2017 سوال و جواب- دسمبر(Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

سوال و جواب

ابویحییٰ

اہل مغرب کی بے حیائی اور ان کی ترقی

سوال: ابویحییٰ صاحب! ترقی یافتہ ممالک میں اخلاقیات کا نام ونشان ہی نہیں پایا جاتا۔ پورنوگرافی اور عریانی میں وہی سب سے آگے ہیں ۔ پھر عروج و زوال کا جو قانون آپ بیان کرتے ہیں وہ ان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا۔ شفقت

جواب: محترم شفقت صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا سوال بہت عمدہ ہے۔ آپ کے سوال میں دراصل ہمارے ہاں غلط طور پر رائج ایک تصور پوشیدہ ہے ۔ جب تک اس تصور کی تصحیح نہیں کی جاتی ، ہم اخلاقی طور پر بہتر نہیں ہو سکتے۔ دیکھیے ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اخلاقیات کا تعلق صرف اور صرف صنفی بے راہ روی یا پاکدامنی سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکدامنی اور حیا اعلیٰ اخلاقی صفات میں سے ہیں، اورجب یہ صفات ختم ہوتی ہیں تومعاشرہ طرح طرح کے مسائل میں گھر جاتا ہے۔ مگر جن اخلاقیات پر قوموں کا عروج و زوال منحصر ہے ، وہ صنفی اخلاقیات نہیں بلکہ سماجی اخلاقیات کے دائرے کی چیز ہیں ۔

سماجی اخلاقیات کا مطلب یہ ہے کہ فرد میں امانت، صداقت، دیانت، عہد اور قول وقرارکی پاسداری کا احساس کتنا زندہ ہے ۔ لوگ لین دین، ناپ تول، عہد معاہدے یا کسی اور شکل میں جب کسی معاشرتی یا قانونی بندھن میں بندھتے ہیں تو کس درجہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں ، لوگ اپنے فرائض کو کتنی احساس ذمہ داری کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی، مساوات، عدل، احسان، کمزوروں کی رعایت جیسی اہم انسانی صفات کا کتنا ظہور ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے اخلاقی معاملات میں مغرب ہم سے بہت آگے ہے ۔ وہاں اس کا کوئی تصور نہیں کہ غذا اور دوا میں ملاوٹ کی جائے ۔ وہاں اس کا کوئی تصور نہیں کہ کوئی طاقتور صرف اپنی طاقت کی بنیاد پرقانون کے دائرے سے بچ جائے۔ وہاں کا سیاستدان کرپشن کر کے عوامی غیض و غضب اور قانون کی طاقت سے نہیں بچ سکتا۔ وہاں کا کوئی ملازم اپنی ڈیوٹی سے غائب رہ کر تنخواہ وصول نہیں کرسکتا۔ وہاں کا کوئی ڈاکٹر مریض کو غلط انجیکشن لگا کر قانون کے شکنجے سے نہیں نکل سکتا۔ غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں لوگ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں اور جو نہ کریں ان کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔

ایسا نہیں کہ اس پہلو سے وہاں کوئی کمزوری نہیں پائی جاتی، مگر مجموعی طور پر ان کا معاشرہ ہم سے بہت بہتر ہے۔ یہی وہ چیزہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں غلبہ و عروج دے رکھا ہے۔ ہاں ، صنفی معاملات میں وہاں انحطاط ہے اور اس کے نتائج وہ خاندانی نظام کی کمزوری اور اس سے پیدا ہونے والے انفرادی و اجتماعی مسائل کی شکل میں بھگت رہے ہیں ۔ مگر مجموعی طور پر وہ ہم سے بہت بہتر جگہ پر کھڑے ہیں ۔

دور جدید کا یہ بڑا سانحہ ہے کہ ہماری فکری قیادت مغرب سے یا تو مرعوب ہوکر ان کی نقال بنی ہے یا پھر ان کی اندھی مخالف۔ ان کی خوبیوں سے سیکھنے، ان کی سماجی اور سائنسی ترقی کو رول ماڈل بنانے کا کوئی داعیہ ہم میں پیدا نہیں ہوا۔ مگر ہمارے نزدیک کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ مغرب کی اندھی تقلید یا اندھی مخالفت کے بجائے ان سے سیکھا جائے اور اپنے دین کی تعلیم کواساس بنا کر فرد کی تربیت کا کام شروع کیا جائے ۔ یہی ہماری ترقی کا اصل راستہ ہے ۔

والسلام علیکم۔ ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

برمی مسلمانوں پر ظلم

سوال: ’’برما کے مسلمانوں کا المیہ‘‘ آرٹیکل میں سورۃ الانفال آیت 25 کا جو ذکر ہے اس میں عذاب کا تذکرہ کہاں ہے ؟ نیز برما کے بے گنا ہوں کا کیا جرم ہے جو وہ عذاب کی زد میں ہیں ؟

جواب: سورۃ الانفال کی آیت 25 سے پہلے کی آیات میں مسلمان کو اطاعت رسول کاحکم دیا گیا ہے کہ جس زندہ ایمان و اخلاق کی دعوت کی طرف رسول بلا رہے ہیں، اسے من و عن تسلیم کر لو اور عملی طور پر غفلت کا شکار نہ ہو ، بصورت دیگر آیت 25 میں واتقوا فتنۃ …..کے الفاظ سے متنبہ کیا کہ بچو اس فتنے سے جو خالص ظالم کو اپنی زد میں نہیں لے گا بلکہ مظلوم بھی اس میں شامل ہوں گے ، البتہ ظالموں کے لیے یہ عذاب ہی کی صورت ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ سے واضح ہے ۔ واعلموا أن اللہ شدید العقاب (اورجان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے )۔

ان آیتوں سے واضح ہے کہ ایمان والے رسول کو ماننے اور جاننے کے باوجود اپنی ذمے داریوں سے غفلت برتیں گے تو عذاب کا کوڑا ان پر برسے گا۔ یہ کوڑا خالص ظالموں تک محدود نہیں رہے گا ، بلکہ مظلوم بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا، اس سزا کا بیان لفظ فتنہ سے کیا گیا ہے جس کے معنی آزمائش ہیں ۔ لہٰذا سوال کے دوسرے جز کا جواب بھی اس میں آ جاتا ہے کہ آزمائش ان کے لیے ہے جو نیک ہیں، ایمان و اخلاق کو اپنی زندگی بنائے ہوئے ہیں لیکن اس طرح کی آفتوں سے محفوظ نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ کہ جب تمام لوگ اپنے حصے کا کام نہیں کرتے تو نیک لوگ بھی اس کی زد میں آتے ہیں ۔ اس لیے مجموعی حیثیت میں اس کو عذاب کہنا درست ہے ، البتہ قیامت کے دن بے گناہ لوگوں کے ساتھ معاملہ ابتلا (آزمائش ) کے اصول کے تحت ہی کیا جائے گا ۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ برمی (روہنگیا کے ) مسلمان خدا کی آزمائش میں مبتلا ہیں، لیکن مجموعی طور پر مسلمان خدا کے عتاب کی زد میں ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *