2017 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

دورہ آسٹریلیا: کچھ تاثرات

المورد آسٹریلیا کی دعوت پر 28 ستمبر2016 تا 14 اکتوبر 2016 آسٹریلیا کا سفر ہوا۔ اس دورے میں آسٹریلیا کے پانچ بڑے اور اہم شہروں یعنی ملبورن، سڈنی، برسبین، کینبرا اور ایڈیلیڈ میں میں خطبات دینے کے علاوہ پرتھ میں یونیورسٹی اور ویسٹرن آسٹریلیا کے سنٹر آف اسلامک اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی کی ایک کانفرس میں مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ قارئین اس سفر کی تفصیلی روداد تو میرے سفرنامے ’’سیر ناتمام‘‘ میں ہلکے پھلکے انداز اورکچھ تذکیری نکات کے ساتھ پڑھ سکیں گے، لیکن کچھ علمی اور فکری نکات ایسے ہیں جو اس سفر میں فکر و خیال کا حصہ بنے رہے۔ تاہم شاید ایک سفرنامے کی صنف کے لیے وہ موزوں نہ ہوں۔ ان میں سے بعض اہم نکات اس مضمون میں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں ۔

المورد آسٹریلیا کی ٹیم

اس سفر کا اصل محرک المورد آسٹریلیا کے روح رواں جناب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سڈنی کے قیام میں میرے میزبان ہونے کے علاوہ المورد آسٹریلیا کے بانی، منتظم اعلیٰ، مدرس و معلم سب کچھ ہی تھے۔ ذاتی طور پر وہ ایک انجینیئر تھے اور آسٹریلیا آ کر انھوں نے ماسٹرز اور پھر پی ایچ ڈی کر رکھا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر سے قطع نظر وہ ایک فکری اور دینی ذوق رکھنے والی شخصیت اور زبردست دعوتی اور تنظیمی صلاحیت کے مالک تھے۔انھوں نے نہ صرف سڈنی میں اپنے اردگرد ایک مضبوط ٹیم قائم کر رکھی ہے بلکہ آسٹریلیا کے ہر اہم شہر میں المورد کے ایسے وابستگان کا حلقہ بنا دیا جنھوں نے ہر شہرمیں بہترین پروگرام آرگنائز کیے۔ ان میں ملبورن کے عبد الشکور صاحب، ایڈیلیڈ کے عامرشیخ صاحب، کینبرا میں تنویر خان صاحب، پرتھ میں کاشف صاحب کے نام نمایاں ہیں۔ برسبین میں میرے جانے پر پہلی دفعہ حلقہ قائم ہوا جس میں ارم احتشام صاحبہ، اسماء صاحبہ، مدثر صاحب اور عمار صاحب کا نام نمایاں ہے۔ جبکہ سڈنی میں ذوالفقار صاحب کی ٹیم میں فرخ صاحب، کامران مرزا صاحب، عابد صاحب، سلیمان صاحب، خالد ادریس ، بلال صاحب، عبد الوحید صاحب ، بلال صاحب کے علاوہ متعدد کئی اور لوگ شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے ہر جگہ اپنی محبت ، تعاون اور خلوص سے کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا اوراس خاکسار کو یہ موقع دیا کہ اپنے رب کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

فکر فراہی کا عالمی دور

آسٹریلیا میں گزارے گئے وقت سے یہ اندازہ ہوا کہ فکرفراہی اب عالمگیر دور میں داخل ہو چکی ہے۔ المورد آسٹریلیا، جاوید صاحب کے قائم کردہ علمی اور فکری ادارے المورد کا اولین عالمی پڑاؤ تھا۔ جب جاوید صاحب ملائشیا منتقل ہوگئے تو ڈاکٹرذوالفقار صاحب نے ان سے رابطہ کر کے ان کو دو دفعہ آسٹریلیا بلایا۔ جاوید صاحب نے کئی اہم فکری لیکچر یہیں آسٹریلیا ہی میں دیے ہیں۔ اب تو آسٹریلیا کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، انڈیا اور دیگرممالک میں المورد کے حلقے قائم ہیں، لیکن جاوید صاحب کی فکر کو دنیا بھر میں پھیلانے میں ذوالفقار صاحب ہی کو اولیت حاصل ہے۔ جاوید صاحب کا ملک چھوڑ کر چلا جانا اہل پاکستان کے لیے توایک بڑی محرومی بن گئی لیکن اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں ان کی بات پھیل گئی۔ میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت ہوتی ہے۔ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کون سا معاملہ کہاں ہونا چاہیے۔

اس سفر میں بیشتر وقت ڈاکٹر ذوالفقار کے ساتھ گزرا اور ان سے بہت سے اہم علمی اور فکری موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ خاص کر ان کا فکری اور ارتقائی سفر بہت تفصیل سے زیر بحث آیا۔ یہ طویل سفر انھوں نے کئی اقساط میں مجھے سنایا۔ ان کے فکری سفر کا آغاز وہی تھا جو جاوید صاحب سے وابستہ کئی اور اہم لوگوں کا ہے یعنی ڈاکٹر اسرار صاحب۔ ڈاکٹرذوالفقار صاحب ابتداء میں ڈاکٹر اسرار کے ساتھ فکری طور پر اورکسی حد تک عملی طور پر بھی وابستہ تھے۔تاہم آہستہ آہستہ وہ جاوید صاحب کے خیالات سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ یہ فکری سفر محض ایک شخص کا فکری سفر نہیں بلکہ اس امت کے فکری سفر کی بھی اہم داستان ہے، اس لیے کے پس منظر کو قارئین کے سامنے رکھنا یقینا ان کی دلچسپی کا باعث ہو گا۔

غیر مسلموں کا غلبہ اورمسلمانوں کا فکری جواب

ڈاکٹر اسرار مرحوم احیائے اسلام کی اس فکر کے آخری بڑے آدمی تھے جو اسلامی دنیا پر مغرب کے غلبے کے بعد مسلمانوں کی فکری قیادت کی طرف سے پیش کی گئی۔ آج کا مسلمان اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ انیسویں صدی کے ایک باشعور مسلمان پر اس وقت کیا گزری ہو گی جب اس نے یورپین اقوام کو اپنے ملکوں اور علاقوں پر قابض ہوتے دیکھا ہو گا۔ آج دنیا کے جس اقتدارپر امریکہ دو عشروں سے قابض ہے، روس نصف صدی تک رہا اور برطانیہ ایک صدی کی مدت میں فارغ ہو گیا، مسلمان اس حیثیت میں یعنی دنیا کی سول سپرپاور کے طور پر دو چار نہیں بارہ صدیوں تک فائز رہے۔ ان کی قیادت بدلتی رہی۔ عربوں کی شکل میں پہلے خلافت راشدہ، پھر بنوامیہ اور پھر بنوعباس اور عجمیوں کی شکل میں عثمانی ترک، پھر اِدھر مغل اور صفوی مگر اصل اقتدار مسلمانوں کا تھا۔مسلمان پوری متمدن دنیا کے وسط میں چھائے ہوئے تھے۔

مگر پھر یاجوج ماجوج کا بندھ ٹوٹتا ہے۔ ابن خلدون جیسا مفکر جن لوگوں کو بالکل بے وقعت سمجھتا تھا وہ اپنے ملکوں سے اٹھے اور دنیا بھر پر چھا گئے۔ چنانچہ اس کا ردعمل مسلمانوں پر بہت شدید ہوا۔ مگر شدت جذبات میں وہ یہ تجزیہ نہیں کرسکے کہ مسلمانوں کی یہ شکست دراصل فوجی میدان کی شکست نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی اور فکری انقلاب کا نتیجہ ہے جو کئی صدیوں کے عمل سے یورپ میں برپا ہوا۔ پہلے پہل مسلمانوں نے پے در پے فوجی مہموں کے ذریعے سے اہل یورپ کو شکست دینا چاہی۔ 1757 کی پلاسی، 1799 میسور، 1831 بالاکوٹ اور1857 دہلی کی شکستیں اسی جدوجہد کی یادگار ہیں۔ سراج الدولہ، حیدر علی، ٹیپو سلطان، جرنل بخت خان، سید احمد شہید جیسے حکمران، جرنل اور مصلحین کی معرکہ آرائی اس مغربی یلغار کو نہ روک سکی۔ یہ معاملہ صرف ہندوستان ہی کا نہ تھا، پوراعالم اسلام اس جدوجہد میں شریک تھا۔ لیبیا میں سنیوسی تحریک اور عمرمختار، سوڈان میں مہدی سوڈانی، اور قفقاز میں امام شامل نے فرانس، اٹلی، اور روس اور دیگر یورپی اقوام کے تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ مگر ہر طرف ایک ہی انجام ہوا۔

اس مکمل شکست کے بعد مسلمانوں نے فکری جدوجہد شروع کی۔ مگر اس فکری جدوجہد میں بھی اصل وجوہات پر بہت کم نظر گئی۔ زیادہ تر جذباتی باتیں اور غیر حقیقی چیزیں ہی پیش نظر رہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کے بعض غدار ان شکستوں کے ذمہ دار ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم ہو چکا ہے اس لیے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ کبھی یہ کہا گیا کہ جب تک عالم اسلام کے تمام مسلمان ایک نہیں ہوجاتے ہیں ان کو فتح نہیں مل سکتی۔ مگرنہ یہ مسلمانوں کی شکست کے حقیقی اسباب تھے نہ ان باتوں سے مسلمانوں کو آزادی مل سکتی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کرم کا فیصلہ کیا اور یورپی اقوام دو عظیم جنگوں میں آپس میں ٹکرا کر اتنا کمزور ہوگئیں کہ بیرون ملک اپنا تسلط قائم رکھنا ممکن نہ رہا۔

بہرحال اس پورے پس منظر میں بیسویں صدی کے آغاز میں ابو الکلام آزاد نے حکومت الٰہیہ کا تصور پیش کیا۔ اس تصور کو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لیا اور دین کی ایک پوری تعبیر میں بدل دیا۔ اس تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد کرنا جہاں اللہ کے فرامین کو اصل حکم مانا جائے، وہ اصل دینی فریضہ ہے جو مسلمانوں پر عائد ہے۔

اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ملک پر غیر مسلموں کا غلبہ ہو اور یہ ہوجائے۔ چنانچہ اس کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ ہر جگہ مسلمانوں کا ہی اقتدار قائم ہو۔ چنانچہ اس اقتدار کی جدوجہد مسلمان کی زندگی کا نصب العین قرار پائی۔ جو بات مولانا کے فکر میں با الوسطہ نکل رہی تھی، وہ مصر میں حسن البنا اور سید قطب نے براہ راست کہہ دی۔ مسلمانوں کا غلبہ اور مغرب سے نجات یہی کرنے کا اصل کام ہے۔ چنانچہ دو صدی پہلے جو جنگ مغرب کے خلاف سیاسی جنگ کے طور پر شروع ہوئی وہ بیسوی صدی تک آتے آتے ایک مذہبی فریضہ بن گئی اور اس فریضے کی ادائیگی پر ہر مسلمان کا دین منحصر قرار پایا۔

اس خاکسار کے پیش نظر اس فکرکا کوئی تنقیدی جائزہ لینا نہیں ہے، اصل مقصد اس فکرکی تاریخ کا مختصر تعارف کرا کے یہ بتانا تھا کہ ہمارے ممدوح ڈاکٹر اسرار احمد اسی فکر کے آخری بڑے آدمی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اب جماعتیں رہ گئیں ہیں یا تنظیمیں، پورے عالم اسلام میں اس فکر کا کوئی بڑا آدمی اب موجود نہیں ہے۔

تعبیر کی غلطی

ڈاکٹر اسرار صاحب بیسویں صدی میں سیاسی بنیادوں پر احیائے اسلام کی فکر کے آخری بڑے آدمی تھی۔ تاہم ان کے بعد اس فکر میں کوئی بڑا آدمی نہیں پیدا ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس فکر کے اصل بانی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسی بڑی شخصیت کی فکر پر عین ان کے عروج کے دور میں انھی کی جماعت سے متعلق ایک نوجوان نے ایک زبردست تنقید کر دی تھی۔ میرا اشارہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی طرف ہے جنھوں نے سن ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں ’’تعبیر کی غلطی‘‘ نامی کتاب لکھ کر دین کی اس سیاسی تعبیر پر زبردست تنقید کی تھی اور مستند حوالوں سے یہ بتایا تھا کہ ہمارے اسلاف دین کو اس طرح نہیں سمجھتے تھے جس طرح مولانا مودودی نے سمجھا ہے۔

انھوں نے اسلاف کے حوالوں کی روشنی ہی میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ خالص علمی اور عقلی بنیادوں پر یہ بالکل واضح کر دیا تھا کہ دین کی جس سیاسی تعبیر کو قرآن مجید کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، قرآن مجید ہرگز یہ بات نہیں کہہ رہا۔

اس کتاب کی موجودگی میں اب یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی معقول آدمی اب اس فکر کو اختیار کرسکے ۔ اب صرف وہی لو گ اس نقطہ نظر کے ساتھ آتے ہیں جو اصل جذباتی انداز سے سوچتے ہیں۔ چنانچہ مغربی استعمارکا ظلم، یہود و ہنود کی سازشیں، فلسطین و کشمیر کا مسئلہ جیسی چیزوں کے تناظر میں جو لوگ دنیا کو دیکھتے ہیں وہ آج بھی یہی انداز فکر رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو خالصتاً علمی انداز میں قرآن مجید کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو تھوڑی ہی دیر میں یہ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ قران مجید کا نقطہ نظر ہرگز یہ نہیں کہ ہر فرد پر یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔

تاہم مولانا مودودی نے چونکہ پاکستان میں ایک جمہوری راستہ اختیار کر لیا تھا اس لیے ان پر اور ان کی جماعت اسلامی پر عملی اعتبار سے کوئی تنقید نہیں ہو سکتی۔ یہ ان کا حق ہے کہ اپنا نقطہ نظرلوگوں کے سامنے پیش کریں اور اگر لوگ ان کا انتخاب کر لیں تو پھر وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق اقتدار میں آ کر حکومت کریں۔ تاہم ڈاکٹر اسرار کا معاملہ جدا تھا۔ انھوں نے چونکہ انقلابی راستہ اختیار کر لیا جس میں آخر کار اقتدار پر زبردستی ہی قبضہ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے سیرت النبی کی روشنی میں اپنا ایک پورا منہاج بھی بیان کیا۔

یہی وہ نقطہ نظر ہے جس پر جاوید صاحب نے بہت تنقید کی اور اول دن سے کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی جاوید صاحب کی شخصیت اور کام کو ہدف بنایا۔۔ ذوالفقار صاحب، اس خاکسار اور دیگر بہت سے لوگوں کا فکری سفر اسی زمانے میں شروع ہوا تھا اور نوے کی دہائی کے آغاز پر اس معرکہ آرائی کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔

اس وقت عملی صورتحال یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کو نصف صدی اور جاوید صاحب کو ربع صدی ہو چکی ہے، مگر اس تنقید کے باوجود عوام الناس میں سیاسی تعبیر کی فکر ہی مقبول ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ عرض کیا کہ معروضی سیاسی حالات، مسلمانوں کا تاریخ پس منظر، مغربی غلبہ جیسی چیزیں ہیں نہ کہ کوئی فکری قوت۔ اسی لیے اس فکر میں اب کوئی بڑا آدمی موجود نہیں رہا۔ یہی کسی فکر کے زوال کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ پھر موجودہ دور میں اس فکر کے حاملین دہشت گردی کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تائید کر کے اخلاق کے ہر پیمانے پر اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ صحیح بات پر توجہ دلانے والوں کے خلاف جو بے ہودہ اور جھوٹی مہمیں چلائی گئی ہیں، اس کے بعد ممکن ہی نہیں کہ کسی کو خدا کی رحمت سے کوئی حصہ مل سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ امت کی فکری امامت بدل جائے۔ امت پھر بھی نہیں مانے گی تو اس کے ساتھ وہی ہو گا جو پہلے تاتاریوں کے ہاتھ ہو چکا ہے۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to 2017 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Hafsa Khurshid says:

    very nice article masha Allah . Is it possible to get a copy of your presentation or speech? It is published and available online?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *