2017سلسلہ روز و شب – مئی (Abu Yahya ابویحییٰ)

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

پشاور ، لا ہور اور اسلام آباد کا سفر

(دوسری اور آخری قسط)

نئے شہر

پشاور کے احباب کے رخصت ہونے کے بعد برادرعزیز ندیم اعظم صاحب کے ساتھ میں ان کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ ان کا گھر راولپنڈی کے مضافات میں واقع بحریہ ٹاؤن میں ہے۔ بحریہ ٹاؤن پاکستان میں رئیل اسٹیٹ بزنس میں ایک منفرد تجربے کا نام ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہوں کہ شہر کے اندر آبادیاں بنانے کے بجائے شہر سے باہر نئے اور چھوٹے شہر بنانے چاہئیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس طرح کے کسی منصوبے کو قابل عمل بنانا بہت مشکل کام ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض صاحب نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ تاہم اصل میں یہ حکومتوں کے کرنے کا کام ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بہتر شکل یہ ہوتی ہے کہ انڈسٹریل ایریا کی شکل میں لوگوں کے روزگار کا بندوبست کسی دورافتادہ علاقے میں کیا جائے ۔ کاروباری طبقات کو ٹیکس پر زبردست چھوٹ دی جائے اور پھر وہاں پر ساری شہری سہولتیں اعلیٰ درجے میں فراہم کی جائیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں صنعت وحرفت میں زبردست ترقی ہوتی ہے۔ لوگوں کو روزگار ملتا ہے اورساتھ ہی سستی رہائش کا بندوبست بھی ہوجاتا ہے۔ گویا فرد اور ریاست دونوں کو زبردست فوائد ہوتے ہیں۔ سفر کے اگلے حصے میں جب میں اپنے ادارے کے بعض احباب کے ہمراہ نتھیا گلی جا رہا تھا تو ہمارے ساتھ نجم صاحب نے جو اکثر وبیشتر کاروبار کے سلسلے میں چین جاتے رہتے تھے یہ بتایا کہ چین میں اس طرح کے پہاڑوں پر حکومت نے جگہ بنا کر اسی طرح مقامی انڈسٹری کو فروغ دے کرمقامی لوگوں کو نہ صرف انھی کے علاقوں میں روزگار فراہم کیا ہے بلکہ دیہی آبادی کے شہروں کی طرف انتقال کے عمل کو بھی سست کر دیا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس طرح کی کوئی کوشش کبھی کی نہیں جاتی اور کبھی کوئی کوشش کی گئی جیسے کراچی کے قریب نوری آباد کا علاقہ تو وہاں سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ وہاں جانے کو تیار نہیں ہوتے۔ بحریہ ٹاؤن میں صنعتی علاقے تو نہیں بنائے لیکن شہر کے مضافات میں وہ رہائشی سہولیات اس طرح مہیا کر دیں کہ لوگ وہاں جا کر اعلیٰ طرز زندگی کو ضرور انجوائے کرسکتے ہیں۔

مثلاً میں جن برسوں میں بحریہ ٹاؤن میں شدید گرمی میں جاتا رہا ہو ں اس میں پورا پاکستان لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رہا لیکن یہاں پر کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔ اسی طرح دیگر پہلوؤں سے بھی یہ جگہ بہترین رہائش کے لیے ایک موزوں جگہ ہے۔

کاش ہماری حکومتیں اس طرف کچھ توجہ کریں۔ مگر یہ اسی وقت ہو گا جب ہمارے عوام حکمرانوں کو یہ باور کرادیں گے کہ وہ کسی قسم کی جذباتیت میں آنے کے بجائے عوامی سہولیات کی بنیاد پر حکمرانوں کا انتخاب کریں گے۔

گھر پہنچے تو بھابھی ہماری منتظر تھیں۔ یہ دونوں میا ں بیوی اپنی شخصی خوبیوں اور دین کی خدمت دونوں پہلوؤں سے چاند اور سورج کا ایک جوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کے علم و عمل میں برکت عطافرمائے ۔

ترقی کا وژن

میں اسلام آباد میں صرف رات بھر کے لیے رکا۔ صبح بذریعہ ڈائیوو بس سروس لاہور کے لیے روانہ ہوا جہاں ہمارے احباب نے لاہور بک فئیر میں اسٹال لگا رکھا تھا۔ بس کا سفر بے حد آرام دہ تھا۔ راستے میں ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہی۔ بس مقررہ وقت کے عین مطابق اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئی۔ بس تھوڑی سی تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ کلمہ چوک کے پاس سڑک زیر تعمیر تھی۔

لاہور میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کا کام بڑے پیمانے پر ہوا ہے اور ابھی بھی جاری ہے۔ اورنج ٹرین نام کا ایک پروجیکٹ بھی شہر میں زیر تعمیر دیکھا۔ جس موٹر وے سے میں یہاں آیا وہ خود عوامی سہولت کا ایک اہم منصوبہ تھا۔ مسلم لیگ کے مخالفین اس نوعیت کے منصوبوں پر زبردست تنقید کرتے ہیں۔ میں اس طرح کے لوگوں کے بارے میں یہی عرض کرتا ہوں کہ کچھ عرصے کے لیے ان کو صوبہ سندھ میں چھوڑ دینا چاہیے۔ انھیں معلوم ہوجائے گا اہل پنجاب بہرحال ہم اہل سندھ سے بہت بہتر ہیں۔ صوبہ سندھ کی پیپلز پارٹی ترقیاتی کاموں کے کسی جھنجھٹ میں پڑنے کی زحمت ہی نہیں کرتی کہ وہ اندرون سندھ کے ووٹوں کی بنیاد پر اطمینان سے برسہا برس سے سندھ میں بغیر کسی کام کے حکومت کر رہی ہے۔ مگر اس دفعہ مردم شماری میں اگر درست ہوئی تو لازماً شہری سندھ کی نشستیں بڑھیں گی۔ شاید اسی اندیشے سے نئے وزیر اعلیٰ نے کچھ ترقیاتی کام شروع کیے ہیں۔

مجھے یہ بتایا گیا کہ پرویز الٰہی صاحب کا دور ایجوکیشن اور صحت کے حوالے سے بہتر تھا۔ یہی ترجیحات تحریک انصاف نے صوبہ کے پی کے میں اختیار کی ہیں۔ نیز پولیس ریفارم کا کام بھی بڑے پیمانے پر کیا ہے ۔ تاہم وہاں انفراسٹرکچر پر زیادہ کام نہیں ہوا ہے ۔

ان تمام کاموں کی اپنی اہمیت ہے اور یہ ضروری ہے کہ حکومتیں عوامی فلاح کے تمام شعبوں جیسے صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر، بنیادی انتظامی ڈھانچے کی بہتری، بیوروکریسی اور عدلیہ میں بہتری کی کوشش کریں۔ تاہم جو کام اصلاً کرنے کا ہے اور بدقسمتی سے اس پر کوئی توجہ نہیں ہے وہ ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے۔

اقتصادی ترقی پر کام کیے بغیر جو ترقیاتی کام ہوں گے ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص قرض لے کر اپنے گھر کی تزئین و آرائش یا ضروریات پوری کرے۔ اس سے وقتی طور پر خوشحالی کا ایک تاثر پیدا ہو گا لیکن مجموعی طور پر ملک مسائل کے بھنور میں گھرتا چلا جائے گا۔ اس وقت ہمارے ہاں جتنے بھی ترقیاتی اخراجات ہوتے ہیں ان کا ایک بڑا حصہ سودی قرضوں کا مرہون منت ہے۔ ہمارے قرضے انتہائی خوفناک شرح سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ قرضے کم نہ ہوئے تو انفرا اسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی کام سب بے کار ہوجائیں گے۔

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے انڈسٹریل زون بنائیں۔ وہاں ہر طرح کا ترقیاتی کام ہو۔ چاہے اس کے لیے قرضے لیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں نیا انفراسٹرکچر تو اسی طرح بنے گا۔ لیکن ساتھ ساتھ روزگار کے دروازے کھلیں گے اور سب سے بڑھ کر اس ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ یوں ملک اس ممکنہ معاشی بحران سے نمٹنے کے قابل ہوجائے گا جو اندھا دھند قرضوں کی بنا پر کسی وقت بھی ملک کی جڑ یں ہلا سکتا ہے۔ پھر یہ راستہ ہمارے ایک بڑے اہم سماجی مسئلے کو بھی حل کرسکتا ہے۔ وہ یہ کہ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان نہ صرف جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں بلکہ نوجوان بچے بچیوں کی شادیاں نہیں ہوپاتیں۔ جس سے کئی طرح کے نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو نہ صرف غربت کم ہو گی بلکہ نوجوانوں کی شادی کا وہ دروازہ کھلے گا جس کے بند ہونے کی بنا پر طرح طرح کے نفسیاتی مسائل اور بدکاری وغیرہ عام ہورہی ہے۔

بدقسمتی سے اس وقت ہماری ساری امیدیں صرف اکنامک کوریڈور سے وابستہ ہیں۔ اس کی افادیت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقی معنوں میں اسی وقت مفید ہو گا جب اس کے ساتھ جگہ جگہ چھوٹے بڑے صنعتی شہر بنائیں جائیں ۔

لا ہور بک فئیر

ہماری رہائش لاہور ایکسپو سنٹر کے قریب ہی ایک آرام دہ ریسٹ ہاؤس میں تھی جس کا انتظام ادارے کے ایک رفیق سرفراز صاحب نے کرایا تھا۔ کراچی سے اس بک فئیر کے لیے سات رضاکار آئے تھے۔ الحمدللہ ان کی قربانی کے نتیجے میں ہمارا سٹال بہت کامیاب رہا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے کتابیں خریدیں۔ تاہم مجموعی طور پر کراچی کے مقابلے میں یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد کافی کم تھی۔ کراچی کے برعکس جہاں تین ہال ہوتے ہیں یہاں صرف ایک ہال میں اسٹال تھے اور ویک اینڈ پر بھی اس ہال میں رش نظر نہیں آیا۔لا ہور جیسے علم وفن کے قدردان شہر میں کتابوں کی یہ بے وقعتی دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ ایکسپو سنٹر سے ذرا پہلے ایک شاپنگ سنٹر کھلا تھا جس میں ہر وقت گاڑیوں کے ازدحام سے ٹریفک جام رہتا تھا۔ مگر کتابوں کے لیے آنے والوں کی تعداد مقابلتاً بہت کم تھی۔

روانگی سے ایک رات قبل تمام رضاکاروں کے ہمراہ ہم نے قریب ہی واقع ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا۔ اگلے دن عدیل صاحب، غازی صاحب، شفیق صاحب کو کراچی لوٹنا تھا جبکہ باقی لوگوں کو اسلام آباد جانا تھا۔

ریسٹورنٹ کی طرف جاتے ہوئے ہمارے ساتھ شفیق صاحب نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ یہاں خواتین زیوارت پہنے نظر آ رہی تھیں۔ ان کی اس بات کا پس منظر یہ تھا کہ شہر کراچی میں اتنی وارداتیں ہوتی ہیں کہ خواتین نے اب کانوں کے بندے اور چوڑی وغیرہ جیسے عمومی زیورات پہننے بھی چھوڑ دیے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر باسی نہیں جانتے کہ صوبہ سندھ اور خاص کر کراچی کے باشندے دو دہائیوں سے کس عذاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت جو حالات بہتر ہوئے ہیں اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ پہلے شہر میں جو روزانہ بیس تیس لوگ مرتے تھے، وہ نہیں مر رہے باقی سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہے۔ یہ سیاست کو لسانی عصبیت سے آلودہ کرنے اور انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے نہ بنانے کا ایک نتیجہ ہے۔

ملاقاتیں

لاہور آنے کا ایک دوسرا مقصد بعض احباب کے ہاں تعزیت کے لیے جانا اور کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کرنا تھا۔ پہلے دن سب سے پہلے برادرعزیز مبشر نذیر ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ مبشر ایک غیر معمولی صلاحیت کے مالک ہیں جنھوں نے پچھلے برسوں میں بہت زبردست علمی اور تعلیمی کام کیا۔ بدقسمتی سے تین برس قبل وہ ایک سخت حادثے کا شکار ہوئے اور دماغ پر شدید چوٹیں آئیں۔ اللہ نے ان کی جان بچائی، مگر ابھی بھی ان کی ریکوری جاری ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کو جلد از جلد مکمل شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائیں ۔

اسی رات لاہور میں موجود بعض قریبی والنٹیئرز کے ساتھ ایک ڈنر تھا۔ ڈنر پر تو ان احباب کو ہم نے بلایا تھا لیکن لاہور کی سارہ عباس صاحبہ نے اس ڈنر کا انتظام اپنے ذمے لے لیا تھا۔ وہ اپنی والدہ بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر شمیم عباس صاحبہ کے ہمراہ کھانا لے کر آئی تھیں۔ اسی نشست میں لاہور ہی سے عمران خالد صاحب اور فیصل آباد سے عابد علی صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ ان سب سے بالمشافہ یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ یہ ہماری ٹیم کے اہم ممبران ہیں اور انھیں کے تعاون سے انٹرنیٹ پر ایمان و اخلاق پر مبنی ہمارا پیغام لاکھوں لوگوں تک الحمدللہ پہنچ رہا ہے۔ اس پوری آن لائن ٹیم کی ذمہ داری عدیل صاحب کے سر ہے جو کراچی سے خاص طورپر تشریف لائے تھے ۔ ان کے علاوہ کراچی سے آنے والی پوری ٹیم بھی اس موقع پر موجود تھی۔ کھانے پر اور اس سے قبل اور بعد بھی احباب سے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور متعدد سوالات زیر بحث آئے۔ میں نے اس ملاقات میں اوراگلی صبح نئے والنٹیئرز کے ساتھ گفتگو میں بھی جس چیز کی طرف توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ ہم ایک ایسے خوش نصیب دور میں پیدا ہوئے ہیں جب جنت اور اس کے اعلیٰ درجات کا حصول ہر دور سے زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ ہمیں کسی خارجی جبر سے نہیں صرف اپنے آپ سے لڑنا ہے۔میں نے احباب کے سامنے اس حقیقت کو رکھا کہ اللہ نے ہم کو جنت کی فلاح حاصل کرنے کا کتنا زبردست موقع دیا ہے اور نصرت دین کا کام دور جدید میں کتنا سہل و آسان ہو گیا ہے۔ میں نے یہ بھی توجہ دلائی کہ ہمارا کام لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچانا ہے۔ لوگوں کو بدلنا نہیں۔ بدلنا ہمیں اپنے آپ کو ہے۔

دور جدید کی مذہبی فکر کی اصل خرابی یہی ہے کہ لوگوں کے دماغ میں دوسروں کو بدلنے کا سودا سمایا ہوا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ تو رب کی اسکیم ہی نہیں۔ وہ چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف ایک انچ چل سکے۔ مگر وہ تو یہ چاہتا ہے کہ علم و استدلال پر مبنی ایمان واخلاق کا اس کا پیغام ملے تو اس کے بندے بغیر کسی جبر کے اپنی مرضی سے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ اس کی عظمت کے سامنے ڈھیر ہوجائیں۔ جنت انھی صالحین کا بدلہ ہے۔

مگر جب لوگ یہ بات نہیں سمجھتے تو آخر کار ان کو غصہ آ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ناحق قتل و غارت گری کر کے اسلام نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی چیز اس وقت دنیا بھر میں اسلام کی بنیادی ناکامی کا سبب بن رہی ہے ۔

اگلی صبح بھی کچھ مزید احباب ملنے کے لیے تشریف لائے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ فرقہ واریت کے مختلف مظاہر نے ان کو ڈپریشن کے مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ جو دیگر احباب موجود تھے، ان میں سے نادر صاحب لاہور سے باہر گئے ہوئے تھے، مگر میرے آنے کا سن کا خاص طور پر تشریف لائے۔ نادر صاحب بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔ بقول ان کے وہ علمی و فکری آدمی نہیں بس نیکی کے کاموں کے سہولت کار ہیں۔ چنانچہ ان کی سہولت کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ خاکسار اور انذار کے سیکریٹری جنرل سلمان شہزاد صاحب ان ہی کے ساتھ جناب جواد صاحب اور نعیم بلوچ صاحب کے ہاں تعزیت کے لیے گئے جبکہ دوپہر کا کھانا بھی انھی کی میزبانی میں کھایا۔

اگلے دن آخری ملاقات دنیا نیو ز اخبار کے ایڈیٹر شاہددھلوی صاحب کے ساتھ ہوئی جو بہت تفصیلی ملاقات تھی۔ اس میں بہت سے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پھر وہ میرے ساتھ ایکسپو سنٹر بھی تشریف لے گئے اور وہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کروائیں ۔ شاہد صاحب اس طویل ملاقات میں مجھے اسی پر آمادہ کرتے رہے کہ میں اپنا مزاج بدل کر پبلک میں زیادہ آیا کروں ۔

میرا معاملہ یہ ہے کہ میں لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ میں دعوت دین کا کام نہ کرتا تو شاید دوچار لوگوں کے سوا مجھے کبھی کوئی نہ جان پاتا۔ مگر دعوت کی ذمہ داری کی بنا پر بہرحال لوگوں سے ملنا اس کام کا تقاضہ ہے۔ پبلک میں آنے کے اپنے فائدے ہیں۔ جو قارئین بک اسٹال میں ملے وہ بھی بہت عقیدت اورمحبت سے ملے۔ مگر میری خواہش یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی ذات سے جوڑنے کے بجائے ان کے رب سے جوڑ دوں۔ بولتا ہوں تو اسی لیے۔ لکھتا ہوں تو اسی لیے۔ ہم آج ہیں کل نہیں رہیں گے۔ ہمارا رب رہے گا۔ اسی کی تعریف ہونا چاہیے ۔ اسی کا تعارف ہونا چاہیے ۔

نتھیا گلی کا سفر

اسی روز شام چھ بجے ہم بذریعہ ٹرین اسلام آباد روانہ ہوئے۔ میرے ساتھ سلمان شہزاد صاحب، کامران صاحب اور سیف اللہ صاحب تھے۔ ان احباب کے ساتھ سفر کا مقصد یہ تھا کہ کچھ وقت ساتھ گزارا جائے تاکہ بالواسطہ طور پر تعلیم و تربیت کا موقع مل سکے۔

تعلیم و تربیت کا ایک طریقہ تو درس و تدریس اور اسی نوعیت کے دیگر باضابطہ پروگرام ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بالواسطہ طریقے پر کیا گیا تربیت کا کام بہت زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس کے لیے سفر میں ساتھ جانا بہت اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ سفر میں ہر طرح کے واقعات پیش آتے ہیں اور ان میں سیکھنے سکھانے کا بڑا موقع ہوتا ہے۔ تاہم میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسے اسفار اصلاً تفریحی نوعیت کے ہونے چاہئیں۔ تربیت اس میں ثانوی نوعیت کی چیز ہونا چاہیے۔ تاہم بالواسطہ طور پر اس میں تربیت ہوتی ہے۔ جیسے ٹرین کے اس سفر میں میں مختلف علمی سوالات احباب کے سامنے رکھتا رہا اور ان لوگوں سے جواب پوچھتا رہا جو کہ اکثر و بیشتر انھوں نے ٹھیک بیان کیے ۔

اس سفر کی اصل منزل نتھیا گلی تھی۔ چنانچہ لاہور سے ہم اسلام آباد پہنچے۔ یہاں انذار کے فائننس سیکریٹری نجم صاحب بھی ہم سے آملے جو لاہور سے فیصل آباد چلے گئے تھے۔ ایک رات ندیم اعظم صاحب کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے بعد ہم اگلی صبح نتھیا گلی کے لیے روانہ ہوئے۔ سلمان شہزاد صاحب کے ایک دوست زعیم صاحب کی گاڑی میں ہم روانہ ہوئے۔ راستے میں لطیف موضوعات کے ساتھ علمی و فکری گفتگو بھی ہوتی رہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان مختلف دعاؤں کا تعارف کرایا جو آپ سفر کے موقع پر پڑھا کرتے تھے ۔اور ان کی حکمت و مصلحت کو واضح کیا۔

مری تک راستہ بالکل ٹھیک تھا۔ آگے بڑھے تو ٹھنڈ تیز سے تیز تر، مناظر خوب سے خوب تر اور راستہ خراب سے خراب تک ہوتا چلا گیا۔ راستہ میں تین جگہ گاڑیوں کی طویل قطاریں تھیں۔ کیونکہ روڈ پر برف پڑی تھی جس میں راستہ بند تھا۔ گھومنے کے لیے آنے والے سارے لوگ واپس چلے گئے۔ صرف وہی لوگ اس مشکل میں آگے بڑھتے رہے جن کو ایبٹ آباد جانا تھا۔

ہم نے بھی واپس جانے کا فیصلہ کیا مگر نجم جو گاڑی چلا رہے تھے واپس جانے کے لیے تیار نہ تھے ۔ ان کے اصرار کی بنا پر ہم بھی آگے بڑھتے رہے۔ ساتھیوں نے کئی جگہ گاڑیوں کو دھکا لگا کر راستہ صاف کیا۔ خدا خدا کر کے شام کے وقت ہم نتھیا گلی پہنچے اور ایک ہوٹل میں قیام کیا۔

نتھیا گلی ہر طرف سے برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ شدید ٹھنڈ تھی۔ اس کے ساتھ چلنے والی تیز ہوا وجود کو کاٹتے ہوئے جسم سے آرپار ہورہی تھی۔ مگر مناظر اتنے ہی خوبصورت تھے۔ پہاڑوں کے دامن نے برف کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ کہیں درخت گھنے تھے توسفید برف ان کے بیچ سے جھانک رہی تھی اور کہیں برف زیادہ تھی اورسبز درخت ان سے پھوٹ رہے تھے۔ میں ہوٹل کے ٹیرس میں بیٹھا اس حسین شام میں خدا وند دوعالم کے جمال و کمال کے اس عظیم نظارے کی داد دینے پر خود کو مجبور پاتا تھا۔ جمال کا عنصر تو میں نے بیان کر دیا۔ اس کے کمال کا عنصریہ ہے کہ انسان ایک ایسی کائنات میں آباد ہے جو ہر پہلو سے زندگی کی قاتل ہے۔ اس کائنات میں یا تو لاکھوں درجہ ڈگری کا درجہ حرارت ہے یا پھر اتنا کم کہ زندگی کی ہر رمق کو موت کی نیند سلادے۔ ایسے میں صرف یہ کرہ ارض ہے جہاں ایک قابل برداشت درجہ حرارت موجود ہے۔ جہاں ہر موسم زندگی کی ایک نئی شکل کو جنم دیتا ہے ۔ اسی موسم سرما کو لے لیں ۔ اس میں پڑنے والی برف ہی وہ ذریعہ ہے جو سارا سال دریاؤں کو پانی کی فراہمی کا ذریعہ بنی رہتی ہے۔ یہ پانی اور اس سے اگنے والی فصل حیات انسانی کی ضامن ہے۔

ایک طرف خدا کا یہ حسن انتظام اور دوسری طرف ہماری یہ بے تدبیری کے اتنے خوبصورت تفریحی مقام کا راستہ کھلا رکھنے پر بھی ہم قادر نہیں ہیں۔ وگرنہ راستہ صاف ہو، معیاری رہائش ہو تو ہزاروں سیاح یہاں آئیں۔ مگر کس کی بکری اور کون ڈالے گھاس۔ نقصان عوام کا ہوتا ہے۔ حکمران طبقات کو اس کی کیا فکر۔ اس کی ایک مثال اگلی صبح سامنے آئی جب ہم اپنی گاڑی میں اوپرمناظر دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ایک جگہ گہری ڈھلوان تھی اور سڑک پر ہلکی برف آ گئی تھی وہاں ہماری گاڑی پھسل کر بے قابو ہو گئی۔ بمشکل تمام گاڑی کو روکا اور اپنی گاڑی کو دھکا دے کر فوراً پیچھے ہٹالیا۔ یہ اللہ کا بڑا کرم تھا کیونکہ دومنٹ بعد ہی وہاں سامنے سے ایک دوسری گاڑی آئی اور وہ بھی بے قابو ہوگئی۔ ہم اپنی جگہ پھنسے رہتے تو وہ ہمیں ٹکر مارکر پہاڑ سے نیچے پھینک دیتی۔

واپسی کے سفر پر روانگی سے قبل میں نے دس منٹ کا ایک رسمی لیکچر دیا۔ جس میں یہ توجہ دلائی کہ اس طرح کے حادثات سے اللہ ہی بچانے والے ہوتے ہیں ہمیشہ ان کی پناہ مانگنی چاہیے۔ دوسری بات میں نے یہ واضح کی جب ہم کسی ناگہانی کا شکار ہوتے ہیں تو یا تو ہمارا ذہن معطل ہوجاتا ہے اور ہم بالکل ساکن ہوجاتے ہیں یا بغیرسوچے سمجھے عمل شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ ہمیں رک کرپہلے سوچنا چاہیے۔ میں نے توجہ دلائی کہ ہماری گاڑی کے سلپ ہوکر پھنسنے کے بعد نجم اسپیڈ دے کر گاڑی کو اس جگہ سے ہٹانا چاہ رہے تھے اور باقی لوگ دھکا لگا رہے تھے ۔

جب میں نے دیکھا کہ اس سے کچھ نہیں ہورہا تھا میں قریب ایک جگہ سے پہاڑ سے کچھ مٹی کے ڈھیلے لایا جسے ٹائروں کے نیچے ڈالنے سے برف کی پھسلن کچھ کم ہوگئی ۔ پھرایک طرف خود اور دوسری طرف کامران کے ذریعے سے بونٹ پر دباؤ ڈال کر ٹائروں کی روڈ پر گرفت کو بڑھا دیا۔ یہ میں نے راستے میں لوگوں کو گاڑیاں برف سے نکالنے کے لیے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے نتیجے میں گاڑی اس جگہ سے فوراً ہٹ گئی۔ ورنہ ایک منٹ بعد سامنے سے آ کر وہاں پھلسنے والی گاڑی لازماً ہماری گاڑی کونشانہ بناتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ کا کرم تھا، مگر عالم اسباب میں اس کا سبب فوری سوچنے کا عمل تھا جس نے اس مشکل سے نکلنے کا ایک راستہ سجھا دیا۔

پھر مختصراً سفر کے بارے میں بتایا کہ عام حالات کے برعکس کس طرح سفر میں زندگی کے گزرنے کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ اس طرح کے سفروں کو دنیا سے گزر کر آخرت کے سفر اور وہاں کی تیاری کی ایک یاد دہانی بنانا چاہیے۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *