2016 سوال و جواب – مئی (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

تہذیب اور شائستگی

سوال:

السلام علیکم

میں نے ’جب زندگی شروع ہو گی‘ کا دوسرا حصہ پڑھا۔ اس کی تعریف کے الفاظ نہیں ملتے ۔ لیکن ایک کنفیوژن ہے کہ آپ نے جب مرزا قادیانی کا ذکر کیا تو وہ بھی عزت اور تکریم کے الفاظ سے یعنی ’’انھیں ‘‘ اور ’’انھی‘‘ کے الفاظ کے ساتھ کیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس عزت کا مستحق ہے ۔

جواب:

السلام علیکم

فیڈ بیک اورپسندیدگی کا شکریہ۔

اس کتاب یعنی ’’قسم اس وقت کی ‘‘ کے شروع میں میں نے توجہ دلائی ہے کہ ہمیں تہذیب اور شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔ دوسرے اگر گمراہ ہوتے ہیں تو کیا میں بھی اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دوں؟

مزید یہ کہ غیر شائستہ رویہ اختیار کر کے ہم کسی کے پیروکاروں پر اس کی غلطی واضح نہیں کرسکتے ۔ جبکہ ہمارا مقصد راہ راست سے ہٹ جانے والوں کو درست راہ کی دعوت دینا ہے ۔ دعوت اگر مقصد ہے تو شائستگی تو اختیار کرنا ہو گی۔

والسلام علیکم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باہمی معاملات میں ظلم اور حق تلفی

سوال:

السلام علیکم

امید ہے کہ آپ اور آپ کے اہل خانہ بخیریت ہوں گے ۔ مجھے ایک معاملے میں آپ کی رائے درکار ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ دو لوگوں نے 50/50 حصے سے شراکت داری کے ساتھ ایک بزنس کمپنی کا آغاز کیا۔ اس میں یہ صورت حال درپیش ہے :

۱۔ ایک حصہ دار کا کہنا ہے کہ دونوں حصہ داروں میں سے کسی ایک کی موت کی صورت میں پوری کمپنی دوسرے حصہ دار کی ملکیت ہو گی۔

۲۔ دوسرے حصہ دار کا کہنا ہے کہ نہیں ! بلکہ یہ دونوں حصہ داروں کے لواحقین کی ملکیت ہی ہو گی۔

جو صاحب کہتے ہیں کہ کسی ایک حصہ دار کی موت کی صورت میں کمپنی صرف زندہ بچ جانے والے حصہ دار کی ہی ملکیت ہو گی ان کی فیملی دوسرے حصہ دار کی فیملی سے کوئی تعلق رکھنے پر راضی نہیں ہے کیونکہ وہ ان پر بھروسہ نہیں کرتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا پہلی صورت میں دونوں حصہ داروں کی باہمی رضا مندی سے ایسا کوئی معاہدہ کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے؟ مجاہد۔

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اصل اصول یہ ہے کہ باہمی معاملات میں حق تلفی اور ظلم نہیں ہونا چاہیے۔ بہترین شکل تو یہ تھی کہ اگر کسی فریق کو دوسرے کے لواحقین پر اعتماد نہیں تو پھر اس کے انتقال کے ساتھ ہی شراکت داری ختم کر دی جائے۔ لوگوں کو ان کے حصے ادا کر دیے جائیں۔ یا ایک شخص دوسرے کے انتقال کے بعد اگر کاروبارسنھبالتا ہے تو دوسرے کے لواحقین کو ان کا مکمل حصہ ادا کر دے۔ اس کے بعد وہ کاروبار سنبھال لے تو کوئی حرج نہیں۔

تاہم چونکہ ہر کیس میں بہت سی باتیں اسی صورتحال اوران افراد کے حوالے سے خاص ہوتی ہیں اس لیے فریقین کو باہمی سمجھوتے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کا حق حاصل ہے۔ بس یہ بات ذہن میں رہے کہ حق تلفی اور ظلم کی پوچھ قیامت کے دن کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گناہ کا بدلہ

سوال:

السلام علیکم

سر میرا ایک سوال ہے ۔ ہمارے ایک عیسائی ٹیچر نے ہمیں بتایا ہے کہ بائبل میں ’’ گناہ کی مزدوری موت ہے ‘‘۔ پھر انہوں نے کچھ مسلم طلبا سے پوچھا کہ اسلام میں گناہ کی مزدوری کیا ہے؟ قرآن تمہیں کیا بتاتا ہے؟ میرا جواب دینے کا ارادہ تھا لیکن میں نہیں دے پائی کیوں کہ مجھے جواب معلوم ہی نہیں تھا ۔ اس میں مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔ حنا امجد

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

یہ سینٹ پال کے الفاظ ہیں جو رومیوں کے نام ان کے ایک خط کا حصہ ہیں۔ قرآن میں گنا ہوں کا بدلہ جہنم ہے ان لوگوں کے لیے جو توبہ کر کے خدا کی سیدھی راہ کی طرف نہ آئیں ۔ اگر کوئی گناہگار توبہ کر کے خدا کی سیدھی راہ کی طرف آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان گناہوں کو معاف فرما کر ان کو نیکیوں میں تبدیل فرما دیتے ہیں اور ایسا کرنے والے کو جنت کی ابدی زندگی عطا فرمائیں گے ۔

ابو یحییٰ

 ۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *