ہے ۔ ’’جمیعا ‘‘ کے الفاظ کا زور وقت پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ سب کے سب لوگ اس جگہ سے چلے جائیں ۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کی مہمان نوازی ختم اور اپنی معیشت کا بندوبست آپ لوگ خود کیجیے۔ رہا یہ اعتراض کے ’’بعض‘‘ کا مطلب ’’کچھ ‘‘ہوتا ہے اس لیے مراد یہ ہے کہ کچھ انسان ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے تو یہ بات ٹھیک نہیں ۔’’بعضکم لبعض ‘‘ جیسے اسالیب کا مطلب کچھ کے بجائے ’’ایک دوسرے کے ‘‘مفہوم میں ہوتا ہے ۔ اس کو سمجھنا ہے تو سورہ آل عمران 195 میں دیکھ لیجیے وہاں ’’بعضکم من بعض ‘‘ کہہ کر یہی بات ایک دوسرے پہلو سے کھول دی گئی ہے ۔ آپ کا مفہوم مراد لیا جائے تو وہاں یہ مراد بن جائے گی کہ کچھ مرد و عورت جو ایک دوسرے سے پیدا ہوتے ہیں وہ آپس میں برابر ہیں اور باقی نہیں ۔ جبکہ وہاں کہنا ہی یہ مقصود ہے کہ مرد ہو یا عورت اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے ہی سے پیدا ہوتے ہیں ۔

باقی رہی یہ بات کہ شیطان کو تو پہلے ہی جنت سے نکال دیا گیا تھا تو اس وقت اس کو مخاطب کرنا ممکن نہیں تو یہ تصور درست نہیں ۔ اس کو کسی جنت سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ بارگاہ الٰہی سے راندہ درگاہ کیا گیا تھا۔ اس خاص جنت کے بارے میں تو اسی سورہ طہ میں صراحت ہے کہ اس نے اس میں آ کر وسوسہ انگیزی کی تھی۔ اس لیے وہ بھی اِن دونوں میاں بیوی کے ساتھ یہاں موجود تھا۔ یہ ان آیات کے فہم میں میری رائے ہے ۔ ھذا ما عندی والعلم عنداللہ۔

ابویحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *