2016 مکاتیب (بچے اور دین کی خدمت)- جولائی (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

مکاتیب

ابویحییٰ

بچے اور دین کی خدمت

محترمی و مکرمی 09-06-2016

السلام علیکم و رحمت اللہ وہ برکاتہ

اللہ تعالیٰ آپ کی اس نیت پر آپ کو بہترین اجر عطا کرے کہ آپ اپنے بچوں کو دین کی خدمت اوردین کی دعوت کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اصولی بات یہ جان لیجیے کہ دین کی حقیقی خدمت وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنی مرضی اور صوابدید پر یہ کام کریں۔ آپ اگر اپنی مرضی زبردستی بچوں پر نافذ کر دیں گے تو شاید مطلوبہ مقصد بھی حاصل نہ ہو اور ان کی زندگی بھی اچھی نہ گزرے ۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ آپ انھیں ان کے ذوق کی تعلیم دلوائیں اور ساتھ میں بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ ایک اچھے مسلمان اور انسان بن جائیں۔ اس کے بعد وہ دین کی خدمت کہیں زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ دین کی خدمت کے لیے ہر شخص کا عالم بننا ضروری نہیں۔

اس دورمیں بہت اچھے اہل علم موجود ہیں۔ ان کے کام کو آگے پھیلانا زیادہ بڑی دینی خدمت ہے۔ اسلام کی جنگ تحقیق سے گزر کے ابلاغ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دین کی حقیقت اور اس کا اصل پیغام بڑے اہل علم نے اپنے تحقیقی کام سے کھول کر واضح کر دیا ہے۔ اب زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچایا جائے ۔ اس کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں بلکہ دین کے ساتھ مخلص ہونا اور اس کی خدمت کا جذبہ ہونا ضروری ہے ۔ یہ کام بغیر عالم بنے بھی ممکن ہے ۔ آپ اپنے بچوں کو اسی رخ پر ڈھالیں ۔ ان میں سے کسی کا دینی اور علمی ذوق ہو گا تو وہ عالم بن جائے گا اور پھر یہ علمی پہلو سے بھی کام کر لے گا۔ مگر اس میں چونکہ معاشی مسائل رہتے ہیں اس لیے ہر شخص کو میں اس کی تلقین نہیں کروں گا۔ یہ حوصلے کا کام ہے۔ اور حوصلے والوں ہی کو اس راہ میں اترنا چاہیے ۔

والسلام ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *