2016 سوال و جواب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

اصلاح کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟

سوال:

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

سر انسان کو اپنی اصلاح کا آغاز کس بنیادی نکتے سے کرنا چاہئیے؟ مثال کے طور پر مجھ میں بہت ساری برائیاں ہیں اور میں اپنی اصلاح کی خواہاں ہوں تو سب سے پہلے کیا چیز ہونی چاہئے جس پر فوکس ہو کر اس کو ٹھیک کرنے یا اس کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یسریٰ اصمعی

جواب :

وعلیکم السلام و رحمت اللہ وبرکاتہ

اپنی اصلاح کے آغاز کا لائحہ عمل ہر شخص کے لیے کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر اس میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جن برائیوں کا چھوڑنا آسان ہو پہلے ان سے شروع کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ان برائیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے جن کو چھوڑنے میں دقت پیش آتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس کے ساتھ اپنے علم کی سطح کو بڑھاتے رہنا چاہیے خاص کر وہ علم جس کا مقصد اصلاح و تربیت ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ ہمارے تربیتی کورس جوائن کرسکتی ہیں۔ اس علم سے آپ کو معلوم ہو گا کہ کون سی غلطیاں اور برائیاں ہم میں موجود ہیں مگر ہم ان کو برا نہیں جانتے۔ انشاء اللہ اس طرح آپ کے اندر اصلاح اور بہتری کا ایک مسلسل عمل شروع ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جزاک اللہ کا درست تلفظ

سوال:

السلام علیکم، جزاک اللہ خیراً کا درست تلفظ کیا ہے ۔ یعنی اللہ پر پیش آئے گا یا زیر آئے گا، ثمر عمیر

جواب:

وعلیکم السلام و رحمت اللہ وبرکاتہ

جزاک اللہ خیرا میں اللہ حالت رفعی میں ہے۔ یعنی اس پر پیش پڑھا جائے گا۔ تاہم یہ عربی کا معاملہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ الفاظ اور تراکیب دوسری زبان میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں پہلی زبان کے تلفظ پر اصرارکرنا زبان و بیان کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ خود عربی زبان کو دیکھ لیجیے۔ آج کل کتنے ہی انگریزی الفاظ عربی میں مستعمل ہو چکے ہیں۔ مگر ان کا تلفظ بدلا ہوتا ہے اور کوئی عربی چاہے وہ انگریزی جانتا ہو اسے غلط نہیں سمجھتا۔ اس لیے اردو میں جزاک اللہ خیرا کے اللہ پر زیر پڑھ لیا جائے تو یہ کوئی سنگین مسئلہ نہیں ۔

اردو میں پہلے ہی ایسا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ سوال کے س پر عربی میں پیش ہے۔ مگر ہم سب اسے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ مگر آج کل بعض لوگ اس پر بہت اصرار کرنے لگے ہیں کہ سُوال پڑھا جائے۔ یہ مطالبہ بھی غیر فطری ہے۔ اسی طرح یا رسول اللہ کی ترکیب میں عربیت کی رو سے رسول پر زبر آنا چاہیے۔ مگر اردو میں عام طور پر لوگ پیش بول دیتے ہیں۔ اس سے بھی تلفظ غلط نہیں ہوجاتا۔

عربی زبان کے درست تلفظ کا اہتمام یا تو عربی زبان بولتے وقت کرنا چاہیے یا قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت۔ اردو میں عربی تراکیب یا الفاظ کے اصل تلفظ کا مطالبہ درست نہیں۔ ہاں کوئی کرنا چاہے تو کر لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *