2016 مکاتیب – شہرت اور خاموشی) – جون) (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

 

مکاتیب

ابویحییٰ

شہرت اور خاموشی

عزیز بہن قرۃ العین طاہرہ

 اپریل 9 2016

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

میری کتابوں پر آپ کے فیڈ بیک کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ پر اپنا فضل و کرم فرمائیں اور دین و دنیا کی بھلائیوں سے نوازیں ۔

آپ نے جن جذبات و احسات کا اظہار فرمایا اور جو ارشادات اپنے خط میں لکھے میں دل سے ان کی قدر کرتا ہوں۔

تاہم جو کچھ میں نے اپنی کتاب آخری جنگ میں چہرے کے پردے کے اختلافی ہونے کے حوالے سے لکھا ہے اس کا ایک پس منظر ہے ۔ پس منظر یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ طبقات نے دین کی اصل تعلیم کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور دیگر چیزوں کو جو خود مسلمانوں کے اہل علم میں مسلمہ طور پر اختلافی ہیں ، ان کو عین دین بنا دیا ہے ۔ ان کو ایمان، حیا اور عفت کا معیار بنا دیا ہے ۔

اب ایسے میں میرے سامنے دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ اپنی شہرت اورمقبولیت کی خاطر میں ان سارے معاملات میں خاموش رہوں ۔ لوگوں کی پسند کی باتیں کروں ۔ داد سمیٹوں ۔ واہ واہ سنوں اور خوش رہوں ۔ میری بہن میں یہ ضرور کرتا اگرمیں صرف ایک ناول نگار ہوتا۔ اگر مجھے مرنا نہ ہوتا۔ اگر مجھے اللہ کے حضور پیش نہ ہونا ہوتا۔ مگر کیا کروں ۔ مرنا بھی ہے اور رب کے حضور جواب بھی دینا ہے ۔

اگر اس نے پوچھ لیا کہ جس وقت یہ جاہل اور انتہا پسند میرے دین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے تھے ، اس میں غلو کر رہے تھے ، تم نے اپنے فائدے کی خاطر خاموشی اختیار کی۔ جس سچ کو جانتے تھے ۔ اس کو نہیں بیان کیا۔ مجھے بتادیجیے کہ میں اللہ کو کیا جواب دوں گا۔

پھر یہ بھی دیکھیے کہ میں نے اپنی کتاب آخری جنگ میں کہیں خواتین کو یہ تلقین نہیں کی کہ وہ چہرے کا پردہ نہ کریں ۔ صرف یہ بتایا ہے کہ اس معاملے میں دو نقطہ نظر ہیں اور یہ کہا ہے کہ جس کے دلائل پر دل مطمئن ہو اس کی رائے پر عمل کر لیں ۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواتین کے چہرے کا پردہ ہے یا نہیں ایک مسلمہ اختلافی مسئلہ ہے۔ جو اس کے قائل نہیں وہ قرآن و حدیث ہی سے اس کے دلائل دیتے ہیں ۔ ہند و پاک اور سعودی عرب سے باہر پورے عالم اسلام میں آپ کو بیشترمذہبی خواتین چہرے کے پردے کے بغیر ملیں گی۔ حج کے موقع پر حالت احرام میں تو نقاب کی خود صحیح حدیث میں ممانعت ہے ۔(بخاری ، رقم1838)۔ اسلاف میں سے امام ابوحنیفہ سے لے کر معاصرین میں امام البانی جیسے مسلمہ اہل علم کے نزدیک یہ کوئی دینی مطالبہ نہیں ۔ ایسے میں کچھ لوگ اس کو فرض قرار دیں ۔ خواتین کے دین و ایمان کو اس پر موقوف قرار دیں ۔ جو اختلاف کرے اسے مغرب کا ایجنٹ اور مغربیت کے فروغ کا سبب گردانیں ، ایسے میں اس غلوفی الدین کے خلاف خاموش رہنا میرے نزدیک کتمان حق ہے ۔ اس جرم کی سزا اللہ کے نزدیک جہنم کی آگ ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

بے شک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے اور اس کے عوض حقیر قیمت قبول کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں۔ اللہ ان لوگوں سے قیامت کے دن نہ تو بات کرے گا نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی۔ کیسے جری ہیں یہ لوگ دوزخ کے معاملے میں۔ (البقرہ 2: 175-174)

میرے نزدیک اس اختلاف کو چھپانا اور اس کو ایک مسلمہ اور متفقہ دینی حکم کے طور پر پیش کرنا ایک بدترین جرم ہے ۔ اس کا ارتکاب کرنا اور اس پر خاموش رہنا دونوں وہ جرائم ہیں جن کی سزا جہنم کی آگ ہے ۔

اب یہ فرمائیے کہ میں خود کوکچھ انتہا پسندوں کی نظروں میں آپ کے الفاظ میں متنازع ہونے کو اہمیت دوں یا اس آگ کو جو انسان کی چمڑ ی ادھیڑ دے گی۔ یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑ رہا ہوں ۔

بس یہ یاد رکھیے گا کہ قیامت کے دن ہر شخص کو گواہی کے لیے بلایا جائے گا۔ خدا کے دین کو بدنام کرنے والے ان انتہا پسندوں کو بھی بلا کر پوچھا جائے گا کہ تمھاری یہ جرات کیسے ہوگئی تھی کہ تم اپنی رائے کو میرا حکم بنا کر پیش کر دو۔ اور خاموش رہنے والے کو بھی بلا کر بتادیا جائے گا کہ تم نے دنیا کی حقیر پونجی کی خاطر خاموش رہنے کا جو فیصلہ کیا تھا، آج وہ بہت مہنگا پڑے گا۔

بہرحال آپ کے حسن نیت اور اخلاص کا میں دل سے قدردان ہوں اور آپ کے علم و عمل میں برکت کے لیے دعا گو ہوں ۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2016 مکاتیب – شہرت اور خاموشی) – جون) (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Tabassum says:

    Assalamoalykum
    JazakAllah Khair my brother it is big issue in west may you have this article in English please if you have post in your site I would really appreciate it

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *