2016 سوال و جواب – مارچ (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

کیا جنت پہلے سے موجود ہے ؟

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سر آپ نے بہت عمدہ کام کیا ہے ۔ میں نے آپ کی تین تصانیف پڑھی ہیں اور الحمدللہ بہت فائدہ ہوا ہے۔ سر میرے کچھ اشکال ہیں اگر آپ دور فرما دیں گے تو بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کی تصنیف میں آپ نے ذکر فرمایا کہ قیامت کے بعد اسی دنیا کو جنت کی شکل دے دی جائے گی۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جنت پہلے سے وجود میں نہیں آ چکی کیونکہ سورہ یس میں اس تیسرے شخص کے بارے میں کہ جس نے دو نبیوں کی حمایت کا اعلان کیا جنت میں جانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ جس پر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ’’ کاش میری قوم کو معلوم ہوتا‘‘۔ میرا مقصد ہرگز آپ پر تنقید یا دل شکنی کرنا نہیں ہے ۔ میں بس اس میں تھوڑا کنفیوز ہوں ۔ اگر آپ اس چیز کی وضاحت فرما دیں تو بہت مشکور ہوں گا۔ آپ کی تصانیف کے بعد اب میں نے الحمدللہ قرآن کو بھی ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا ہے ۔ ثابت قدمی کے لیے دعا کی درخواست ہے ۔، جواد احمد نسیم

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عزیز من ای میل کا شکریہ۔ آپ اطمینان سے تنقید کریں، سوال کریں میں اس کا ہرگز برا نہیں مانتا، تنقید کرنا یا سوال کرنا غلط نہیں ۔ جو چیز غلط ہوتی ہے وہ الزام، بہتان  اور  بغیر سمجھے سوال کیے خود کو عالم و فاضل سمجھ کر دوسرے کے متعلق فیصلہ دے دینا ہے ۔ میں جو کچھ بیان کرتا ہوں ، میری آراء ہوتی ہیں ۔ یہ غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ دوسروں کو حق ہے کہ مجھ سے اختلاف کریں ۔ یہی حق مجھے حاصل ہے کہ میں اگر دلیل رکھتا ہوں تو ان سے اختلاف کروں ۔

جو سوال آپ نے اٹھایا ہے اس میں اہل علم کی ایک سے زیادہ آرا ہیں ۔ یعنی جنت بن چکی ہے یا قیامت کے بعد بنے گی۔ میں ان اہل علم کی رائے کو درست سمجھتا ہوں جن کے نزدیک جنت قیامت کے بعد بنائی جائے گی۔ میں پہلے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں اپنے وہ دلائل بیان کر چکا ہوں جن کی بنا پر میرا رجحان اس طرف ہے کہ جنت قیامت کے بعد بنائی جائے گی۔ یہ اب میری کتاب ’’تیسری روشنی ‘‘ کا حصہ ہے ۔

سورہ یسین کی جس آیت کا حوالہ آپ نے دیا ہے اس میں بشارت کے موقع کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ میں اس رائے کو درست سمجھتا ہوں جو اسے دخول جنت کے بجائے بشارت جنت کہتی ہے ۔ اسلاف میں سے مجاہد تابعی کی رائے یہ ہے کہ یہ بات ان کی شہادت کے وقت ملائکہ نے بطور بشارت ان سے کہی اور جنت میں وہ قیامت کے دن ہی داخل ہوں گے ۔

یہی بات ایک دوسرے انداز میں صاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے اس طرح لکھی ہے ۔

’’مذکورہ اعلان کے بعد ظاہر ہے کہ ان کی پوری قوم ان کی دشمن بن کر ان کے خلاف سازشوں میں لگ گئی ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم کے شر سے محفوظ رکھا اور حمایت حق کی راہ میں انھوں نے یہ بازی جو کھیلی اس کے صلہ میں ان کو جنت کی بشارت دی گئی جس پر انھوں نے اس تمنا کا اظہار فرمایا کہ کاش میری قوم بھی اس بات کی قدر و قیمت جانتی جس کے صلہ میں مجھے یہ مغفرت اور سرفرازی حاصل ہوئی۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ بشارت ان کو کس موقع پر دی گئی ہے ۔ کلام کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے تین امکان سامنے آتے ہیں : ایک یہ کہ ان کے اس اعلان کے بعد قوم کے اشرار نے ان کو شہید کر دیا اور اس وقت ان کو یہ بشارت دی گئی ہو۔ دوسرا یہ کہ اس کے بعد انھوں نے قوم کے رویہ سے مایوس ہو کر ہجرت فرمائی ہو اور اس وقت ان کو یہ بشارت ملی ہو۔ تیسرا یہ کہ اس کے بعد چونکہ ان کا مشن پورا ہو چکا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے ساتھ ان کو وفات دی ہو۔ ان میں سے پہلا امکان کلام کے سیاق و سباق کی روشنی میں اگرچہ زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے لیکن سورۂ مومن کے حوالے سے اوپر ہم نے ان کی جو تقریر نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم کی سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا۔ ان کے وداعی کلمات کے بعد ان کی حفاظت کا ذکر یوں ہوا ہے۔ ’’(اے میری قوم کے لوگو!) میں جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کو تم عنقریب یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کو دیکھنے والا ہے ۔ پس اللہ نے اس کو ان سازشوں کی آفات سے محفوظ رکھا جو لوگوں نے اس کے خلاف کیں اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔(آیت 44-45 ) ‘‘۔ اس آیت کی روشنی میں یہ امکان تو خارج ازبحث ہو جاتا ہے کہ ان کو قتل کیا گیا البتہ مذکورہ بالا دو امکان باقی رہ جاتے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دو میں سے کون سی صورت پیش آئی۔ اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ بس اتنی بات یقینی ہے کہ حق کی حمایت میں جو جانبازی انھوں نے دکھائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا انعام ان کو یہ ملا کہ اسی دنیا میں مبشر بالجنۃ قرار پائے ۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *