2017 سلسلہ روز و شب – مارچ (Abu Yahyaابویحییٰ)

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

مشکلات ترقی کا ذریعہ

قوموں کے عروج و زوال کا قانون

انسانی تاریخ پر جن لوگوں کی گہری نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ قومیں جب اپنی زندگی کے بام عروج پر پہنچتی ہیں تو ان میں خوشحالی اور رفاہیت عام ہوجاتی ہے۔ مال و زر کی کثرت ہوتی ہے۔ سامان عیش و عشرت عام دستیاب ہوتا ہے۔مسائل زندگی کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قوموں کی زندگی میں زوال کا سایہ پڑنے لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ سایہ بڑھتا ہے اور آخرکار قومیں دوسری اقوام میں ضم ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔

اس زوال کی وجہ یہ ہے کہ آسانی، خوشحالی اور مسائل جب زندگی کا مستقل حصہ بن جائیں تو یہ انسانی قوتوں اور صلاحیتوں کو زنگ لگا دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اعلیٰ اور مضبوط انسان پیدا ہونے بند ہوجاتے ہیں۔ قدرت کے قانون کے تحت کچھ عرصے بعد مشکلات دوبارہ سر اٹھاتی ہیں۔ مگر اس وقت ان کا مقابلے کرنے کی صلاحیت نہ کسی میں ہوتی ہے اور نہ اس چیلنج کا جواب دینے کوئی سامنے آتا ہے۔ یوں ہر عروج آخر کار زوال میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔

زندگی میں ملنے والی آسانیوں کا یہی معاملہ ہے جو فرد کی زندگی کو بھی اسی طرح متاثر کرتا ہے۔ بلکہ زیادہ درست الفاظ میں یہ کہنا چاہیے کہ اصل معاملہ افراد ہی کے ساتھ ہوتا ہے۔ قومی عروج کے دور میں چونکہ اکثریت مجموعی فراوانی سے مستفید ہورہی ہوتی ہے اس لیے یہ فراوانی اور خوشحالی پہلے پہل افراد کی قوت و صلاحیت کے زوال کا سبب بنتی ہے اور پھر افراد کا زوال مجموعی قومی زوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

مسائل زندگی قانون قدرت کا حصہ ہیں

اس پہلو سے آپ دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ وہ مسائل زندگی جنھیں ہم برا سمجھتے ہیں، اتنی بری چیز نہیں ہیں اور جن آسانیوں اور آسائشوں کے لیے ہم اپنی زندگی کا سارا سکون غارت کر دیتے ہیں، وہ اتنی اچھی چیز نہیں ہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے سمجھ لیاجائے تو زندگی نہ صرف بہت آسان ہوجاتی ہے بلکہ جو چیز زندگی میں اصلاً مطلوب ہے، یعنی ذہنی سکون، انسان اس کو کبھی نہیں گنواتا۔

مسائل زندگی قدرت کے اس قانون کا ناگزیر حصہ ہیں جس کے تحت اللہ تعالیٰ دنیا کا یہ نظام چلا رہے ہیں۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ انسانوں کی ضروریات کی فراہمی میں انھوں نے کوئی کمی نہیں کی ہے۔ بلکہ جو چیز جتنی زیادہ ناگزیر ہے وہ اتنی ہی فراوانی سے پائی جاتی ہے اور اس کا حصول اتنا ہی آسان ہے۔ مثال کے طور پر ہوا کے بغیرہم ایک منٹ میں مرجائیں گے۔ مگر اللہ نے ہوا اتنی زیادہ رکھی ہے کہ ہر جگہ، ہر لمحہ اور ہر کسی کے لیے بلاومعاوضہ ہوا میسر ہوتی ہے ۔

قدرت کے اس قانون کا دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ تعیشات کی چیزیں اس طرح وافر نہیں پائی جاتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر انسانی زندگی کی بقا منحصر نہیں ہوتی۔ لیکن ان چیزوں سے زندگی میں ایک جمال، لطافت اور خوبصورتی آتی ہے۔ اور ان میں انسانوں کے لیے بلا کی کشش بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ لوگ ان چیزوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ لیکن یہ چیزیں جب جمال اور لطافت کے بجائے اپنی ذات میں مقصد بن جائیں تو پھر ان کے لیے انسان اپنا ذہنی سکون غارت کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ ان کے حصول کے لیے بہرحال مشقت کرنا پڑتی ہے۔ ان کے لیے اکثر انسان اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ ان کے پانے کے بعد کے جب لوگ انھی میں مشغول ہوجاتے ہیں تو یہ رویہ فرد اور قوم دونوں کے زوال کا باعث ہوتا ہے۔ اس پر ہم پیچھے تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔

زندگی کا نمک

قدرت کے قانون کا تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ مسائل زندگی خود بقائے زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ خیال رہے کہ ان مشکلات کا اصل مقصد انسان کو تکلیف دینا نہیں ہوتا۔ بلکہ ان سے پہنچنے والی تکلیف ورزش کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ایکسزسائز بھی ایک مشقت کا کام ہے لیکن اس مشقت سے جسم انسانی فٹ رہتا ہے۔ انسان اگرجسمانی مشقت نہ کرے اور کھاتا پیتا رہے تو بتدریج کمزور ہوتا چلا جائے گا اور آخر کار کسی بڑی بیماری کا شکار ہوجائے گا۔

چنانچہ زندگی کے مسائل اور پریشانیوں کی یہی حیثیت ہے کہ وہ ہمیں ذہنی اور نفسیاتی طور پر زندہ اور فعال رکھتی ہیں۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ زندگی کی لطافتیں اور جمال بھی اسی لیے خوبصورت لگتی ہیں کہ ہم مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں ہی ہیں جو ہمیں زندگی کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتی ہیں ۔ اگر زندگی میں تلخی نہ ہو تو ہم کسی مٹھاس سے کبھی لطف اندوز نہ ہو سکیں۔ یہی وہ سارے پہلو ہیں جن کی وجہ سے ہم زندگی کی ان تلخیوں کو زندگی کے نمک کا نام دے سکتے ہیں، جس کے بغیر انسان کی غذا سے مزہ ختم ہوجاتا ہے۔

آٹے میں نمک کم ہی ہوتا ہے

یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ آٹے میں نمک کی طرح زندگی میں مسائل کا تناسب ہمیشہ بہت کم ہوتا ہے۔ ہم نے اوپر قدرت کا جو قانون بیان کیا ہے اس میں ہم نے یہ بتایا ہے کہ قدرت نے تعیشات کو ضروریات کی طرح وافر مقدار میں مہیا نہیں کیا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ مسائل کا بھی ہے کہ ذوق جمال کی تسکین کرنے والی چیزوں اور تعیشات کی طرح ایک عام انسان کی زندگی میں مسائل بھی کم کم ہی آیا کرتے ہیں۔ گرچہ بعض مستثنیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں لوگ زندگی بھر مسائل میں گھرے رہتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔ یا زندگی بھر غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ امتحان کی اس دنیا میں صبر سے کام لیں گے تو خدا کے ہاں اپنا اجر بے حساب پائیں گے۔

اسی طرح بعض دنوں میں مسائل انسان کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ مثلاً کوئی طویل بیماری یا بے روزگاری کا کچھ عرصہ انسان کو بہت تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے۔ تاہم یہ عارضی وقت ہوتا ہے جو گزر جاتا ہے۔ تاہم عام حالات میں زندگی میں مسائل کا تناسب اتنا ہی ہوتا ہے جتنا آٹے میں نمک کا۔ روزمرہ زندگی میں مسائل پیش آتے رہتے ہیں، مگر اتنے زیادہ نہیں ہوتے کہ انسان کی کمر توڑ ڈالیں۔ یا بعض اوقات زندگی کے مسائل بہت زیادہ یا مستقل ہوبھی جائیں تو مسائل کے مقابلے آسانیاں ہمیشہ زیادہ ہوتی ہیں ۔ زندگی کا گلاس جتنا خالی ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہر حال میں بھرا رہتا ہے۔ مگر منفی سوچ کا انسان صرف خالی حصے کو دیکھتا اور مثبت سوچ کا انسان بھرے ہوئے حصے پر نظر رکھتا ہے۔ یہی مسائل سے فائدہ اٹھانے کا بنیادی طریقہ ہے کہ انسان کو نہ ملے ہوئے کے بجائے ملے ہوئے پر نظر رکھنا چاہیے۔

اس کے بعد ہی انسان اس قابل ہوتا ہے کہ اس خیر کو حقیقی معنوں میں حاصل کرسکے جو اسے ان مسائل سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خیر کے اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *