2017 سلسلہ روز و شب – جنوری (Abu Yahya ابویحییٰ)

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

ارتقا اور تخلیق

ایمانیات اور فلسفہ و سائنس

تقریباً ایک دہائی قبل اس خاکسار نے ایک عام فرد کے لیے دین کی لازمی تعلیم کا ایک نصاب ترتیب دیا تھا۔ یعنی وہ دینی علم جس کا جاننا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اس نصاب کو پڑھانا شروع کیا اور اس میں سے اخلاقیات کا حصہ اپنی کتاب’’ قرآن کا مطلوب انسان ‘‘ کی روشنی میں الحمدللہ پڑھا دیا۔ یہ چوبیس لیکچرز پر مشتمل ایک سیریز تھی جس کے ساتھ اضافی طور پربنیادی عربی زبان کی ابتدائی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ اب یہ دونوں کورسز میری ویب سائٹ inzaaor.org پر طالب علموں کے لیے دستیاب ہیں ۔

اب انشاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ میں اس نصاب کا دوسرا حصہ پڑھاؤں جس کا تعلق ایمانیات اور ان کے دلائل سے ہے۔ قرآن مجید پر میرے تحقیقی کام کے ذیل میں جو کہ ’’مضامین قرآن ‘‘ کے نام سے میرے رسالے میں ہر ماہ شائع ہوتا ہے، اس کے بہت سے مباحث ’’دلائل قرآن‘‘ کے عنوان سے زیر بحث آ چکے ہیں۔ ایمانیات کے دلائل پر پہلی دفعہ لکھتے وقت اور اب ان کی تدریس سے قبل میں نے فلسفہ، الحاد اور ارتقا جیسی چیزوں کا مطالعہ ساتھ ساتھ شروع کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہ خاکسار اصلاًقرآن مجید کا طالب علم ہے، اس کے مباحث ہمہ وقت ذہن میں تازہ رہتے ہیں، لیکن فلسفہ و سائنس کی چیزیں اپنی جزئیات میں چونکہ مستحضر نہیں رہتیں، اس لیے ان کو ذہن میں تازہ کر لینا ضروری ہوتا ہے۔

اس کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خود اپنے نقطہ نظر کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی موقع مل جاتا ہے۔ نیز کچھ اہم چیزیں الگ سے زیر بحث آ جاتی ہیں۔ آج اسی حوالے سے نظریہ ارتقا پر کچھ گفتگو پیش نظر ہے۔ خاص کر اس پہلو سے کہ اس کا قرآن مجید کے نظریہ تخلیق سے کیا تعلق ہے۔

نظریہ ارتقا اور وجود باری تعالیٰ

نظریہ ارتقارچارلس ڈارون (1809-1882) نے اپنی کتاب On the Origin of Species میں سن 1859 میں پیش کیا۔ اس نقطہ نظر کے مطابق زندگی سادہ ترین شکل میں شروع ہوئی اور پھر مختلف انواع ارتقائی عمل سے گزرتی ہوئی نیچرل سیلیکشن کے اصول پر جنم لیتی گئیں اور آخر کار انسان کی شکل میں اس کرہ ارض پر غالب ہو چکی ہیں۔

جس دورمیں ارتقا کا یہ نظریہ سامنے آیا، اس دور میں یورپ کے سوچنے والے لوگ مسیحی چرچ کے جبرکے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہے تھے۔ چرچ مذہب کی جس روایت کا علمبردار تھا اس میں حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ زمین کائنات کے مرکز میں واقع تھی۔ بشپ جیمس اوشر (1581-1656) کی بائبل پر تحقیق کے مطابق تخلیق کا واقعہ چھ ہزار برس قبل ہوا۔ یہی نقطہ نظر تمام مسیحی دنیا میں مقبول تھا۔

یہ ساری باتیں جو مسلمات کے نام پر پیش کی جاتی تھیں، مذہب کی ایک بالکل غلط نمائندگی تھیں۔ ان میں سے کئی باتیں مثلاً زمین کا مرکز کائنات ہونا کوپر نیکس اور گلیلیو بالکل غلط ثابت کر چکے تھے، مگر چرچ اپنی اصلاح کے لیے تیار نہ تھا۔ آخرکار جب نظریہ ارتقا پیش ہوا تو گویا یہ انسانوں کی تحریفات سے آلودہ مذہب کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوا۔ سوچنے سمجھنے والے تمام اذہان نے مذہب کو ماننے سے انکار کر دیا۔

نظریہ ارتقا اور ڈارون کے اسی کام کی اہمیت کے پیش نظر ڈارون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے خدا کو ختم کر دیا اور اسی پس منظر میں جرمنی فلسفی فرائڈرچ نے 1882 میں یہ نعرہ بلند کیاکہ خدا مرچکا ہے۔ (God is dead)

ارتقا اور تخلیق

اس کے جواب میں مسیحی اہل علم نے یہ موقف اختیار کیا کہ ارتقا کا نظریہ غلط اور بے اصل ہے اور تخلیق کا نظریہ درست ہے۔ زندگی ارتقا سے وجود میں نہیں آئی بلکہ خدا نے اسے تخلیق کیا ہے۔ چنانچہ تقریباً پچھلے ڈیڑھ سو برسوں سے ارتقا بمقابلہ تخلیق ایک معرکہ بپا ہے۔ ملحدین ارتقا کے نظریے کو خدا کے رد کی بنیاد سمجھتے ہیں، جبکہ مسیحی مفکرین ارتقا کا رد کر کے تخلیق کے نظریے کو زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ انواع کے وجود میں آنے کا معاملہ چونکہ لاکھوں برس پہلے واقع ہوا اس لیے اس بات کے حق میں براہ راست دلیل کسی گروہ کے پاس نہیں ہے کہ یہ ہوا کیسے۔ جو دلائل ہیں وہ بالواسطہ اور استنباطی ہیں اور ایسے دلائل سے اختلاف کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔ تاہم زیادہ ترلوگوں کے لیے اب مذہب کی کوئی حقیقی بنیاد باقی نہیں رہی ہے۔

پچھلے ڈیڑھ سو برسوں میں یہ فکری معرکہ مغرب ہی میں برپا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی ہمارے ہاں کتب بینی کا رجحان بہت کم ہے اور خاص کر علمی مطالعہ تو ناپید ہے۔ اسی لیے عام طور پر جدید سماجی اور سائنسی تصورات سے ہم لوگ بالکل ناواقف ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے جس میں یہ ممکن نہیں کہ نئے تصورات لوگوں تک نہ پہنچیں۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ اپنی نوعیت کی بنا پر لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور پڑھ لیں۔ چنانچہ لوگوں نے ان چیزوں کو پڑھنا شروع کیا اوراب یہ سارے تصورات ہمارے ہاں پھیل گئے ہیں۔

تخلیق اور تسویہ

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ہمارے ہاں بھی ارتقا بمقابلہ تخلیق کی ایک فکری جنگ شروع ہوگئی ہے۔ تاہم اس معاملے میں اسلام کے ایک طالب علم کے طور پر ہم ایک اصولی چیزکو واضح کرنا چاہیں گے۔ ارتقا بمقابلہ تخلیق کا تصور اصل مسیحی علم کلام کا تصور ہے۔ اسلام میں ارتقا کی کوئی نفی نہیں ہے۔ بلکہ قرآن مجید کے مطابق تخلیق کے ساتھ ایک دوسرے مرحلے کا بھی ذکر کرتا ہے جسے وہ تسویہ کہتا ہے یعنی کسی چیز کا مختلف مراحل اور شکلوں سے گزر کر بہترین مطلوبہ شکل تک پہنچے کا عمل، (الاعلیٰ 2:87)۔ اس پہلو سے اگر دیکھا جائے تو ارتقا کے تحت بیان کردہ جو چیزیں مسلمہ حقائق کی حیثیت رکھتی ہیں انھیں تسویہ کے ذیل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے بارے میں بھی قرآن میں چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش کا تصور دے کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چیزوں کو ارتقائی عمل سے گزار کر مطلوبہ شکل تک پہنچاتے ہیں۔ خیال رہے کہ قرآن کے چھ دن سے مراد صبح و شام کا سلسلہ نہیں بلکہ چھ مراحل یا زمانے ہیں۔ قرآن دن کو اس معنی میں بھی استعمال کرتا ہے۔

قرآن کا کلمہ ’’کن ‘‘

ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو کلمہ ’’کن‘‘ (یعنی ہوجا) کہہ کر پیدا کرتے ہیں اور اس کلمے کے کہتے ہی وہ چیز فوراً پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ درست تصور نہیں ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر چیز اللہ کے حکم سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن قرآن مجید میں آنے والے ’’کن فیکون‘‘ کے الفاظ کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ نے کہا ہوجا تو کوئی چیز فوراً ہو جاتی ہے۔

’’کن فیکون‘‘ کے الفاظ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی اس تخلیق کے ضمن میں بیان کرتا ہے جو کائنات میں جاری معمول کے قوانین سے ہٹ کر کی جاتی ہے۔ یعنی جب طبعی اور حیاتیاتی قوانین کے برعکس یا اس سے ہٹ کر کوئی تخلیقی عمل سرانجام پاتا ہے تو یہ اس کا بیان ہوتا ہے۔ عام تخلیق اللہ تعالیٰ کے اس وسیع تر انتظام کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عام طریقے پر کائنات کا نظام چلا رہے ہیں اور جس کو قرآن مجید تدبیر امور (رعد 2:13) سے تعبیر کرتا ہے۔

جبکہ ’’کن فیکون‘‘ کی تعبیر غیر معمولی واقعات کے لیے ہوتی ہے۔ جیسے مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ تعبیر اختیار کی ہے۔ خود زمین وآسمان کی پہلی دفعہ تخلیق کے ضمن میں بھی اس کو بیان کیا گیا ہے کہ ظاہر ہے اس وقت نہ عام طبعی قوانین موجود تھے نہ ان کے مطابق کچھ ہو سکتا تھا۔ اس خصوصی تخلیق میں ایک چیز اور قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے جس کا ذکر ہم آگے کریں گے۔ سردست اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ قرآن مجید میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے ہر چیز پیدا کی اور اس کا تسویہ کیا، مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کا طریقہ کار یا میکنزم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ تخلیق انسانوں کے سامنے ہوتی ہے، اس کا میکنزم وہ پہلے ہی جانتے ہیں۔ کسی چیز کے بارے میں سائنس کچھ اوربتا دیتی ہے تو یہ چیز اسلام کے تصور تخلیق کے خلاف نہیں ۔ قرآن صرف یہ بتاتا ہے کہ ہر چیز اللہ نے پیدا کی، ایک ارتقائی عمل سے پیدا کی اور بعض اوقات وہ عمومی قانون سے ہٹ کر بھی اپنی قدرت سے کچھ چیزیں پیدا کر دیتے ہیں۔

ارتقا اور خدا

اس پہلو سے اسلام کی ارتقا سے کوئی جنگ نہیں۔ بلکہ اگر ارتقا علم کے مسلمات پر ایک درست نقطہ نظر ثابت ہوبھی جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ اسے خدا کے طریقہ تخلیق کا ایک حصہ سمجھا جائے گا۔ یہ نہ خدا کے تصور کو رد کر سکتا ہے نہ خدا کے بدل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ زمین و آسمان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ اگر آج سائنس یہ بتاتی ہے کہ زمین کس طرح وجود میں آئی تو اس سے وجود باری تعالیٰ کی نفی کیسے ہوجاتی ہے؟ اسی طرح سائنس اگر اس دھرتی پر حیات کے وجود میں آنے کا کوئی میکنزم، نظریہ ارتقا کے عنوان سے بیان کرتی ہے تو اس نظریے سے خدا کے وجود کی نفی کیسے ہوجاتی ہے؟ کم از کم اس خدا کی نفی تو نہیں ہوتی جس کا تصور قرآن مجید عطا کرتا ہے۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ سائنس نے تسویے کے اس عمل کی تفصیل بیان کر دی جسے قرآن مجید نے کسی چیز کی پہلی تخلیق کے بعد کا عمل قرار دیا تھا۔ بلکہ ایک دوسرے پہلو سے تو نظریہ ارتقا خدا کے وجود کو ہی کو ثابت کرتا ہے۔

ہم نے اس حوالے سے ایک مضمون ’’ارتقا اور خارجی رہنمائی‘‘ لکھا تھا جو اب ہماری کتاب ’’ملاقات‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اس دنیا میں جتنا کچھ بھی ارتقا ثابت ہے، وہ چونکہ اپنی توجیہہ کے لیے ہر جگہ خارجی رہنمائی کا محتاج ہے، اس لیے وہ اصلاً خدا کے وجود کو ثابت کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ارتقا کو فطرت کی اندھی طاقتوں کے حوالے سے سمجھا جائے گا تو بنیادی سوال تشنہ رہ جائے گا لامحدود کائناتی عوامل جو زندگی کے لیے موت کی حیثیت رکھتے ہیں، کیوں اس کرہ ارض پر آ کر زندگی کو وجود میں بھی لاتے ہیں اور برقرار بھی رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہاں قدم قدم پر خارجی مداخلت یا رہنمائی ہے جو زندگی کو وجود میں لاتی ہے اور اسے برقرار بھی رکھتی ہے۔ تاہم خدا کو نہ ماننے والے اسے فطرت یا نیچر کا نام دے دیتے ہیں۔ اور اس عمل کو نیچرل سیلیکشن کہہ دیتے ہیں۔ مگر یہ ایک مکمل طور پر لایعنی بات ہے۔

خدا کے مقابلے میں ایک نئی دیوی

قدیم دور میں لوگ مختلف بتوں کی پرستش کرتے تھے اور کائنات میں کارفرما مختلف عوامل جیسے بارش، پیداوار وغیرہ کو بتوں کی کارفرمائی قرار دیتے تھے۔ اس دور میں لوگوں نے مدرنیچر (Mother Nature) کے نام سے ایک دیوی کو تخلیق کیا ہے۔ وہ سارے کام جو زمانہ قدیم میں مشرکین اپنے بتوں سے لیا کرتے تھے، آج کے ملحدین وہی سارے کام اس دیوی یعنی مدر نیچر سے لیتے ہیں۔ چنانچہ ارتقا کے بیان میں جہاں کہیں کوئی ایسا موڑ سامنے آتا ہے جس کی کوئی توجیہہ نہیں کی جا سکتی، یہ لوگ اسے نیچر کے کھاتے میں ڈال کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ اس پر ہمارا سوال یہی ہے کہ مدر نیچر جوایک اندھی بہری طاقت ہے کس طرح زندگی جیسی پیچیدہ اور انسان جیسی بامعنی تخلیق کو وجود میں لا سکتی ہے۔

اس کے جواب میں ایک لایعنی گفتگو شروع ہوجاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر یا حادثاتی طور پر ہوا ہے۔ اس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پھر ڈکشنری میں اتفاق اور حادثہ کی تعریف بدل دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرہ ارض پر موجود زندگی بہت زیادہ پیچیدہ ہے اور اس کرہ ارض کی عمر اتنی کم ہے کہ خالص بخت و اتفاق کی بنیادوں پر اتنی پیچیدہ زندگی کو وجود میں لانے کے لیے کھربوں برس پرانی زمین بھی ناکافی ہے۔ اس لیے یہاں اگر ارتقا ہے تو اس کے ساتھ ہر قدم پر خدا کی رہنمائی موجود ہے۔ جس کی بنا پر یہ ارتقا وہ میکنزم بن جاتا ہے جو آخر کار ایک بامعنی زندگی اور زندگی کو برقرار رکھنے والے نظام کو جنم دیتا ہے۔

انسان کی ابتدائی تخلیق

تاہم اس میں بھی یہ بات واضح رہنا چاہیے کہ تخلیق کے کسی میکنزم کی تخلیق کے بعد بھی اللہ تعالیٰ مجبور نہیں ہوگئے ہیں کہ اس سے ہٹ کر وہ کچھ اور نہ پیدا کرسکیں۔ موجودہ تخلیقی میکنزم چاہے وہ عالم جمادات میں ہو یا عالم حیات میں ان کے کلمہ ’’کن ‘‘ ہی سے پیدا ہوا ہے۔’’کلمہ کن‘‘ اصل میں ان کی قدرت کا استعارہ ہے۔ اسے جب چاہے وہ استعمال کر کے سارے قانون کو بالائے طاق رکھ کر جب چاہیں جو چاہیں پیدا کر دیں ۔کچھ چیزوں کا تذکرہ اس ضمن میں ہم پیچھے کر چکے ہیں اور انھی خصوصی تخلیقات میں سے ایک خود حضرت انسان کی ابتدائی تخلیق ہے جو قرآن مجید کی وضاحت کے مطابق اللہ کے کلمہ کن سے ہوئی(ال عمران 59:3)۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا آغاز اللہ تعالیٰ نے براہ راست مٹی سے کیا ۔ ظاہر ہے کہ اس کی براہ راست تردید یا تصدیق کا کوئی ذریعہ انسانیت کے پاس نہیں ہے ۔ آج کے دن تک سائنس اس بات کی براہ راست تردید نہیں کرسکی کہ ابتدائی انسان کا خمیر براہ راست مٹی سے اٹھایا گیا تھا۔اس لیے کہ یہ واقع ہزاروں یا شاید لاکھ دو لاکھ برس پہلے پیش آیا ہو گا۔

دوسری طرف ارتقا کو خدا کی تخلیق کا بدل ماننے والوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان بندروں سے بتدریج ترقی پا کر انسان بنا۔ اس کے ثبوت میں وہ مختلف انسانی ڈھانچے پیش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں بندر سے انسان تک کے بیچ کی درمیانی کڑیاں ہیں۔ مزید یہ کہ سائنس یہ کہتی ہے کہ موجودہ نسل انسانی کی تخلیق کا واقعہ بائبل کی بیان کردہ مدت یعنی چھ ہزار سال قبل سے بہت پہلے پیش آیا تھا۔ چنانچہ ان ارتقائی ڈھانچوں کی دریافت اور چھ ہزار سال سے کہیں پہلے انسان کی تخلیق کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ سائنس نے بائبل کی تردید کر دی ہے۔

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں اعتراضات قرآن کریم پر وارد نہیں ہوتے۔ قرآن نے بائبل کی طرح انسانی پیدائش کی چھ ہزار برس کی کوئی تاریخ براہ راست یا بالواسطہ نہیں دی۔ ہاں قرآن مجید مٹی سے انسان کی تخلیق کو تخلیق کا پہلا اور ابتدائی مرحلہ قرار دیتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو موجودہ سائنس علم کے بیان سے مختلف ہے، مگر جیسا کہ اوپر بیان ہوا سائنس قرآن کے اس بیان کی تردید نہیں کرسکتی۔ مگر اس کے بعد جس دوسرے مرحلے کو وہ بیان کرتا ہے سائنس خود کو اس سے زیادہ دور محسوس نہیں کرتی۔ ہم جیسا کہ آگے واضح کریں گے کہ ان ڈھانچوں کی توجیہہ تسویہ کے اس دوسرے مرحلے سے کی جا سکتی ہے جو قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *