2017 سوال و جواب – جولائی (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

منکر خدا کا انجام

سوال:

السلام علیکم ابو یحییٰ صاحب امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگے میں آپ کا پرانا قاری ہوں میں نے آپ کی جب زندگی شروع ہو گی، قسم اس وقت کی، قرآن کا مطلوب انسان نامی کتابیں پڑھیں ہیں اور سفر ناتمام زیرمطالعہ ہے میں نے یہ کتابیں تب پڑھی تھیں جب میں ایک عام مسلمان تھا لیکن الحاد کی سٹڈی نے مجھے دین بے زار کر دیا اور اب میرا خدا پر ایمان تقریبا نہ ہونے کے برابر تھا زیادہ سے زیادہ میں خدا کو تو مان سکتا ہوں لیکن اسلام پر یا کسی بھی مذہب پر میرا دل مطمئن نہیں ہورہا مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ کوئی بھی مذہب خدا کی طرف سے ہے مذہبی عبادات میں کوئی دلچسپی یا کشش محسوس نہیں ہوتی میں ہمیشہ اچھائی کی کوشش کرتا ہوں میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو یہ کوشش رہتی ہے مذہب یا خدا کو لے کر کوئی بدگمانی بھی نہیں رکھتا میرا آپ سے چھوٹا سا سوال ہے جو ظاہر ہے میری گفتگو سے آپ پر عیاں ہو گیا ہو گا لیکن پھر بھی عرض کر دیتا ہوں سوال یہ ہے کہ ایک شخص جو کہ خدا کے وجود پر عدم ثبوت کی بنا پر ملحد ہوجاتا ہے یا کم سے کم مذہبی خداؤں پر یقین نہ کر پاتا ہو ا س کے اندر کوئی برائی نہ ہو ہمیشہ سچائی کی تلاش میں اپنی سی کوشش کرتا رہتا ہو ایسا شخص اگر اسی کشمکش میں فوت ہوجائے اسلام کے مطابق اس کا کیا حشر ہو گا ۔

والسلام

عبدالمجید

جواب:

محترمی و مکرمی عبد المجیدصاحب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کو اپنے الحاد پرپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہم نے پہلی دفعہ الحادی لٹریچر کو پڑھا تھا تب ہم بھی ملحد ہوگئے تھے۔ مگر مطالعہ کا عمل جاری رہا تو الحمداللہ یہ بات عیاں ہوگئی الحادی لٹریچر بھی اتنا ہی سطحی ہے جتنا کسی اور قسم کا مذہبی لٹریچر۔ ہر وہ شخص جو مذہبی لٹریچر کو پڑھنے کے بعد الحادی لٹریچر کو پڑ ھتا ہے اسی تجربے سے گزرتا ہے۔ الحمدللہ مگر اس کے بعد انسان کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے تو انسان جان لیتا ہے کہ وہی بات حق ہے جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہے کہ’’ افی اللہ شک فاطر السمٰوات والارض‘‘ یعنی کیا تم اس کی ہستی کے بارے میں شک کرتے ہو جس نے آسمان و زمین کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔

اگر آپ تعصب میں مبتلا نہیں ہوئے اور پڑھتے رہے تو آخر کار قرآن کریم کے اس بیان کی سچائی کو ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔

جہاں تک آپ کے متعین سوال کا تعلق ہے کہ برائی سے بچنے والے ایک ملحد کے ساتھ روز حشر کیا ہو گا تو یہ ایک قضیہ ہے جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کا مقدمہ سننے اور اس سے جرح کے بعد کریں گے۔ جرح سے مراد اس طرح کے سوالات ہیں کہ مثلاً جس الحادی فکر کی بنیاد پر تم میرا انکار کر رہے تھے وہ ہرقدم پر بالواسطہ استدلال کر کے ان دیکھے حقائق کو مانے اور بیان کیے چلی جا رہی تھی۔ اس کے بعد تمھیں نہ ماننے کے لیے میں ہی ملا تھا جسے بن دیکھے ماننے کے حق میں اس سے کہیں زیادہ بالواسطہ دلائل موجود تھے جتنے دلائل عالم کبیر(Macro World) اور عالم صغیر(Micro World) کے حقائق کو ماننے کے لیے موجود تھے ۔

اگر خدا کو نہ ماننے والا شخص کسی طرح اللہ تعالیٰ کی جرح کا سامنا کرنے میں کامیاب ہو گیا اور یہ ثابت کر دیا کہ واقعی اسے وجود خداوندی کا کوئی ثبوت حقیقی کوشش کے بعد بھی نہیں ملا تھا تو پھر اسے معاف کر دیا جائے گا اور اس جرم کی پاداش میں جہنم میں نہیں پھینکا جائے گا۔ باقی رہی جنت تو جو آدمی خدا کو نہیں مانتا وہ جنت کو بھی نہیں مان سکتا۔ نہ وہ اس کا طلبگار ہو گا نہ اس نے اس میں داخلے کی نیت سے کوئی اچھائی کی ہو گی۔ اس لیے میری ناقص رائے یہ ہے کہ ایسے شخص پر سب سے بڑا احسان یہی کیا جائے گا کہ حشر کے دن اسے فنا کر دیا جائے۔ یہ احسان اس پہلو سے ہو گا کہ جنت کو دیکھنے کے بعد اس میں نہ جانا خود محرومی اور پچھتاوے کا ایک عذاب بن جائے گا۔ اور عدل یہ اس پہلو سے ہو گا کہ جس نے خدا کو عدم سمجھا اس کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ اسے خود عدم سے دوچار کر دیا جائے۔ تاہم یہ میری رائے ہے۔ اُس روز اصل فیصلہ رب کریم کی ذات ہی کرے گی جو علیم و حکیم ہے ، والسلام

ابو یحیٰ

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *