2016 سوال و جواب – نومبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سوال و جواب

ابویحییٰ

حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کی قربانی پر کانٹ کا اعتراض

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فیس بک پر ایک جگہ پڑھا کہ کانٹ نے حضرت ابراہیم پر یہ اعتراض کیا ہے انھوں نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کر کے انسانوں کے حوالے سے عاید اخلاقی ذمہ داری کو پامال کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنی قوالی پر خود ہی دھمال ڈالنے والی بات ہے۔ مطلب یہ ہے اصل اعتراض کا ایک غیر متعلق جواب دے کر خود ہی واہ واہ کر کے مطمئن ہو جانے والا معاملہ ہے۔ اصل اعتراض تو پوری قوت سے اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ کیا آپ کے پاس کانٹ کے اس اعتراض کا کوئی جواب ہے؟ مزید یہ کہ مولانا اصلاحی نے کانٹ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ حضرت ابراہیم سے ایک لغزش کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ کیا اصلاحی صاحب نے واقعی ایسا کہا تھا؟ سمیع علی

جواب:

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اپنی قوالی پر خود ہی دھمال ڈالنا اپنے غصے کے اظہار کے لیے ایک اچھی ادبی تعبیر ہو سکتی ہے، لیکن میری درخواست ہے کہ اس طرح کی چیزوں سے بچیں۔ آپ کو غصہ اگر آیا ہے تو صبر سے کام لیجیے۔ اس سے اللہ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہو گی۔ اس طرح کی تعبیرات سے غصہ تو نکل جاتا ہے لیکن نفس کی اچھی تربیت نہیں ہو پاتی۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے قرب کے مواقع گنوا دیتا ہے۔

اس کے بعد آئیے آپ کے دونوں سوالوں کی طرف تو ان دونوں کے جواب میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ سبحانک ھذا بھتان عظیم۔ نہ حضرت ابراہیم نے کسی اخلاقی ذمہ داری کو پامال کیا تھا نہ مولانا اصلاحی نے ان پر کسی لغزش کے ارتکاب کی نسبت کی تھی۔ ہم ان دونوں باتوں کی تفصیل ذیل میں کر دیتے ہیں۔

کانٹ کا حضرت ابراہیم پر جو اعتراض ہے وہ اصلاًبائبل سے پیدا ہونے والی مسیحی اور یہودی فکر پر ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ بائبل سے جب اس واقعے کو پڑھا جاتا ہے تو حضرت ابراہیم کی عظمت تودور کی بات ہے، ان کے بارے میں اس طرح کے سوال ضرور پیدا ہوجاتے ہیں جو کانٹ نے کیے ہیں۔ اب یہ دیکھیے کہ بائبل میں اس واقعے کی کیا تفصیل ہے۔ وہاں بیان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے کی قربانی پیش کریں۔ چنانچہ وہ بیٹے کو لے کر ساتھ چلے، مگر اسے یا اپنے خدام کو ہوا تک نہیں لگنے دی کہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ بیٹے نے پوچھا بھی کہ قربانی کے لیے جانور کہاں ہے تو اسے یہ جھوٹ بول کر مطمئن کر دیا کہ خدا قربانی کا جانور خود ہی مہیا کر لے گا۔ پھر قربان گاہ پہنچ کر قربانی سے قبل اپنے بیٹے کو باندھ دیا۔ (غالباً اس اندیشے سے کہ بیٹا چھری دیکھ کر بھاگ نہ جائے۔)

مجھے یہ بتائیے کہ اس طرح کے بیان پر اگر کانٹ نے اعتراض کیا تو کیا غلط کیا۔ یہ بیٹے کی قربانی نہیں، اسے قتل کرنے کا عمل ہے۔ لیکن وہ قرآن مجید کو خالی الدماغ ہو کر پڑھ لیتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ وہاں تو ایک بالکل دوسری بات کہی گئی ہے۔ وہاں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ جب سیدنا ابراہیم نے یہ خواب دیکھا تو سب سے پہلے اسے اپنے بیٹے کے سامنے رکھ کر اس کی رائے پوچھی۔عظیم باپ کے عظیم فرزند نے جواب دیا کہ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کیجیے، مجھے آپ انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ قرآن ان دونوں کے رویے کو اس طرح بیا ن کرتا ہے کہ فلما اسلما یعنی جب ان دونوں نے سرتسلیم خم کر دیا۔ یعنی یہ معاملہ دونوں ہستیوں کی مکمل مرضی، شعور اور بندگی کے احساس کے ساتھ رونما ہوا تھا۔

اب بتائیے کہ حضرت ابراہیم پر کیا اعتراض باقی رہا۔ انھوں نے کوئی زبردستی نہیں کی۔ بیٹے کو پوری طرح اعتماد میں لیا۔ یہی بیٹے کے حوالے سے ان پر عاید ہونے والی واحد اخلاقی ذمہ داری تھی جو انھوں نے پوری کی۔ اس کے بعد تو بیٹا پوری طرح باپ کے ساتھ شریک تھا۔ اسی لیے اجر میں بھی باپ کے ساتھ شریک ہوا۔

یہی قرآن مجید کی عظمت ہے کہ وہ نبیوں کے نام پر موجود ہر چیز پر قیامت تک کے لیے حجت ہے۔ وہ میزان یا ترازو ہے جس پر رکھ کر ہر مذہبی چیز کو تولا جائے گا۔ وہ فرقان یا کسوٹی ہے جس پر انبیا سے منسوب ہر بات کو پرکھا جائے گا۔ جو اس میزان پر پورا اترا اور اس فرقان میں کھرا نکلا وہی قابل قبول ہے ۔ اور اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہو سکتی۔ یہی حقیقت اس واقعے میں بھی نمایاں ہوتی ہے ۔

جہاں تک اصلاحی صاحب کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ان کا وہ نوٹ پڑھ لیجیے جو انھوں نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں ۔

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّ ئْ یَا۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل و تعبیر ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم کو یہ خواب جو دکھایا گیا اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ وہ اس بیٹے کو خدا کی نذر کر دیں۔ یہ مقصود نہیں تھا کہ اس کو وہ فی الواقع ذبح کر دیں۔ چنانچہ جب وہ بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے تو خواب کا جو اصل منشاء تھا وہ پورا ہو گیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت دے دی کہ خواب کا مقصد پورا ہو چکا اب مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم عمل سے پہلے ہی منسوخ کر دیا انھوں نے ایک غیر ضروری تکلف کیا ہے۔ صحیح تاویل واضح ہو جانے کے بعد اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔(تدبر القران486/6)

اس نوٹ کو پڑھ کر اگر کوئی یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ حضرت ابراہیم سے ایک لغزش کا ارتکاب ہو گیا تھا تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے لوگوں کی دیانت پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ اس آیت کے ضمن میں جو بات اصلاحی صاحب نے نمایاں کی ہے وہ یہ ہے کہ خواب محتاج تاویل و تعبیر ہوتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم نے تو یہ کام سرے سے کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، بلکہ حکم کو بعینہٖ پورا کیا۔ اسی لیے وہ محسن قرار پائے۔ لیکن اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے وہ آیت کے تحت اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا کا بیان کرتے ہیں کہ خواب کی اصل تاویل کیا تھی جو قرآن مجید کے دیگر مقامات اور بعد کی تاریخ سے بالکل واضح ہے۔ وہ یہ تھی کہ حضرت اسماعیل کو حرم کی خدمت کے لیے عرب کی بے آب و گیاب وادی میں بسادیا جائے۔ شام و فلسطین کی جنت کو چھوڑ کر اُس دور میں اپنے بیٹے کو مکہ میں بسانا مجازی طور پر اسے ذبح کر دینے کے مترادف ہی تھا۔ یہی اس خواب کی اصل تعبیر تھی۔ مگر حضرت ابراہیم نے کسی تاویل اور تعبیر کی سرے سے کوشش ہی نہیں کی۔ بلکہ خواب پر بعینہٖ عمل کرڈالا۔ اس پر قرآن تبصرہ کرتا ہے کہ ابراہیم تم نے تو خواب ہی سچ کر دکھایا۔ (لیکن جب یہ ہی کر دیا ہے تو یہ احسان کا آخری مقام ہے اور اس کے بعد ہم اب جو تمھیں دیں گے وہ کبھی کسی کو نہیں دیا۔) ہم محسنین کو ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ یہ بریکٹ کے جملے لما کا جواب ہیں جو بربنائے فصاحت حذف کر دیے گئے ہیں ۔

یہ آیت کا مفہوم ہے ۔ اصلاحی صاحب نے حضرت ابراہیم کی طرف کسی قسم کی لغزش یا تعبیری غلطی کو منسوب نہیں کیا۔ بلکہ جس طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب کی تعبیر کرنے یا تاویل کر کے کوئی رعایت حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ان کے رویے پر تبصرہ اصلاحی صاحب آیت کے اگلے حصے کی شرح میں کر رہے ہیں۔ یہاں دیکھیے وہ کیا لکھتے ہیں ۔

کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے صدق و اخلاص اور اس کے احکام کی تعمیل کے باب میں احسان کی روش اختیار کرتے ہیں، یعنی ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خدا کے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کریں جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے، ان کو اللہ تعالیٰ یہ صلہ دیتا ہے کہ وہ اس کے بڑے بڑے امتحانوں میں شان دار کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور پھر اس کے صلے میں آخرت کی ابدی بادشاہی کی فیروز مندیاں پاتے ہیں۔ برعکس اس کے جن لوگوں کی روش دین کے معاملے میں فرار پسندانہ رہتی ہے وہ آہستہ آہستہ خدا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کی کامیابیوں کی راہ ان کے لیے بالکل ہی بند ہوجاتی ہے ، (ایضاً)۔

خود بتائیے یہ کسی محسن کی جزا کا بیان ہے یا پھر کسی کی لغزش پر تبصرہ ہورہا ہے۔ باقی آپ اطمینان رکھیے، اصلاحی بھی سیدنا ابراہیم کے پیرو ہیں۔ ابراہیم کے ہر پیروکو حق پر چلنے کی وہ قیمت دینا پڑے گی جو حضرت ابراہیم نے دی۔ نمرود سے لے کر کانٹ تک اور سرکار دوعالم پر دشنام طرازی کرنے والوں سے لے کر آج کے فرقہ پرستوں تک سب اپنے اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔ آل ابراہیم اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔ روزقیامت سب اپنے اپنے اماموں کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوں گے اور زبان و قلم سے نکلے ہوئے ہر لفظ کا حساب دے رہے ہوں گے۔ یہ حساب کتنا خوفناک ہو گا، لوگوں کو یہ اگر سمجھ آجائے تو بہت سے لوگ لکھنا اور بولنا چھوڑ دیں گے۔

والسلام

بندہ عاجز

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2016 سوال و جواب – نومبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Naila khan says:

    Jazak Allahu khayr
    very well explained Ma sha Allah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *