2016 سوال و جواب – دسمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

سوال و جواب

ابویحییٰ

اسلام میں عزت اور شرف کا معیار اور بزرگوں کے ہاتھ چومنا

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سر مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا کوئی صرف بزرگ ہستیوں کے گھر میں پیدا ہو جانے سے لوگوں کے لیے عزت و شرف کا باعث بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ سید گھرانے میں پیدا ہو جائے تو وہ بچہ دوسرے مسلمانوں سے کسی برتر درجے پر فائز ہو گا؟ اسی طرح اگر کوئی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان سے نسبت رکھتا ہو تو کیا صرف نسبت کی بنا پر اسے دوسرے مسلمانوں پر کوئی درجہ و فضیلت حاصل ہو گی؟

اگر ہاں تو یہ برہمنیت سے کیسے مختلف ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بیان کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ

’’ اے فاطمہ! خود کو جہنم کی آگ سے بچانا، اگر اللہ پاک نے پکڑ لیا تو میں کچھ کام نہ آ سکوں گا‘‘

تو اس کا کیا مطلب ہو گا ؟ اور اسی طرح:

’’ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے ۔‘‘

کا کیا مطلب ہو گا؟

اور اگر نہیں تو پھر قرآن پاک میں سورۃ الاحزاب آیت 32 میں نبی کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ

’’ لستن کاحد من النسا‘‘

یعنی تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اس کا کیا مطلب ہے ۔ براہِ کرم ذرا وضاحت فرما دیجیے ۔

اور ازراہِ کرم اس بات کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کسی حقیقی فضیلت کی بنا پر جیسے والدین یا عام لوگوں میں مشہور متقی لوگ مثلاً عرف عام میں پیر صاحبان وغیرہ کے ہاتھوں یا پاؤں کو عقیدت سے چومنا کیسا ہے ۔

جزاک اللہ خیراً       عابد علی

جواب:

ہمارے دین میں کسی شخص کو اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل ہے اس کا فیصلہ قرآن کریم اپنے نزول کے وقت ہی کر چکا ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو‘‘ (الحجرات 13:49)

اس بات کو مزید سمجھنا ہو تو قرآن مجید میں بیان ہونے والی بنی اسرائیل کی داستان پڑھیے۔ وہ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے متعدد جلیل القدر انبیا کی اولاد تھے۔ مگر کیا اس سے کوئی فرق پڑا۔ ہرگز نہیں اللہ نے ان سے ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کیا اور جب ان کے اعمال بگڑے تو ان پر لعنت کر دی گئی۔

خود حضور کو دیکھ لیجیے۔ ابو لہب کا رشتہ حضور سے سگے چچا کا تھا، مگر وہ بھی اس کے کام نہ آیا۔ اس کا انجام سورہ لہب میں پڑھ لیں ۔

قرآن کی طرح حدیث میں بھی کوئی ایسی بات ہرگز نہیں بیان ہوئی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ کسی خاندان سے نسبت انسان کو دوسروں پر شرف اور برتری دے دیتی ہے۔ کچھ احادیث آپ ہی نے نقل کر دی ہیں، ان کے علاوہ خطبہ حجۃ الوداع سے متعلق ایک روایت میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔

رہی سورہ احزاب کی آیت کی بات تو یہ فضیلت کا نہیں ذمہ داری کا معاملہ تھا۔ یعنی حضور کی ازواج کا معاملہ اور ان کی ذات کی حساسیت عام خواتین کی طرح نہ تھی۔ بلکہ ان کے حوالے سے کوئی الزام لگایا جاتا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا تو اس سے خود حضور کی ذات اور شخصیت کا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔ اس لیے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے گئے تاکہ منافقین کو کسی طرح کی فتنہ انگیزی کا ذریعہ نہ مل سکے۔ آپ کا نقل کردہ جملہ اسی پس منظر کا ہے۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کسی خاندانی فضیلت کا بیان نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منصب کی بنا پر عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں، اسی طرح ان کی ازواج بحیثیت اہل خانہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان پر لگی ہوئی کسی بھی تہمت سے آپ کا متاثر ہونا لازمی ہے۔

باقی ہاتھ پاؤں چومنے کا جو معاملہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ اظہار عقیدت کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان محبت میں اپنے فطری جذبات کے اظہار کے لیے ماں یا باپ کے ہاتھ چوم لیتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مذہبی لوگوں سے اس طرح کی عقیدت اکثرخرابی کا سبب بنتی ہے۔ اس سے بچنا بہتر ہے۔

والسلام علیکم

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا محض اندیشہ کی بنا پر قتل ناحق جائز ہے؟

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں نے سورہ کہف پر آپ کا آرٹیکل پڑھا۔ بہت اچھا اور متاثر کن تھا۔ لیکن میرا ایک سوال ہے جو میں کافی دیر سے پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن کبھی موقع نہ مل سکا اس لیے آپ سے پوچھ رہی ہوں ۔ سورہ کہف میں بیان کردہ واقعہ کے مطابق جب حضرت خضر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان باتوں کی وضاحت کر رہے تھے تو کشتی کو عیب زدہ کرنے اور گرتی ہوئی دیوار کو (بلا معاوضہ) سیدھا کر دینے کی بنیاد حقائق پر مبنی تھی۔ لیکن جب انہوں نے ایک چھوٹے بچے کو جان سے مار ڈالا تو یہ انہوں نے ’’ محض خوف‘‘ کے تحت کیا نہ کہ کسی حقیقی واقع کے تحت۔ جب ہم کسی چیز سے ڈرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ہوجائے لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ وقوع پذیر ہی نہ ہو۔ خدا کا کوئی باغی بھی کسی بھی وقت توبہ کر کے خدا کی طرف لوٹ سکتا ہے اور ایک اچھا انسان اور خدا کا فرمانبردار بندہ بن سکتا ہے۔ یقینی طور پر اس مخصوص واقع میں ہم جانتے ہیں کہ حضرت خضر کو یہ حکم خدا کی طرف سے ہی دیا گیا تھا۔ لیکن جب بھی میں ان آیات پر پہنچتی ہوں تو یہ سوال میرے ذہن میں پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے وجدان(intuition) پر کس حد تک اعتبار کر سکتے ہیں؟ اور مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خضر کے اس عمل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی حقیقت کارفرما تھی جو کہ ان آیات میں کہیں مخفی ہے اور میری ابھی اس تک رسائی نہیں ہوئی۔

جزاک اللہ خیر

ضحی فاروقی

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

دیکھیے اس معاملہ میں ہمیں دو چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں ۔

۱۔ خضر ایک فرشتہ تھے اور انہوں نے جو بھی کیا اللہ تعالیٰ سے حکم ملنے کے بعد ہی کیا۔ لہٰذا ہم اپنے میں سے کسی کا بھی ان کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔

۲۔ دوسرے یہ کہ یہاں استعمال ہونے والے الفاظ مثلاً ’’خشینا‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کا مطلب ’’ممکن ہے ‘‘ یا ’’شاید‘‘ کے نہیں ہے بلکہ یہ ’’یقینی امور‘‘ پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ ’’عسٰی‘‘ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں۔ اس کا لغوی معنی ہے کہ ’’شائد‘‘ لیکن جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لیے استعمال فرماتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقینا ایسا کریں گے۔ اصل میں یہ بادشا ہوں کے کلام کرنے کا شاہانہ انداز ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہستی ہیں تو وہ ایسے اندازمیں کلام فرماتے ہیں۔

اس بات کو یاد رکھیے کہ یہاں پر خضر اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس سے بات واضح ہو گئی ہو گی۔

جزاک اللہ خیر

ابویحییٰ

 

 

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *